جب شیعہ قتل ہوجائے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جس بے دردی سے سوشل میڈیا پر ہم شیعہ کو مذاق اور شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں اور وہ بھی ایسے دنوں میں جب لفظ لفظ نمایاں دِکھ بھی رہا ہے اور نشتر بن کر چُبھ بھی رہا ہے، وہ یقیناً ان لوگوں کے لیے شیعہ کا قتل آسان بنادے گا جو انہیں سمجھتے ہی کافر اور قابلِ قتل ہیں۔

جب شیعہ قتل ہوجائے گا تو ہم سوشل میڈیا ایکٹوِسٹ شدت پسند سنّیوں کی ملامت میں سوشل میڈیا پر پھر سے ٹوٹ پڑیں گے اور شیعوں کو پرسہ دے رہے ہوں گے، یہ بھول کر کہ اس قتل میں ہم بھی حصے دار ہیں!

جب ہم کسی کی موت پر تعزیت کے لیے جاتے ہیں تو اس وقت سوگواروں کے اندازِ غم اور اظہارِ غم پر ان کے بیچ بیٹھ کر جملے تو نہیں کستے نا!
ہم سوشل میڈیا پر لاتعداد کچے ذہنوں میں یہ سوچ ٹھونس رہے ہیں کہ یہ جو شیعہ طریقہ ہے وہ جہالت ہے اور پاگل پن ہے!

اس کے لیے ہم تاریخ کے صفحات بھنبھوڑ بھنبھوڑ کر یزید اور آلِ رسولﷺ کا موازنہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں، مگر ہمیں اندازہ نہیں ہے کہ ہم ان کچے ذہنوں کی صورت شیعہ قتل کا تماشبین ہجوم تخلیق کر رہے ہیں، جو سنگدلی سے شیعہ قتل کو قبول بھی کرلے گا اور اس کی لذت بھی لے گا۔ جو کہے گا کہ صرف مولوی انہیں کافر نہیں کہتا، ”پڑھے لکھے ماڈرن لوگ“ بھی انہیں جاہل اور بیمار ذہن کہتے ہیں، اس لیے ان کے مرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا!

کیا ہمیں عرصے سے اپنے اطراف اس طرح کے قتل اور تشدد کی وارداتیں نظر نہیں آ رہیں؟
کیا تنقید کا یہ انداز ہوتا ہے!
کیا موقع محل کی سمجھ اور آداب انسانیت کا اصول نہیں ہے!

ہم صرف یہی نہیں کر رہے، ہم شیعہ عقیدہ رکھنے والوں کے اندر خوف اور اِن سکیورٹی کے ساتھ ساتھ نفرت بھی بھر رہے ہیں۔
ایک بے بس نفرت جو ابھی چپ ہے مگر کبھی بھی کسی بھی وقت اُبل پڑے گی یا درپردہ ابلتی بھی ہوگی!
اگر ہم غور سے دیکھیں تو سوشل میڈیا پر ہمیں کئی جانے پہچانے شیعہ ان حملوں کے جواب میں پریشان اور تھکے تھکے سے محسوس ہوں گے۔

کیا عین اس وقت جب کوئی اپنی عبادت میں مصروف ہو، اس کے سر پر کھڑے ہوکر اس کی عبادت پر جملے کسنا اور اس کے عقیدے کو غلط ثابت کرنا، مہذب انسانوں کا فعل ہے؟

کیا ہم کسی ترقی یافتہ مغربی ملک میں، جہاں اب چرچ خالی پڑے ہوں اور لوگوں کو اپنے عقیدے یاد بھی نہ رہے ہوں، کسی چرچ میں کھڑے ہوکر ان کے عقیدے پر تنقید کرسکتے ہیں؟ وہاں لگے مجسموں کا مذاق اڑا سکتے ہیں؟

اور کیا وہ مہذب مغربی قوم برداشت کرجائے گی؟
ہم ایسا کر ہی نہیں سکتے۔ ہم اپنے ذاتی مفادات کا رسک نہیں لے سکتے۔

یوں بھی کیا کوئی ہمارے دلائل سن کر اپنے عقیدے سے دستبردار ہوجائے گا؟
شدید تنقید کے زور پر کسی کو زبردستی مسلمان کرنے یا تبرّے کے ساتھ کسی کو اپنے عقیدے سے ہٹانے کی نیّت سے کوشش میں کتنا فرق ہے؟

ہندو اور سکھ بچیوں کو چرب زبانی سے اسلام کی طرف اسی طرح ہی تو راغب کیا جارہا ہے، جس طرح ہم چرب زبانی کے ساتھ لوگوں کو عقائد سے ہٹانے کی نیّت سے کوشش کررہے ہیں۔
چرب زبان وہ بھی ہیں
چرب زبان ہم بھی ہیں

یہ بھی مت بھولیے کہ تیز تر رابطوں کے اس دور میں انسانی احساسات کا احترام کیے بنا چیخ چیخ کر مسلمانوں اور ان کے عقائد پر اندھا دھند تنقید کرنے کا کارنامہ ہمارے پڑوس کے مسلمانوں کو اور بھی بے وقعت کرکے گائے کے گوبر میں دفن کردے گا۔ کیونکہ اسلام کے نام پر ہم نے بٹوارے کا شوق کیا تھا، اس لیے ہمارا بیانیہ ہی ان پر لاگو ہوگا اور ہو بھی رہا ہے۔

کیا ہم اسی انداز سے کھل کر دیگر مذاہب کی مقدس سمجھی جانے والی شخصیات پر تنقید کرنے کی جرأت کر سکتے ہیں؟ اس کا مذاق اڑا سکتے ہیں؟
نہیں
اس لیے کہ وہ زیادہ مضبوط لابی ہے اور مغربی قوتوں کی طرف سے سرپرستی رکھتی ہے، جس کی بنا پر اس میں مغرب کی یونیورسٹیز سے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کی ایک تعداد موجود ہے۔ اگر ہم تنقید کریں گے اور مذاق اڑائیں گے تو ہمیں ان کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

گزارش یہ ہے کہ تنقید اور تبرّے میں بڑا فرق ہے۔ تنقید چاہے ادب اور فن پر ہو یا مذہب اور عقیدے پر۔
سب سے اعلیٰ چیز انسانی جذبات اور احساسات کا احترام ہے۔

انسانوں کے جذبات اور احساسات اپنے عقائد سے یوں جڑے ہوئے ہیں جس طرح ماں کی کوکھ میں رکھا بچہ۔
ہم زبردستی آپریشن ٹیبل پر لٹا کر کوکھ میں رکھے بچے کو ضائع نہیں کرسکتے۔
یہ قتل ہوگا۔
معاملے کی ایسی ہی نزاکت سچ مچ کے قتل کا سبب بنتی ہے۔

مسلمانوں اور ان کے تمام فرقوں سمیت، ہر مذہب کے ماننے والوں اور ٹھیکیداروں نے جہالت کا بازار گرم رکھا ہے۔ معصوم انسانوں کو عقیدے کی افیم کے ذریعے دربدر بھی کیا ہے اور قتل و غارت گری اور تباہی و بربادی کا بھیانک کھیل بھی کھیلا ہے۔ مذہبی کتابوں کی تشریح اپنے مقاصد کے مطابق کرکے بے عقل اور کم علم انسانوں کو انسانیت سے بھی دور کیا ہے۔ پاکستانی سماج یقیناً اس کھیل کا مکروہ چہرہ اختیار کرچکا ہے۔

مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم بھی تنقید کے نام پر وہی مکروہ کھیل کھیلیں جس کے نقاد ہونے کا ہمیں دعویٰ ہو!
جتنا جبر نقاد اپنی تنقید میں اختیار کرتا ہے، اتنا ہی جبر اگر نقاد خود پر اور اپنے بیان پر کرے تو بہت کچھ بدل سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 92 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah