تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی لانی پڑے گی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ روز قبل پنجاب پولیس کے قومی، سرکاری اور پسندیدہ کھیل ”بیہیمانہ غیر انسانی تشدد“ کے باعث ایک اور عام پاکستانی شہری ”صلاح الدین“ جو مبینہ طور پر ذہنی مریض بھی تھا جان کی بازی ہار گیا۔

یہ کوئی پہلا واقعہ تو ہے نہیں کہ کسی ایک پولیس والے کو ”ذہنی مریض“ قرار دے کر افسوس کا اظہار کیا جائے اور نہ ہی ”مقبوضہ کشمیر“ میں ہوا ہے کہ ہمارا بس نہیں چلتا اس لئے صرف مذمت کرکے ہی سمجھ لیں کہ فرض پورا ہو گیا۔

یہ پنجاب پاکستان کا واقعہ ہے جہاں ایسے واقعات اکثر سننے کو ملتے ہیں اور کوئی نئی بات نہیں ہے۔پنجاب بلکہ پورے پاکستان کی پولیس کا یہ عمومی رویہ و مزاج ہے اور ملک کا بچہ بچہ اس سے اچھی طرح واقف ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ”پاکستانی“ ناکے پر پولیس کو دیکھ کر طمانیت کا نہیں بلکہ عدم تحفظ کا شکار ہو جاتے ہیں اور بڑے سے بڑے مسئلے ہا نقصان کی صورت میں بھی کوئی پولیس کے پاس نہیں جانا چاہتا یہاں تک کہ روڈ پر ہوئے ایکسیڈنٹ پر بھی کوئی کسی کی جان بچانے نہیں رکتا کہ پولیس کو ”متھا“ کون دے گا۔

سوال یہ ہے کہ کہ ایسا کب تک چلے گا اور کیسے ٹھیک ہو گا؟

یقیناً یہ سوال بہت بڑے بڑے ”ذہین دماغوں“ اور ”تھنک ٹینک“ ٹائپ لوگوں کی محافل میں بے شمار بار ڈسکس ہوا ہو گا اور اس کے بڑے مہنگے مہنگے، سائنٹفک اور ”ناقابل عمل“ حل بھی پیش ہوئے ہوں گے، شاید یہی وجہ ہے کہ عام، غیر ذہین اور غیر تھنک ٹینک ”پاکستانی“ بہتر سال گزرنے کے بعد بھی پولیس کو اس کے پسندیدہ، بیہیمانہ اور غیر انسانی کھیل کے لئے نہایت مرغوب ہے۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ پولیس کا ایسا مزاج و رویہ آخر ہے کیوں اور ٹھیک کیوں نہیں ہوتا؟

میری بطور عام، غیر ذہین اور غیر تھنک ٹینک پاکستانی شہری ”ناقص رائے“ یہ ہے کہ ہمیں اب پہلے اس سوال کا جواب ڈھونڈنا چاہیے تاکہ کوئی سستا، غیر سائنسی اور قابل عمل حل نکالا جا سکے۔

روایات اور مشاہدے سے پتہ چلتا ہے کہ عموماً پولیس افسران و اہلکاران تقریباً اپنی پوری مدت ملازمت میں سال کے بارہ مہینے اور دن کے چوبیس گھنٹے ڈیوٹی پر یعنی ایک کرخت، جذبات و احساسات سے عاری اور غیر فطری سے ماحول میں رہتے ہیں اور ان کو فیملی و سوشل لائف گزارنے کا موقع نہایت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ملتا ہے۔

”سونے پر سہاگہ“ یہ کہ نہایت معمولی چیک اینڈ بیلنس، کسی پر بھی اور خاص کر کمزور پر باہر جزوی اور تھانے میں کلی طور پر دسترس و اختیار کا احساس، نفسیاتی معائنے و کونسلنگ کا نہ ہونا وغیرہ شاید ان میں فرعونیت اور حیوانیت کے جاگنے کی وجہ بنتے ہیں۔

مجھ سمیت تمام عام پاکستانیوں کو یقین ہے کہ گورنمنٹ ان پر چیک اینڈ بیلنس پڑھانے کے لئے کام کر رہی ہو گی، لیکن شاید اب صرف یہ ہی کافی نہیں ہے۔

کسی پر بھی دسترس و اختیار کے احساس اور فرعونیت و حیوانیت کے جذبات کو پیدا ہونے سے روکنے کے لئے کم از کم سال میں ایک بار نفسیاتی معائنہ و کونسلنگ اب صرف ضروری ہی نہیں بلکہ ناگزیر ہو چکی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ سال میں کم از کم ایک ماہ کی یکمشت ”لازمی چھٹی“ بھی انتہائی ضروری و ناگزیر ہے تاکہ ان کو عام انسانوں میں فیملی و سوشل لائف گزارنے کا موقع مل سکے اور یہ خود کو ان سب سے کوئی الگ یا برتر چیز خیال نہ کریں۔

ایسا کرنا کوئی خاص مہنگا، سائنٹفک اور ناقابل عمل بھی نہیں ہے۔

اگر پوری پولیس فورس کو بارہ حصوں میں تقسیم کر کے ہر ماہ ایک حصے کو چھٹی پر بھیج دیا جائے اور اسی طرح ہر ماہ ایک حصے کا نفسیاتی معائنہ و کونسلنگ کی جائے تو باقی گیارہ حصے فورس کے ذریعے آرام سے کام چلایا جا سکتا ہے۔

اس سے نہ تو کوئی خاص رکاوٹ پیش آئے گی اور نہ ہی کوئی قابل ذکر بوجھ پڑے گا۔

جبکہ بدلے میں نتائج شاید نہایت شاندار مل سکتے ہیں کہ فورس کی کارکردگی میں نہ صرف بے پناہ اضافہ ہو گا بلکہ عوام کے تحفظ کے لئے بنائی گئی فورس واقعی ان کے لئے تحفظ و اطمینان کا باعث بنے گی نہ کہ عدم تحفظ و خوف کا۔

یہ تو ایک عام پاکستانی کی عام سی رائے ہے، اس جیسا بلکہ اس سے بہت بہتر بھی کیا جا سکتا ہے لیکن خدارا اب کریں ضرور کہ اب ”بس“ ہو گئی ہے۔تبدیلی لانی ہی پڑے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •