پنجاب پولیس نئی اصلاحات کی منتظر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ روز پولیس حراست میں صلا ح الدین کی موت نے سول سوسا ئٹی کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ سوشل میڈ یا پرگردش کرنے والی صلاح الدین کی تشدد زدہ تصاویر دیکھ کر مجھ سمت ہر شخص دل گرفتہ اور رنجیدہ ہے۔ دوران تفشیش پولیس اہلکاروں کا مجرموں کے ساتھ غیر انسانی اور غیر اخلاقی رویے کے خبریں الیکڑانک اور پرنٹ میڈیا پر ہم آئے روز دیکھتے سنتے اور پڑھتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود کے جرم کی تفشیش اور تحقیق کے واضح ضابطے مقرر ہیں جن سے یقینا ہر پولیس اہلکار خوب واقف ہے۔ لیکن پھربھی اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے اخلاقی اور قانونی حدوں کو پھلانگنے کے واقعا ت رونما ہوتے ہیں۔

میرے خیا ل میں ان واقعات کے پس منظر میں ”طاقت ور“ ہونے کا احساس کار فرما ہے۔ انسان نشے میں یا طاقت کے نشے میں آپے سے باہر ہوتا ہے۔ بد قسمتی سے اکثر پولیس اہلکار مذکورہ بالا دنوں قسم کے نشے میں مبتلا پائے گئے ہیں۔ نیز یہ بھی کہا جاتا ہے جرائم پیشہ افراد رشوت اور سفارش کی بنیاد پر پولیس ملازمت حاصل کر چکے ہیں اور یہی وہ کالی بھیڑیں ہیں جن کی وجہ سے یہ محکمہ رسوائی کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے۔ یہی کالی بھیڑیں جب کسی کمزور شخص کو اپنے سامنے گڑگڑا تے دیکھتی ہیں تو ان کے حیوانیت صفت جذبات کو تسکین پہنچتی ہے۔

وہ رحم اور درگزر کے بجائے ظلم اور غضب کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان جب عمران خاں صاحب نے انتخابی جلسوں میں بارہا اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ وہ برسراقتدار آنے کے بعد سب سے پہلے محکمہ پولیس میں اصلاحات لائیں گے۔ لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ چناچہ آج بھی دل خراش اور دار ناک واقعات کا وہ سلسلہ پوری ”آب وتاب“ کے ساتھ جاری ہے جو سول سوسائٹی کو آئے دن رنجیدہ اور دل گرفتہ کیے رکھتا ہے۔

امید کی جاسکتی ہے کہ مستقبل قریب یا بعید میں پنجاب پولیس میں جو اصلا حا ت لائی جائیں گی اس کے نتیجے میں پنجاب پویس میں درجہ ذیل خوشگوار تبدیلیاں رونما ہوں گی سیاسی بھرتیوں پر مکمل پابندی ہوگی۔ تما م بھرتیاں میرٹ پر ہوں گی۔ اعلی تعلیم یافتہ افسران کو تھانے اکا انچارج مقررہ کیا جائے گا، پولیس اہلکاروں کے لیے ڈیوٹی ٹائم آٹھ گھنٹے مقررہ ہوگا۔ تنخواہوں میں مناسب اضافہ، معقول پنشن اور ہیلتھ انشورنس جیسی دیگر مراعات دی جائیں گی۔

محکمے میں جرائم پیشہ اہلکاروں کی نشان دہی کے لیے ایک نظام ترتیب دیا جائے گا۔ اہلکارں کی اخلاقی اور روحانی تربیت کے لیے کورسز کا انعقاد کیا جائے گا۔ رشورت اور سیاسی دباؤ کا ختم کرنے کے لیے مضبوط حکمت عملی اپنائی جائے گی۔ اہلکاروں کی پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی کو خفیہ نظام کے تحت مانیٹر کیا جائے گا۔ سالانہ بنیادوں پر پولیس افسران کے لیے اثاثوں کی چھان بین ہوگی۔ اقرابا پروری، نشہ تشدد، بدزبانی، بدتہذیبی ظلم اور زیادتی کرنے والے اہلکاروں کو ملازمت سے برخاست کر دیا جائے گا۔ جسمانی طور پر چست صحت منداور اچھی شہرت رکھنے والے پولیس اہلکاروں کو ترقی دی جائے گی، تھانوں کی زیبائش اور آرائش کے بجٹ مختص کیا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •