ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس پہ بی بی سی کی رپورٹ کا ترجمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران فاروق کے قتل کیس پہ بی بی سی کی ایک رپورٹ کاترجمہ پیش خدمت ہے جس سے تمام ملزمان کاکردار واضح ہوجائے گا۔

اس کیس میں معظم علی خان کاکردار بھی کھل کرسامنے آتاہے جو ان کی بے گناہی کاواضح ثبوت ہے۔ نمائندہ بی بی سی مسٹر اون بینیٹ جونز انتیس جنوری دوہزار چودہ کواپنی رپورٹ میں بتاتے ہیں کہ

برطانیہ حکومتی استغاثہ نے پاکستان سے ایسے دو افراد کو تلاش کرنے کا کہا ہے جن پہ ایم کیو ایم لیڈر ڈاکٹر عمران فاروق کے 2010 میں ہوئے قتل کا شبہ ہے۔

انہیں اپنے ہی گھرکے باہر ایڈوئیر لندن میں ایم کیو ایم کے مقامی ہیڈ کوارٹر کے قریب خنجر مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ بی بی سی نیوز نائٹ کو ملی کاغذی معلومات کے مطابق مطلوبہ ملزمین کے نام محسن علی سید اور محمد کاشف خان کامران ہیں۔ قوی امکان ہے کہ دونوں ملزمین اس وقت پاکستان میں زیر حراست ہیں مگر ابھی تک ان کے اوپر کوئی باقاعدہ مقدمہ درج نہیں ہوا۔

ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کی تفتیش کے سلسلے میں 4000 مختلف لوگوں کے انٹویوز کیے گئے، مگر اب تک صرف ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے جس کا نام افتخار حسین ہے اور وہ قائد ایم کیو ایم الطاف حسین کا بھانجا ہے۔

افتخار حسین کو قتل کی سازش کے شبہ پر گرفتار کیا گیا تھا مگر اب وہ پولیس کی ضمانت پہ رہا ہے۔ پارٹی کے مطابق افتخار حسین کی گرفتاری غلط معلومات پہ ہوئی تھی۔

ایم کیو ایم سینیٹر فروغ نسیم نے افتخار حسین کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ”وہ دماغی طور پہ اپنے آپے میں نہیں۔ “ اور یہ بھی کہا کہ افتخار حسین پاکستانی حکومتی اداروں کے ہاتھوں مختلف مظالم کا شکار ہوئے۔

قتل کے 14 مہینے بعد، نومبر 2011 میں میٹرو پولیٹن پولیس چیف برنرڈ ہوگن ہوو نے بتایا کہ ان کا محکمہ پاکستانی اداروں کے ساتھ ان دو مشتبہ افراد کے سلسلے میں مذاکرات کر رہا ہے جو ذرائع کے مطابق کراچی میں زیر حراست ہیں۔لیکن اس کے بعد پولیس فورس نے پاکستانی مدد طلب کرنے کے بارے میں کبھی کوئی تردیدی یا تصدیقی بیان نہیں دیا۔

پاکستانی حکومت ایسی کسی بھی گرفتاری کی خبر کی تردید کر چکی ہے، اورپاکستانی حکومتی ادارے برطانوی کراون پراسیکیوشن سروس کی درخواست پہ بھیجے گئے سوالوں کے جواب دینے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

نیوزنائٹ کو ملنے والے معلوماتی کاغذات کے مطابق جو حکومتی ذرائع سے موصول ہوئے، محسن علی سید اور محمد کاشف خان کامران نے مشرقی لندن میں لندن اکیڈمی آف مینجمنٹ سائنسز میں داخلے کے لئے برطانیہ کے ویزے حاصل کیے۔

کاغذات میں دو مزید افراد کے بھی نام ہیں، جن میں ایک کراچی کی کاروباری شخصیت معظم علی خان ہیں جن کا تعلق کامنیٹ اینٹر پرائس سے ہے۔ ان پہ الزام ہے کہ انہوں نے مشتبہ افراد کے ویزا ایپلیکیشن کے سلسلے میں تعاون کیا اور 2010 میں وہ مسلسل افتخار حسین کے ساتھ رابطے میں بھی رہے۔

رپورٹ 29 جنوری دوہزار چودہ
By Owen Bennatt jones

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •