جب ہم دوستوں سے تفتیش کی گئی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کڑاہی پر ڈھکن رکھا، آنچ کو کم کیا اور ایک پرسکون سی سانس پھونکتے ہوئے محفل میں بیٹھ گیا، اب میں شیف جیسی فکری نگاہوں سے کڑاہی کو وقفاً وقفاً تکتا جارہا ہوں اور ساتھ محفل کی فضول گپوں پر حاضری دے رہا ہوں۔

ہم نے اپنے ہی فلیٹ کی چھ منزلہ عمارت کی چھت پر ایک دسترخوان سجا رکھا تھا۔ بلندی کی آوارہ ہوا اور کھلے آسمان میں یوں کبھی کبھار اپنے جونیئرز کے ساتھ محفل سج جاتی ہے، اب سب کو گرم روٹی اور ٹھنڈی کولڈڈرنک کا انتظار تھاجو کہ کچھ ہی دیر میں پہنچنے والی تھی۔

ہم میں سے ایک اوباش ادب، شاعری، مصوری کا ذوق رکھتا ہے جو اپنے ننگے اشعار سے اس کنواری محفل کی تھکاوٹ کو فرحت بخش رہا تھا۔ میں داہنی طرف دیکھتا ہوں کہ شلوار قمیض میں ملبوس ایک لمبا چوڑا شخص چھت پر آتا، ہاتھ میں وائرلیس فون سیٹ، دوسرے ہاتھ میں کچھ چابیوں کا گُچھا، حُلیہ سے ہی ڈیوٹی پر مامور اہلکار معلوم ہو رہا تھا، دیکھتے ہی دیکھتے، وہ ہمارے سر پر آن کھڑا ہوا۔ ہمارے تعجب زدہ سوال نکلنے سے پہلے ہی وہ بہت بھاری آواز میں اس نے اپنا تعارف کسی خفیہ ایجنسی سے بتا دیا۔

حیرانگی، میں میرے تو پیروں تلے سے زمین کھسکی، مجھ سمیت، سب احتراماً یا خوفاً کھڑے ہو گئے۔ اس کا سب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا اپنے اہلکار ہونے کی گواہی دے رہا تھا، وہ رکے بغیر سوال کرتا ہے ”صوفی نام بتاؤ اپنا؟“ ہمیں میں سے ایک قاری قرآن تھا وہ اپنا نام اور تعلق بتاتا ہے۔

ہم سب میں ’میں‘ سینئیر ہونے کی بنا پر اہلکار سے ڈرتے ڈرتے سوال کرتا ہوں، ”سر یہ انوسٹیگیشن کیسی؟“

وہ آگے سے خوفناک اور طنزیہ مسکراہٹ کی پیشی دیتے ہوئے اپنے انوسگیٹر ہونے کا تجربہ ظاہر کرنے لگ جاتا ہے۔

میں حیران!

میں اس پر اثر انداز ہونے کے لیے اپنا نام، اپنا عہدہ، اپنی کمپنی کا نام بتاتا ہوں اور پھر اپناسوال دوہراتا ہوں ”سر یہ انوسٹیگیشن کیسی؟“

وہ جواباً کچھ کہے بغیر، وائرلیس کرتا ”یار آیے دس کینوا فلور سای“ ( یہ بتاؤ کون سا فلور تھا) ۔

ہم سب ایک دوسرے کے منہ تکتے رہ گئے، ہماری گھبراہٹ ہمارے چہرہ پر نمایاں تھی۔ الفاظ منہ میں ہی تھے اور ہونٹوں پر کپکپی مسلط تھی کہ اُس کے سوالوں کا دورانیہ پھر شروع ہوا، ”یہ فلیٹ نمبر 505 میں کون ہوتا ہے؟“

”ہمیں نہیں معلوم۔“ میں نے جواب دیا۔ مزید بتایا کہ ”ہم فلیٹ نمبر 401 کے رہائشی ہیں۔“

سوال آتا ہے ”کب سے ہو آپ یہاں پر؟“

میں نے کہا ”دو سال سے۔“ وہ ہنسنے لگا۔ کہنے لگا ”مجھے دیکھا کبھی یہاں کہیں؟“ میں نے انکار میں سر ہلا دیا۔

جواباً اہلکار، مجھے ثابت شد مجرم جیسے رویے میں جملہ کستا ہے ”بھائی۔ مجھے پتا ہے 505 میں کون ہوتا اور آپ کو نہیں پتا؟“

ہم سب کے رنگ اڑچکے تھے، اس اہلکار کے سوالات کے انداز میں جو یقیناً تکبر کا شمار تھا، وہ تو میرے باطنی گناہ بھی میرے چہرے پر لارہا تھا۔ اس کے وائرلیس کا بے دریغ استعمال، ہماری شدت پسندی کا نقیب بن رہا تھا۔ ہم تو اس کے مودبانہ تعارف کے لحاظ میں کھڑے ہوئے تھے، پر ہماری لائن تھانے میں تفتیش کے دوران مجرموں کی سی تھی۔

اس اہلکار نے دبکانے والے انداز میں مجھ سے میرا آئی ڈی کارڈ طلب کرلیا۔ اول تو میں سمجھ گیا کہ فلیٹ نمبر 505 کسی دہشت گردی، منشیات فروشی یا پھر جاسوسی جیسے کسی سنگین جرم میں ملوث ہے اور ہمیں سہولت کار سمجھا جارہا ہے۔ دوئم ممکن ہے یہ سائبر کرائم ہو، میرا فیس بک اکاؤنٹ جو کہ تقریباً گورنمنٹ پالیسیز اور کرنٹ ایشوز پر پبلک ہوتا ہے۔ اب تو میری چاروں حسیات اس بات کی تصدیق کر چکیں تھی کہ اگلا مرحلہ ”برا“ بلکہ بہت برا ہونے والا ہے۔

پتا نہیں کیسے۔ پر میں ظاہری طور پر غالباً مضبوط لگ رہا ہوں گا، پر اندرونی طور پر مجرم ہو چکا تھا۔ اہلکار کے الفاظ کا وزن، اور مجھ سے دو قدم کی دوری سے، ابھی آنے والی سختی کو بھانپ چکا تھا۔ میں نے پتا نہیں کسی طرح مسکرا کر، اپنا کمپنی ائیڈنٹیٹی کارڈ (جو جیب میں موجود تھا) اہلکار کو پکڑا دیا۔

اس موقع پر میری خیالی حکمت عملی میں پہلی مدد جنرل مینیجر کو فون کرنا تھا، اجنبی شہر کی اجنبیت آپ کو پروفیشنل کے ساتھ ساتھ بزدل بھی بنا دیتی ہے۔ بیرونی ماحول کے نشیب و فراز سے ہماری احتجاج کی قوت فوت ہو جاتی ہے۔ بہ نسبت مقامی جگہوں کے، ہمارے معاشرتی حوصلہ کو بہت کم کر دیتی ہے۔

اہلکار نے کارڈ کو ٹٹولنا شروع کیا اور بولا ”اچھا تو تم منیجرہو“ (لہجہ میں تلخی)، میں نے کہا ”جی سر۔“

کارڈ کا پانسہ پلٹنے لگا کے کارڈ ہاتھ سے نکل کر اس کے پیروں میں جا گِرا۔ اہلکار نے فوراً میری طرف دیکھا (جس کا صاف مطلب تھا اس کارڈ کو اب میں اس کے پاؤں سے اُٹھا کر وآپس اس کو دوں۔) میری دو قدم کی دوری اور میری غیرت اس حرکت کا انکار کررہی تھی (یہ صرف میں محسوس کر رہا تھا)۔ اور اب اہلکار بھی اس کو بھانپ چکا تھا۔

”اٹھا کے دو“ اہلکار بولا۔

میرا جونیئر کولیک آگے بڑھا۔ میں نے ہاتھ کے اشارہ سے روکا سو وہ ٹھہر گیا۔

”اٹھا لو بھائی“ اہلکار مغرور اور غصہ والا لب و لہجہ میں بولا۔ یہ کسی محافظ کا انداز نہیں تھا یہ تو اُس لہجے کا عکس تھا جو 17 لاکھ فرنگیوں نے 90 کروڑ ہندوستانی رعایا کو غلامی کے تحفے میں دیا تھا۔ پر میں اپنے ہی اصغری عہدوں کے دوستوں کے سامنے مٹی مٹی ہونے کے لیے تیار نہ تھا۔

میں رُکا، کیونکہ یہ داعیہِ غیرت بھی تھا اور اپنی بے عزتی کی حکمرانہ کوشش پر احتجاج بھی تھا۔ میں نے اہلکار کے چہرے پر سوالیہ نظر ڈالی۔

ڈر کے عالم میں مبتلا مجھے اس کی آنکھوں کے دوروں سے نقیب اللہ محسود کا بلند قامت باپ، پہاڑ جیسی پگھ ہاتھوں میں لے کر کراچی کی پالیوٹیڈ دھوپ میں رینگتا نظر آیا۔ مجھے اس اہلکار کے ماتھے کے بلوں پر ٹھہری دھول میں ساہیوال کے معصوم عمیر کو دیا گیا ڈراؤنا بچپن نظر آیا۔ اُس وقت اس اہلکار کی صرف چہرہ کی لالی ہی میری آبرو کو شریفاں بی بی کی طرح سرعام برہنہ کرنے والی تھی۔ وہ ہمہ وقت اعظم سواتی سے کم نہ تھا اور میں چرواہے نیاز محمد سے زیادہ کچھ نہ تھا۔ اس کے تیز سانسوں کی چھینٹیں اڑ رہی تھیں اور میری سانس زینب انصاری کے والد کے الفاظ کی طرح گندے سسٹم کی محتاج تھی۔ اس کے اگلے متوقع الفاظ مزید جھڑک زدہ اور رعب سے بھرے نکلنے تھے، اور میرا اگلا متوقع سوال ذہنی معذور، صلاح دین جیسا ہونا تھا، ”آپ شہریوں کی تذلیل کرنا کہاں سے سیکھتے ہو۔“

بہرحال! میں نے اپنے آپ کو بہت کمزور اور حقیر پایا۔ میں نے ہولناک انجام کے ڈر سے نظریں نیچے کر لیں اور بے بسی سے جھک کر وہ کارڈ اہلکار کے ٹخنوں کے پاس سے اٹھا کر وآپس اہلکار کو دے دیا۔

میں اس رکوِع خاصہ پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ تب کرتاجب میری آنکھوں نے لاپتہ نوجوانوں کے والدین کے ہاتھوں میں تصویریں اور سڑکوں پر بچھی ان کی بیچارگی نہ دیکھی ہوتی۔ میرا خیالی لاوا تو تب پھٹتا، جب ان کانوں نے سیالکوٹ کے بازاروں سے منیب اور مغیث کی چخیں نہ سنی ہوتیں۔ بعدازاں اس بہیمانہ قتل میں پولیسں براہ راست ملوث تھی۔ میں ہاتھ اس کے قدموں پر نہ لے جاتا اگر ماڈل ٹاؤن کے نہتے، مظلوموں کو سیدھی گولیاں میری پیدایش سے پہلے نہ ماری گئی ہوتیں۔

اہلکار نے کارڈ بنا دیکھے دوبارہ مجھے تھما دیا کیونکہ میں اس کی فرنگی تسکین پوری کر چکا تھا۔ وہ اپنی چابیوں سے کھیلتا مُسکراتا ہوا اپنی جگہ سے ہلا۔ یقین جانیے! جو حالت ندامت میری تھی، ہمہ وقتی اپنی نظروں کو آئینہ کے سامنے بھی نہیں لا سکتا تھا، پھر بھی اُن چھ کے درمیان کھڑا تھا جن کے ساتھ روزانہ کا آدھا دن گزارنا ہوتا ہے۔

اس اہلکار کے موبائل کی رنگ بجی، وہ ہم سے فاصلے پر گیا پھر اُس نے وائرلیس فون پر قہقہہ لگاتے ہوئے جواب دیا۔

”میں ٹاپ تے آں ہوا لینا پیاں، بس آیا“، اس کی کچھ مزید باتوں سے اندازہ ہوا کہ اس کا تعلق کسی خفیہ ایجنسی سے نہیں بلکہ محمکہ پولیس سے ہے اور وہ بغیر کسی خاص مقصد آیا تھا۔ باقی ساتھی دوسری عمارت پر تھے۔ مگر اب تو وہ ادارے کی جیت وصول کر چکا تھا۔ وہ بنا کچھ بولے، تیز قدموں سے نیچے چلا گیا، اتنی تیزی سے جتنی تیزی سے اسی دن میرے دل سے میرے ملکی نظام اور پولیس کے ادارے کا وقار نیچے گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
رانا محمد طیب کی دیگر تحریریں
رانا محمد طیب کی دیگر تحریریں