وطن عزیز میں رہنے والے بے شمار لوگ ازخود اور بہت سے بلند فشار خون اور قلب کے مریض، ڈاکٹر کے مشورے کے بعد، اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ خبر اور اخبار سے جتنا دور رہا جائے، زندگی اتنی پر سکون گزرے گی۔ دیکھا جائے تو ایک حد تک یہ بات درست ہے اور ایسا کرنے میں کوئی حرج بھی نہیں، لیکن دوسری طرف اگر آج کل ہونے والے واقعات پر نظر ڈالیں تو ان میں سے بعض ایسے ہولناک اور دل خراش ہیں کہ نا صرف لمحوں میں زبان زد عام ہو گئے، بلکہ کوئی بھی کسی بھی وجہ سے کتنا ہی خود کو ان کے بارے خبروں سے دور رکھنا چاہتا ہو، وہ غیر متعلق نہ رہ سکا۔
ہمارے یہاں کے نام نہاد لبرل اور موم بتی مافیا نے بھی ان مواقع سے پورا پورا اور بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے، ”عورت کارڈ“ کھیلنا شروع کر دیا۔ حالاں کہ ان واقعات کے متاثرین میں عورتوں کے علاوہ کم عمر لڑکیوں اور یہاں تک کہ لڑکوں کی بھی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ پورے ملک کا ہر طبقہ اپنی اپنی سمجھ بوجھ اور ذہنی استعداد کے مطابق، بحث مباحثے میں الجھ گیا کہ در اصل ان واقعات کے اسباب ہیں کیا، اور ذمہ داران کون ہے۔ کچھ نے ہمارے معاشرے کو ”مردوں کا معاشرہ“ قرار دیتے ہوئے، ان واقعات کی وجہ ”مرد“ کا وحشی پن و حیوانیت بیان کی، اور کچھ نے ”عورت“ کو دی جانے والی مادر پدر آزادی، فحاشی و عریانیت۔
Read more