معاملہ تو اہم ہے۔ تھوڑی سی توجہ اگر ہوجائے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود لاہور کے ادیبوں اوردانشوروں سے ملاقات کرنے آئے تو سوچا معاملہ تو بڑا اہم ہے گوش گزار ہوجائے اور شاید اس پر کچھ نوٹس بھی لے لیا جائے تو ملک کے بچوں کا ہی بھلاہوجائے۔ اب بھاگم بھاگ ایوان اقبال جا پہنچے اور جب تقریب کے انعقاد کی ضرورت اور اہمیت پر مختصر سے تعارفی کلمات کے بعد حاضرین کو اظہار خیال کی دعوت دی گئی تو ہمارا ہاتھ سب سے لمبا تھا۔ آواز بھی بڑی بلند تھی۔

پاکستانی طلبا کی کثیر تعداد کا سیلف فنانسنگ پر چین کی مختلف یونیورسٹیوں میں جانے اور وہاں پروفیشنل تعلیم حاصل کرنے سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ میڈیکل اور انجنئیرنگ کی تعلیم چین میں کوئی سات ساڑھے سات لاکھ سالانہ خرچ کے ضمن میں آتی ہے۔ اِس سلسلے میں پاکستان میں حکومتی سطح پر بچوں کی مناسب رہنمائی کے لیے کوئی شعبہ کام نہیں کررہا ہے۔ بچے پاکستان کے میڈیکل اور انجنئیرنگ اداروں کے میرٹ پر نہ آنے پر چین کی انٹرنیٹ پر نظر آنے والی یونیورسٹیوں میں اپلائی کردیتے ہیں۔ داخلہ بھی مل جاتا ہے۔ ماں باپ بھی خوش ہوجاتے ہیں کہ چلو چین پڑھنے جارہے ہیں۔ یہ تو وہاں جاکر پتہ چلتا ہے کہ کچھ یونیورسٹیوں میں صرف تھیوری پر زور ہے۔ عملی کام صفر ہے۔ نتیجتاً بچے پانچ سال بعد جب ڈھیر سارا پیسہ اور وقت ضائع کرکے وطن لوٹتے ہیں پاکستان میں انہیں گھاس نہیں ڈالی جاتی۔

دوسری بات اِن بچوں کو تربیت دے کر بھیجنے کی بھی ضرورت ہے۔ یہ پاکستانی سفیر ہیں۔ چینیوں سے گھلنے ملنے، انہیں سمجھنے اور خود کو انہیں سمجھانے کی ضرورت ہے۔ اپنی چین سیاحت کے دوران جب میں مختلف یونیورسٹیوں میں گئی اور پاکستانی طلبہ سے بات چیت ہوئی تودو باتیں زیادہ واضح انداز میں میرے سامنے آئیں۔ پہلی بیشتر طلبہ چینیوں سے گُھلنے ملنے کی بجائے اپنے ہی لوگوں میں خوش رہتے ہیں۔ خیر ایسا فطری امر تو ہے مگر اسے قومی فریضہ کے طورپروہ اگر لیں تو بہت مثبت نتائج نکلیں گے۔

دوسرے تقریباً ہربچے بچی نے اِس بات کا اعتراف کھلے دل سے کیا کہ چینی طلبہ ہمیشہ ہر موقع پر ہرجگہ ہندوستانیوں پر پاکستانیوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ تو محبت کے اِن جذبوں کو گہرا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں پاکستانی سفارت خانے کو بھی ٹاسک دیا جائے کہ وہ اِس پاکستانی یوتھ کو استعمال کرے۔ چین نے کاروباری دنیا میں جس سرعت سے ترقی کی اُسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔

بیرونی ملکوں میں پاکستانی ادیبوں اور لکھاریوں کو بھیجتے وقت میرٹ کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات جس نہج پر ہیں۔ اس کی حساسیت اور گہرائی کچھ مطالبہ کرتی ہے کہ منتخب لوگوں کو بڑے منظم انداز میں تیار کرکے بھیجا جائے۔ دونوں ملکوں کا بہترین ادب چینی اور اُردو میں ترجمہ ہو۔ ہم پاکستانی روسی ادب سے بہت مانوس ہیں۔ میکسم گورکی، ٹالسٹائی، دوستووسکی، پاسترنک، پشکن، چیخوف سب ہمیں اپنے اپنے لگتے ہیں۔ گورکی کی ”ماں“ ہمیں اپنی ماں جیسی ہی لگتی ہے ایسا صرف اس لیے ممکن ہوا کہ کیمونسٹ حکومتوں نے یہ کام بہت منصوبہ بندی اور حکمت سے کیا۔

پیکنگ اور بیجنگ یونیورسٹیوں میں اردو کتابوں کے خانے خالی ہیں۔ انہیں بڑے ادیبوں کی کتابوں سے بھر دیا جائے۔ اسوقت ماشا ء اللہ سے بیجنگ یونیورسٹی کے اردو ڈپارٹمنٹ میں کوئی 47 کے قریب چینی طلبہ اردو پڑھ رہے ہیں۔

بیجنگ کی تمام یونیورسٹیوں میں اردو ڈپارٹمنٹ اور لائبریریوں میں اردو کتابوں کا ہونا یقینی بنایا جائے۔

اسلام آباد اکیڈمی آف لیٹرز پر بھی بات ہوئی۔ گذشتہ سال بھرسے چیئرمین کی سیٹ خالی ہے۔ یہ ایک ایسا اہم ادارہ ہے جو اردو ادب کے لئے نہیں بلکہ علاقائی زبانوں اور ان کے فروغ کے لئے بھی بہت موثر انداز میں کام کرتا رہا ہے۔ سچی بات ہے علاقائی ادب کی پرموشن کرنا اور اس ادب کو قومی دھارے میں شامل کرنا، گاہے گاہے پاکستان بھر سے ادیبوں کو ایک چھت کے نیچے اکٹھے کرنا ادب کے لیے ہی نہیں ملکی استحکام کے لیے حد درجہ ضروری ہے۔

اس کے سربراہ ماضی میں نامور لکھاری جن میں جناب شفیق الرحمن، احمد فراز، فخر زماں، افتخار عارف اور قاسم بگھیو جیسے لوگ رہے ہیں۔ ان نامور ادیبوں نے بطور چئیر مین کے طور پر اس کی کارکردگی کا معیار بڑھایا۔ فنڈز کی کمی کی آڑ میں جس طرح یہ ادارہ گذشتہ چند سالوں سے متاثر ہوا ہے اس نے ادیب برادری کو بہت مایوس کیا ہے۔ اداروں کو اچھے سربراہ مل جائیں تو اُن کی کایا کلپ ہوجاتی ہے۔ سچی بات ہے اب اکیڈیمی کے سربراہ بارے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا۔

چئیرمین کے لیے چند نام زیر غور ہیں۔ جب لوگ چائے کے لیے جانا شروع ہوئے اور وہ خود بھی لوگوں میں گھرسے گئے۔ ہم نے آہستگی سے کہا۔ جناب اسلام آباد میں بہت لائق فائق ادیب رہتے ہیں۔ انہیں بغور دیکھئیے۔ ایک نام جناب حمید شاہد کا ہے۔ بڑا ادیب، بڑا انسان، ہر دم متحرک اور مستعد۔ ہاں اگر بلوچستان کو خوش کرنا ہے تو آغا گل سے بہتر کوئی نہیں۔ سوال ہے کہ ہماری کِس نے سُننی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •