معاہدہ عمرانی ( 2 )۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1962 ء میں روسو کی کتاب ”معاہدہ عمرانی“ آئی۔ روسو کا اس کتاب کے بارے میں ذاتی خیال یہ ہے کہ یہ کتاب نامکمل ہے اور اس بات کا اعتراف اس نے ”اعترافات“ میں تفصیل سے کیا۔ لیکن اس کے باوجود سیاسی حوالے سے یہ ایک پختہ کتاب ہے جس میں روسو کے نظریات بڑی عمدگی سے پیش کیے گئے۔ اس کتاب میں روسو کے نظریوں کی اساس قانون فطرت ہے اور روسو ہمیشہ سے اس بات پر مصر رہا کہ کہ طاقت کو حق (قانون) نہیں کہا جا سکتا۔ روسو کا خیال ہے کہ کوئی بھی قوت یا طاقت اس وقت تک قابلِ تعریف نہیں ہو سکتی جب تک اسے عوام کی مرضی کے مطابق استعمال میں نہ لایا جائے۔

ارادہ اجتماعی یہی ہے کہ طاقت محض اپنی مرضی سے کوئی فیصلہ صادر نہ کرے بلکہ جمہوری رویے کا خیال رکھے۔ جس کام میں عوام کی مرضی اور اس کی بہتری شامل ہے وہی قانون اور طاقت قبول کی جا سکتی ہے۔ روسو کا کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ کسی خاص زمانے کے لوگ ایک بات طے کر کے دوسرے زمانے کے لوگوں کو اپنے ارادہ کا پابند بنا سکیں۔ لہٰذا ہر نسل گزشتہ نسل سے مکمل طور پر مختلف ہوتی ہے ’سیاسی اور عملی طور پر بھی اور نظریاتی طور پر بھی لہٰذا ایک قوم اور نسل کے نظریات کسی دوسری نسل پہ نہیں تھوپے جا سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ روسو اپنی کتاب ”ایملی“ میں بھی اس بات کا اظہار ان الفاظ میں کرتا ہے ”انسان آزاد پیدا ہوا ہے مگر جدھر دیکھو وہ پا بہ زنجیر ہے“۔

یہاں اس بات کا ذکر کرتا چلوں کہ ”ایملی“ اگرچہ بظاہر ایک تعلیمی تصنیف ہے لیکن یہ ایک فلسفیانہ کتاب زیادہ ہے۔ روسو نے اس کتاب میں اس بات پر زور دیا ہے کہ انسان فطرتاً نیک واقع ہوا ہے مگر اس میں روز بروز برائیوں کا اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ روسو کا دعوی ہے کہ اگر انسانی دل کا غور سے مطالعہ کیا جائے تو تمام انسانی کمزوریاں اور خرابیاں روشن ہو جاتی ہیں۔ روسو نے اپنی کتاب ”معاہدہ عمرانی“ میں یہ مؤقف پیش کیا کہ قوم اپنے بھلے برے کی مختار ہونی چاہیے اور یہ وہ خیال ہے جو اس سے قبل بھی کئی فلسفیوں نے پیش کیا مگر روسو کا اندازہ تفصیلی اور جامع ہے۔

اس کتاب پر سب سے اہم الزام یہ لگایا جاتا رہا ہے کہ روسو نے ایک ہی بات کو کئی دفعہ دہرایا لیکن اس سے روسو کی مراد بات کو دل نشیں اور بہترین بنانامقصود تھا۔ مؤرخین کا خیال ہے کہ فرانسیسی انقلاب کے زمانے میں روسو کی یہ تصنیف انقلابیوں کی انجیل تھی۔ ان کے لیے دنیا کے تمام سماجی اور بالخصوص سیاسی حقائق اس کے اندر موجود تھے۔ ایسے اصول و ضوابط جو ہر زمانے اور ہر ملک میں یکساں طور پر صحیح ہوں۔ ان کی نظر میں انسانیت کا بھلا اسی میں تھا کہ ”معاہدہ عمرانی“ کے اصولوں کو عملی جامہ پہنایا جائے۔

روسو کا ہمیشہ یہ خیال رہا کہ ایسا دستور ترتیب دینا ناممکنات میں سے ہے جو ہر ملک کے لیے یکساں طور پر موزوں ہو۔ روسو اپنی اس بات کے لیے درجنوں دلیلیں دیتا ہے کہ ایک اصول کسی ایک خاص ریاست کے لیے تو بہتر ہو سکتا ہے لیکن یہ بالکل بھی ممکن نہیں کہ ایک ہی اصول کسی دوسری ریاست یا ملک کے لیے بھی بہتر ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم روسو کی اس بات کی آج بھی تائید کرنے پہ مجبور ہیں کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کے لیے کسی بھی دوسرے ملک کے قوانین و ضوابط بالکل بھی بہتر نہیں ہو سکتے بلکہ بدترین ثابت ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے جب روسو کو کارسیکا کا دستور بنانے کی دعوت دی گئی تو اس نے پہلے معافی ہی چاہی اور بعد میں پولینڈ کاجو دستورروسو نے تیار کیا اس میں یہ اچھی طرح واضح کر دیا کہ غیر ملکی کبھی کسی اور ملک کے لیے مناسب قوانین وضع نہیں کر سکتے۔ یہ بات تو واضح ہے کہ قوانین سے زیادہ قومی روایات اور رسوم اہمیت رکھتی ہیں اور غیر ملکی انہیں کامل طور پر کبھی نہیں سمجھ سکتا۔ لہٰذا روسو اس بات پہ مصر رہا کہ ہر ملک اور ریاست کو حق ہونا چاہیے کہ وہ اپنے اصول اپنے عوام کی مرضی کے مطابق وضع کرے کیونکہ ہر ملک کی تہذیبی اور سیاسی تاریخ اس کے اپنے خطے کے مطابق ہوتی ہے۔ تو ایک قوم کے لوگ کسی دوسری قوم کے لوگوں کی تہذیبی اور سماجی تبدیلی کے کیسے محسوس کر سکتے ہیں۔

اگرروسو کے تمام سیاسی نظریات پیشِ نظر رکھے جائیں تو ہمیں اس کے فلسفہ سیاست کی تدریجی ترقی اور ان کی تبدیلیوں کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس کے برعکس روسو کے دیگر نظریات میں وقت کے ساتھ ساتھ اتار چڑھاؤ آتا رہا جیسا کہ روسو کا نظریہ ”انسانی عدم مساوات“ ہے۔ لیکن ”معاہدہ عمرانی“ چونکہ روسو کی آخری کتاب تھی جس میں سیاست کو اتنی تفصیل سے زیرِ بحث لایا گیا لہٰذا اس میں روسو نے اپنے جن خیالات کا اظہار کیا انہیں روسو کے تخیل کا پختہ ثمر سمجھنا چاہیے۔

اس کتاب میں ایک اور بحث بھی پیش کی گئی وہ یہ کہ روسو ہمیشہ فطرت اور تمدن کو ایک دوسرے کی ضد سمجھتا ہے یہی وجہ ہے کہ روسو کی اگر دیگر بھی تمام تصانیف پر طاہرانہ نظر ڈالی جائے تو ایک خیال کسی نہ کسی شکل میں روسو کی ہر تصنیف میں ملے گایعنی فطرت اور تمدن کا تضاد۔ یہ وہ خیال ہے جس نے روسو کی تہذیبی اور تمدنی تربیت نے بنیادی کردار ادا کیا۔ روسو انسان کو فطری طور پر آزاد سمجھتا ہے اور تمدنی طور پر انسان کو غلام سمجھتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ روسو سمجھتا ہے جب انسان آزاد پیدا ہوا تو اس نے خود کو تمدنی طور پر ترقی کے نام پر خود کو قید کیوں کر لیا ہے۔ روسو نے انسان کو پرکھنے پر زیادہ زور دیا ہے کہ کسی بھی انسان یا قوم کے بارے میں اس وقت تک ہم صحیح رائے قائم نہیں کر سکتے جب تک ہم اسے آزاد سمجھتے ہوئے اس کہ زندگی کے تمام نشیب و فراز کا بغور مطالعہ نہ کر لیں۔ روسو ہر معاملے میں ”معاہدہ عمرانی“ کا شدت سے قائل رہا کیونکہ اس کا خیال ہے کہ کوئی بھی حکومت اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک وہ انسان کو آزادی نہ دے۔

معاشرے میں سانس لینے والے ہر ذی روح کی آزادی کسی بھی حکومت کی پہلی اخلاقی شرط ہوتی ہے لہٰذا جب تک کوئی ریاست یہ شرط پوری نہ کر لے ’اسے بہترین حکومت نہیں کہا جا سکتا۔ خود روسو کے الفاظ میں ”مسئلہ یہ ہے کہ اجتماع کی کوئی ایسی شکل تلاش کی جائے جس میں قوت اجتماعی کے ذریعے ہر شریک کی جان و مال کی حفاظت ہو سکے اور جس کی بنا پر گو ہر شخص“ کل ”میں شریک ہو تاہم وہ صرف اپنی تابعداری کرے اور اس کی وہی آزادی قائم رہے جو اسے پہلے حاصل تھی“۔

اس مسئلے کا حل روسو کے خیال میں ”معاہدہ عمرانی“ پیش کرتا ہے۔ مؤرخین اس کتاب کو اردو کی چند بہترین کتابوں میں شامل کرتے ہیں کیونکہ ریاست اور عوام کے تعلق کو جس انداز میں روسو اپنی اس تصنیف میں پیش کرتا ہے اس سے قبل اس طرح جامع انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔ روسو اپنی اس تصنیف میں جہاں تمدن اور فطرت کے تضاد پر بحث کرتا ہے وہاں تعلیمی حوالے سے بھی اپنی فلسفیانہ رائے کا اظہار کرتا ہے۔ اگرچہ گزشتہ ادوار میں روسو کے ان نظریات کو اتنی اہمیت نہیں دی گئی مگر مقتدرہ قومی زبان (ادارہ فروغِ اردو) نے عظیم کتابوں کی سیریز میں اس کتاب کو بنیادی اہمیت دیتے ہوئے پہلی دفعہ اپریل 1998 ء میں اردو میں ترجمہ کروایا جوحکومتِ پاکستان کی سرپرستی میں شائع کیا۔ قارین اگلے ہفتے کے کالم (جو آخری قسط ہوگی) میں روسو کے فطرت اور تمدن کے بارے تاریخی نظریات اور تعلیم کے حوالے سے پیش کی گئی اصلاحات پر بات کروں گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •