چندریان 2

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیا نے چاند پر چندریان 2 نامی مشن بھیجا۔ اس کا کُل خرچہ 900 کروڑ انڈین روپے آیا۔ اسے چاند کے جنوبی قطب پر اترنا تھا۔ یہاں آج تک کوئی مشن لینڈ نہیں کر سکا البتہ چاند پر امریکہ، رشیا، جاپان، یورپ اور چائنہ لینڈ کر چکے ہیں جنوبی قطب  کو چھوڑ کر۔ امریکہ واحد ملک ہے جس نے انسانوں کو چاند پر اتارا باقی ممالک مشینری بھیج سکے۔ چندریان مشن میں سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا۔ مگر لینڈنگ کے وقت اس سے رابطہ منقطع ہو گیا۔ آخری لمحات میں اس کی سپیڈ کو کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔ اور یہ چاند سے 172 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے ٹکرا کر تباہ ہو گیا۔ یہ ناکام ہو گیا۔ کوئی بات نہیں۔ انڈیا نے کوشش تو کی۔ یہ کوشش جاری رکھیے ہم آپ کی کاوشوں کی تعریف کرتے ہیں۔

اس موقع پر تضحیک آمیز ٹویٹس تہذیب یافتہ اقوام کو زیب نہیں دیتیں۔ خطے میں امن و امان انھی طریقوں سے آئے گا کہ ممالک اپنا پیسہ سپیس، سائنس، تجربات، تعلیم، صحت اور انفرا سٹرکچر پر لگائیں نہ کہ اسلحے کی دوڑ میں اربوں ڈالر جھونکتے چلے جائیں۔

سائنس میں کیے گئے تجربات اور ایجادات کسی ملک کے لیے نہیں ہوتے۔ یہ ملک / براعظم کی سرحد کے محتاج نہیں ہوتے۔ آپ دیکھیں کہ بلب، گاڑیاں، مشینیں، جہاز جرمن، انگریز، فرانسیسی ایجاد کر گئے مگر ان سے فائدہ پوری دنیا لے رہی ہے۔ انسولین ہو یا الیکٹرک وہیل چیئرز جہاں بھی ایجاد ہوئیں اس وقت گھر گھر استعمال ہو رہی ہیں۔ ٹھیک اسی طرح سپیس کی یہ کامیابیاں بھی دنیا بھر کے لوگوں کے لیے فائدہ مند ہوتی ہیں۔

قانون کی کتابیں ہوں یا انجینئرنگ کی، میڈیکل ہو یا آئی ٹی کیا ہم یہ کہہ کر چھوڑ دیتے ہیں کہ یہ فلاں مُلک کے رائیٹر کی ہے ہم نہیں پڑھیں گے۔ سائنس انسانوں کا مشترکہ سبجیکٹ ہے اس میں سب نے کام کرنا ہے۔ اسی کی بدولت انسان نے سیکھنا ہے۔ آئیں تنگ نظری کو دور کریں۔ آئیں امن کی کوششوں کو سراہیں۔ آئیں ہم بھی اپنا بجٹ ایسی مثبت سرگرمیوں پر خرچ کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •