میں کشمیر ہوں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

4 اگست کی شام، کشمیر میں ایک لمبی سیاھ رات کی خبر لائی۔ دہلی سرکار طاقت کے نشے میں چور، بدمست ہاتھی کی مانند سرسبز وادی میں خون کی ہولی کھیلنے چڑھ دوڑی۔ شام ڈھلتے ڈھلتے وادی کشمیر میں بھارتی مقبوضہ افواج کے بوٹوں کی چاپ ہر طرف سنائی دے رہی تھی۔ باہر سے آے سیاحوں اور امرناتھ پر آے یاتریوں کو وادی سے نکالا جا رہا تھا۔ گلیوں بازاروں میں تو جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔ ہر طرف بوٹوں کی چاپ کے سوا کچھ سنائی نہ دیتا تھا۔ آج تک کسی نے ایسا کچھ نہ دیکھا تھا۔ ہر طرف خاموشی تھی، جو کہ کسی بڑے طوفان کا پتہ دیتی تھی۔

رات تک کشمیر میں مکمل طور پر کرفیو نافذ ہو چکا تھا۔ تمام حریت رہنما تو پہلے ہی گرفتار تھے۔ بھارت پسند اور سابقہ وزرا اعلی بھی نظر بند کیے جا چکے تھے۔ کشمیری جان چکے تھے کے یہ سب کسی بڑے پیمانے پر خون کی ہولی کھیلنے کا پیش خیمہ ہے۔ وادی میں مکمل طور پر خوف پھیل چکا تھا۔

آدھی رات تک وادی کو باہر کی دنیا سے مکمل طور پر منقطع کیا جا چکا تھا۔

اب حالات کچھ یوں ہیں کہ چونتیس دن سے وادی کا بیرونی دنیا سے مکمل طور پر رابطہ منقطع ہے۔ کچھ تصاویر اور ویڈیو کسی نہ کسی طرح خبر کا حصّہ بننے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ بھارتی افواج آر ایس ایس کے نظریات پر عمل کرتے ہوے مسلم کشمیریوں کی نسل کشی میں مصروف ہیں۔ آتنگ واد کے خلاف آپریشن کے نام پر معصوم کشمیری جوانوں کا قتل عام پچھلے ایک ماہ سے جاری ہے۔ کشمیری لڑکیوں کو گھروں سے اٹھا کر فوجی بیرکوں میں لیجایا جا رہا ہے۔ اسلام کی عزتوں کے ساتھ کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ہماری حکومت خالی زبانی جمع خرچ میں مصروف ہے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہم آپ کی حمایت کرتے ہیں۔ ہم آپ کے سفیر ہیں۔

کشمیریوں کو اس وقت ہمارے الفاظ اور بیانات کی قطعی ضرورت نہیں اور نہ ہی وہ ہم سے اس کی توقع کر رہے تھے۔ یہ وقت ہے کہ ہم ان کی حقیقی معنوں میں مدد کریں۔ اپنے ہاتھوں سے کشمیر میں ہوتا ہوا ظلم روکیں۔ مودی کے شیطانی عزائم کو اپنی دلیری اور جوانمردی سے خاک میں ملا دیں۔ ابھی لوہا گرم ہے اور یہی وقت ہے ہتھوڑا پوری قوت بازو سے چلایا جائے۔

اقوام عالم اپنے معاشی مفادات کی خاطر بھارت پر دباؤ نہیں بڑھا سکتے۔

اب جبکہ کشمیر قانونی طور پر بھارت کا حصّہ بن چکا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ قدم اٹھایا جائے جو 1947 میں قائد اعظم نے کشمیر کی آزادی کے لئے اٹھایا تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عمران نجیب بٹ کی دیگر تحریریں
عمران نجیب بٹ کی دیگر تحریریں