گستاخ کی گستاخی معاف!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لیکن ایک مرتبہ میں علامہ امین شہیدی صاحب مجلس وحدت المسلمین کے جنرل سیکریٹری کے ساتھ کچھ اہم معاملات پر محو گفتگو تھا کہ ایک صاحب نے پاس آ کر ان سے اپنے ساتھ تصویر کھینچنے کی اجازت چاہی۔ علامہ صاحب نے برجستہ فرمایا : * ”حضرت تصویر لاکھ مرتبہ لیجیے لیکن میرے مرنے پر نہ استعمال کیجیئے گا! “ *

جو گفتگو جاری تھی وہ کہیں اور رہ گئی اور میری سوچ کے زاویے اس جملہ کے گرد گھومنے لگے۔ ان صاحب نے کیمرہ مین سے تصویر کھنچوائی، واجبی سلام دعا کی، اور چل دیے!

علامہ صاحب میری طرف متوجہ ہوئے اور استفسار کیا کہ جی تو کیا بات ہو رہی تھی؟ میں نے بجائے ماضی کی جاری گفتگو کا تسلسل جوڑتا، سوال داغ دیا کہ حضرت ان صاحب کو یہ آپ نے کیا اور کیوں کہا ہے؟ کیا وجہ ہے؟ علامہ صاحب مسکرا دیے اور کہنے لگے کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک روش ہمارے معاشرہ میں سرایت کرتی جا رہی ہے کہ ہم کسی کے مرنے پر اپنی اس کے ساتھ تصاویر کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں اور دنیا جہان کو دکھاتے ہیں کہ میرا دنیا سے جانے والے کے ساتھ کتنا اچھا تعلق تھا خواہ وہ ہمیں جانتا تک نہ ہو۔

اسی گفتگو کے زاویوں کو اگر مزید کھولا جائے تو ایک مرتبہ کچھ دوست تذکرہ کرنے لگے کہ مسعود بھائی آپ کی چند تصاویر فلاں صاحب کے ساتھ سوشل میڈیا پر دیکھی ہیں۔ آپ کا کتنا تعلق ہے؟ میں نے کہا کہ یہ تو آپ اس شخص سے پوچھیں! کیا وہ مجھے جانتا ہے؟ یا نہیں؟ اگر نہیں تو یہ تصویر بھی باقی کی سینکڑوں نہیں کروڑوں روزانہ سوشل میڈیا کا پیٹ بھرتی تصاویر کی طرح ہی ہیں۔ لیکن اگر وہ کہے کہ اس تصویر میں موجود شخص میرا بھائی یا دوست یا اچھا ملنے والا ہے تب تو تصویر اور تعلق کا حق ادا ہو گیا۔

اس تحریر کا عنوان گستاخی معاف اس لئے رکھا کہ میں معذرت خواہ ہوں کہ آپ کو میری بات بری لگی ہے، لیکن جب میں اپنا کلاؤڈ اکاؤنٹ اوپن کرتا ہوں تو ایک عرصہ کی یادیں آنکھوں کے سامنے آجاتی ہیں۔ وہ مخلص یادیں جن کو جاننے کا حق کسی دوسرے کو نہیں ہے۔ ہمیں کیوں دکھانا یا بتانا پڑتا ہے کہ فلاں ہمارا تعلق دار ہے جبکہ جب کبھی ہمارے گھر کوئی خوشی غمی ہوتی ہے تو اسے اس بات کی خبر تک نہیں ہوتی۔

کیوں ہم چند جھوٹ تمام عمر اپنے ساتھ قبر تک لے کر جاتے ہیں۔

میرے پیارے بھائی اور معروف لکھاری عدنان عالم کہا کرتے ہیں کہ آج ہے دور نے تصویر کی عمر کم کردی ہے۔ وہ تصویر جو کبھی سینکڑوں سالوں کی عکاس ہوتی تھی اب صرف چند لمحوں کی عمر یا چند لائیکس کی ہی بمشکل عمر پا پاتی ہے۔

آپ لکھ لیں۔ ایک دن آئے گا جب ہم تصاویر لینی چھوڑ دیں گے جیسے دنیا میں کچھ لوگ چھوڑ چکے ہیں۔ گو کہ ان کی ایک ایک تصویر کروڑوں اور اربوں روپے مالیت رکھتی ہے لیکن ان کی مجبوریاں اور معاملات یہاں تحریر نہیں کر رہا۔

صرف اتنی استدعا ہے کہ کسی کے مرنے پر اس کی تصویر اپنے ساتھ لگا کر دنیا کو دکھانے کے بجائے ہمیں چاہیے کہ اس کے لئے فاتحہ کہیں اور اس کے گناہوں کی مغفرت چاہیئیں۔ بلا شبہہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور اس نے ختم ہو جانا ہے۔ یہاں کے تعلقات بھی سراب کے سوا کچھ نہیں۔ جب آپ کی زندگی پر مشکل وقت دستک دیتا ہے تو کبھی ان لایعنی تصاویر کو اللہ کی مدد کے برابر رکھ کر دیکھیں۔ حقیقت کا اندازہ ہو جائے گا۔ انسان کو حقیقت میں زندہ رہنا چاہیے نہ کہ اس غیر حقیقی دنیا میں جہاں لائکس تو ہزاروں اور ویوز تو لاکھوں موجود ہیں لیکن میت کو کاندھے دینے والے سینکڑوں بمشکل مل پاتے ہیں۔

میرا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں۔ لیکن ہمیں اپنے رویوں اور ٹیکنالوجی کے استعمال دونوں میں شدت کے ساتھ نظر ثانی اور اصلاح کی ضرورت ہے۔ میرے چھوٹے بھائی کالم نگار وقار اسلم اسی معاملہ پر کہتے ہیں کہ یہ سچ ہے اور میں خود بھی ابتلائے دکھاوا رہا ہوں لیکن اب میچورٹی کے آنے کے ساتھ ہی سیلفیاں بنوانے جیسی اٹکھیلیوں سے باز آگیا ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •