میدانِ کربلا کا پہلا شہید، حضرت حر ؑبن یزید تمیمی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ عجب وقتِ بے اماں تھا، کربلا میں لمحہ لمحہ اترتی تیرگی، پیاسی بنجر زمین پہ محاصرہِ کاروانِ حسینی۔ خیموں سے بھوک اور پیاس کی شدت سے نڈھال معصوم بچوں کی العطش العطش کی صدائیں، ٹھاٹھیں مارتے، ایڑیاں رگڑتے بے بس فرات کا بہاؤ اور لیلائے شب پہ تنی بے کراں سوگواری کی چادر۔ ایسے میں آلِ رسولؐ کے خیموں سے دور ایک شخص کسی گہری سوچ میں غلطاں متفکر و بے چین ہے۔ یہ مضمحل شخص فوجِ کوفہ کا انتہائی بہادر سپہ سالار ہے کہ جس کا نام اس کی ماں نے حر یعنی ”آزاد انسان“ رکھاتھا۔ حرؑ بن یزید تمیمی ایک ہزار سپاہیوں کی نفری کے ساتھ القادسیہ کے سپہ سالار حصین بن نمیر کی ہدایت پہ کوفہ سے چند میل کے فاصلہ پہ حسینی دستہ کو کوفہ شہر میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ امام جو اپنے حمایتیوں کی دعوت پہ کوفہ جا رہے تھے۔

یہ وقت اسلامی تاریخ کا انتہائی نازک موڑ تھا۔ امیر معاویہ کے انتقال کے بعد یزید کی پوری توجہ اس طرف تھی کہ ان لوگوں سے بیعت لے جنہوں نے اس کی ولی عہدی کی بیعت سے امیر معاویہ کے زمانے میں انکار کیا تھا۔ اس وقت مدینہ میں ولید بن عتبہ بن ابوسفیان گورنر تھا۔ جس کو یزید نے ایک خط میں لکھا کہ بلاتاخیر حسین ؑبن علیؑ، عبداللہ ؓبن عمر اور عبداللہ ؓبن زبیر سے بیعت لو۔ ”

(صفحہ 507، تاریخ ابن خلدون)

یہ حضرات مدینہ میں سکونت پذیر تھے۔ ان کی بیعت نہ کرنے کی صورت میں سرکوبی کی سزا قتل تھی۔ امام حسینؑ ابن علی نے حاکمِ وقت یزید بن معاویہ کے ہاتھوں پہ بیعت کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ اس کا دین، دینِ محمدی ؐسے یکسر مختلف تھا بے روح بے شناخت۔ وہ کسی بھی جابر، مطلق العنان خلیفہ کی بیعت کس طرح کر سکتے تھے؟ مگر مخالفت کا یہ راستہ اتنا آسان نہیں تھا۔ اس میں تنہائیاں تھیں اور دین کی سر بلندی اور بقا کے لئے جانوں کی قربانیاں بھی

یزید کی جانب سے بیعت کے دباؤ کی وجہ سے امام عالی مقام اپنے اہل و عیال اور رفقاء کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی جانب کوچ کرتے ہیں۔ مکہ میں ان کی آمد اور بیعت کے دباؤ کی خبر سن کر اہلِ کوفہ ان کی حمایت میں مسلسل خطوط لکھ کر کوفہ آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ تاہم امامؑ پہلے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بؑن عقیل کو روانہ کرتے ہیں۔ اس وقت کوفہ کے گورنر نعمان بن بشیر تھے جو اپنی حلیم طبیعت اور صلح جوئی کی وجہ سے مشہور تھے۔

یہی وجہ ہے کہ یزید انہیں ہٹا کر عبداللہ بن زیاد کو گورنر منتخب کرتا ہے تاکہ وہ یزید کی حکومت کے خلاف شورشوں سے نپٹ سکے۔ مسلمؑ بن عقیل کی حمایت میں اٹھارہ ہزار افرادبیعت کر چکے تھے۔ لیکن نئے گورنر ابنِ زیاد کی سخت حکمتِ عملی کہ جو انہوں نے حکومتی مخالفتوں کے لیے روا رکھی کے باعث جلد ہی نہ صرف مسلم بن عقیل تنہا رہ جاتے ہیں بلکہ اپنے جان نثار حمایتیوں کے ساتھ قتل کر دیے جاتے ہیں۔

ادھر امام حسینؑ مکہ سے کوفہ کی جانب کوچ کرتے ہیں۔ ان کا کوفہ کی طرف کوچ کرنا حاکمِ وقت یعنی یزیدبن معاویہ کے نزدیک بغاوت اور امن و امان کی صورت حال بگاڑنے کے مترادف تھا۔ وہ حکم صادر کرتا ہے۔ ”حسین سے بیعت لو یا انکارپر سر کاٹ لو۔ “ کہ سر اٹھانے کی یہی سزا تھی اور اسی لیے حر ایک ہزار کی فوج کے ساتھ انہیں کوفہ جانے سے روکتا ہے۔ امامؑ خون خرابہ سے گریزاں کوفہ کا ارادہ ترک کرتے ہیں۔ تاہم حر انہیں ابنِ زیاد کے سامنے پیش ہونے پہ اصرار کرتا ہے کہ یہی حکم تھا۔ اس موقعہ پر حر امامؑ کو آگاہ کرتا ہے۔ ”اگر تم نے معرکہ آرائی کی تو بلاشبہ مارے جاؤ گے۔ “ جس پر امام ؑفرماتے ہیں۔ ”کیا تو ہمیں موت سے ڈراتا ہے؟

امامؑ کے گھوڑوں کا رخ بدلتا ہے اور قافلہِ حسینی کا سفر دوبارہ شروع ہوتا ہے۔ حتی کہ مقامِ نینوا تک پہنچتا ہے۔ امام اترتے ہیں۔ اسی دوران ابنِ زیاد کا خط حر کے نام آتا ہے۔ ”حسین کو روک کے ایک کھلے میدان میں ٹھہرانا جہاں نہ پانی ہو نہ کوئی محفوظ مقام ہو۔ “ بالآخر قافلہ جس مقام پر رکتا ہے وہ ایسی ہی ایک جگہ تھی جس کا نام کربلا تھا۔ امام کو جب پتہ چلتا ہے وہ فرماتے ہیں۔ ”یہ زمینِ کرب و بلا ہے۔ “ غرض اس جگہ پر پڑاؤ ہوتا ہے۔

خیمے گاڑے جاتے ہیں۔ یہ تاریخ محرم کی دو اور سن 61 ہجری تھا۔ اس تمام وقت حر کا ایک ہزار فوجیوں کا لشکر قافلہ کا پیچھا کرتا رہتا ہے اور اب اس پڑاؤ کے مقام پہ محاصرہ ہوتا ہے لیکن قلیل قافلہ کی ایمانی طاقت کو توڑنے کے لیے حر کا لشکر کافی نہ تھا۔ اگلے روز عمر بن سعد بھی چار ہزار سپاہیوں کی نفری کے ساتھ مقام ِکربلا پہ پہنچتا ہے۔

عمر بن سعد امام سے ملاقات کرتا ہے اور ان کی بزرگی سے متاثر ہو کر ان کی امامت میں باجماعت نماز ادا کرتا ہے۔ یہ بات کوفہ کے گورنر ابنِ زیاد کے لئے تشویش کا باعث بنتی ہے۔ لہذا وہ شمر کی کی سربراہی میں مزید دس ہزار کی نفری بھیجتا ہے اور ساتھ ہی امام کی شخصیت کا سحر توڑنے کے لئے ”رے“ کی گورنری کا پروانہ بھی۔ شمر ساز و سامانِ حرب اور نفری کے ساتھ کربلا پہنچتا ہے۔ اسی دوران عمر بن سعد کو ابنِ زیاد کا خط بھی ملتا ہے۔ وہ لکھتا ہے۔ ”حسینؑ سے یزید کی بیعت لو، اگر وہ بیعت کر لے تو جو مناسب ہو گا کیا جائے گا اور اگر بیعت سے انکار کریں تو بے تامل جنگ کرو اور ان پر اور ان کے ہمراہیوں پر پانی بند کر دو۔ “ (صفحہ 527، تاریخ ابنِ خلدون)

جب امام حسینؑ سے بیعت کی کوششیں بے سود رہیں تو سات محرم سے پانی کا سلسلہ بھی بند کیا جاتا ہے۔ یہ گویا اعلانِ جنگ تھا اور پھر شبِ عاشور آن پہنچی۔ اگلے دن معرکہِ حق و باطل ہے۔ ایک طرف عبادات، نمازیں اور تلاوت اور دوسری جانب ہزاروں کے لشکر میں آلاتِ حرب کی جھنکار سے آنے والی بھوکے پیاسے بچوں کی آہ و بکا کا سلسلہ بھی اسی جنگ کا حصہ تھا۔

اور یہی وقت ہے کہ حر بے چین اور مضمحل اپنی فکر میں غرق ہے۔ ”یہ میں نے کیا کیا؟ میں نے فاطمہؑ کے بیٹے کو کس مقام پر پہنچا دیا؟ اس کا ضمیر مسلسل اسے کچوکے لگا رہا تھا۔ وہ سخت پشیمان تھا۔ منصبی ذمہ داریوں نے اسے حق و باطل کے درمیان تفریق کرنے کی مہلت نہ دی تھی۔ اس نے سوچا“ یہ میں ہی تو تھا کہ جو پہلی بار امامؑ کی راہ میں حائل ہوا تھا۔ ان کے قافلے کو محصور کیا۔ آج میری وجہ سے قافلہ بھوکا اور پیاسا ہے۔ وہ اپنی زندگی کی بے معنویت پہ نادم و شرمسار تھا۔ اس نے نظر دوڑائی۔ یزیدی فوج میں ہزاروں کا مجمع تھا۔ مگر یہ اجسام روح سے عاری تھے۔ وہ سوچ رہا تھا مٹھی بھر لشکر کا ساتھ دے کر جاہ ہو حشم کو ٹھکرانا ہے یا جابر و عیاش حکومت کی گود میں عافیت ڈھونڈنی ہے؟

کوئی ایک راستہ یا اِدھر یا اُدھر، فوج ِیزیدی کی سپہ سالاری یا حسینی دستہ کی غلامی لاؤ

لشکر اور قلمدانِ حکومت اک طرف

فقر و فاقہ اِ ک طرف، دنیا کی لذت اِک طرف

لاکھ ایذا اِک طرف، عالم کی راحت اِک طرف

رنج و عسرت اِک طرف، مالِ غنیمت اِک طرف

کیا تھا جس کی چاہ میں دنیا سے دامن کھینچ کر

آن بیٹھا حر درِ شہ پر کلیجہ بھہنچ کر

• عشرت آفرین

شب ِعاشور ہی فیصلہ کی رات تھی۔ وقت کم تھا لیکن فیصلہ کی رات طویل۔ پھر جب لیلائے شب کی کوکھ سے روشن سپیدی کا بطن چھلکا تو فیصلہ ہو چکا تھا۔ اب حر اپنے نام کی طرح اپنے فیصلے میں آزاد تھا۔ وہ اب یزید کا تابع بن کر نہیں رہنا چاہتا تھا۔ اس کے سامنے یزیدی فوج کے ہزاروں سر تھے لیکن معرکہِ حق و باطل میں سروں کی گنتی نہیں ہوتی۔ اصولوں کی قیمت ہوتی ہے اور اس کی خاطر چاہیسر کی بازی ہی کیوں نہ لگائی جائے۔

حر اپنے گھوڑے کا رخ مخالف سمت میں موڑتے ہیں۔ جس کو دیکھ کے یزیدی فوج کے مہاجر بن اِرث نے حر کی بیچینی بھانپ لی۔ ”

” حر کیا پریشانی ہے مجھ سے تو یہ عقدہ نہیں کھل رہا؟ خداکی قسم اگر کوئی مجھ سے ہماری فوج کے بہادر ترین انسان کا نام پوچھے تو میں بلا تامل تمہارا نام لوں گا اور تم ہو کہ پریشان اور بے چین نظر آ رہے ہو؟ حر جواب دیتے ہیں۔

” میں اپنے آپ کو جنت اور جہنم کے بیچ میں دیکھتا ہوں۔ مجھے ان دونوں میں سے ایک راستہ کا انتخاب کرنا ہے اور خداکی قسم میں سوائے جنت کے کوئی اور راستہ نہیں منتخب کر سکتا۔ “

حر نہ لشکر ہے نہ جاہ و حشمت و انعام ہے

یہ صداقت کی گواہی کا بس اک اقدام ہے

بات جب کردار کی آئے تو یہ وہ نام ہے

فیصلہ پہ جس کے، سناٹے میں فوجِ شام ہے

عشق گر چاہے تو وہ دریا کو پیاسا مار دے

فرد لشکر سے نکل کر اس کو تنہا مار دے

(عشرت آفرین)

فیصلہ کی گھڑی تمام ہوئی اور عمل کا وقت آن پہنچا۔ حر کی دعوتِ حق میں ان کا بیٹا اور غلام بھی ساتھ تھے۔ وہ آہستہ آہستہ چلتے ہوئے امام حسین کے خیمہ کی جانب پہنچتے ہیں۔ قریب پہنچنے پہ جوتوں کو اتار کر گردن میں لٹکا دیتے ہیں۔ غلام کی مدد سے اپنے ہاتھوں کو پشت پہ رسیوں سے بندھواتے ہیں۔ قریب جانے پہ ہتھیار پھینک کر اپنے گھٹنے ٹیک کر زمین پہ خود کو گراتے ہیں اور بلک بلک کر روتے ہوئے معافی کے خواستگار ہوتے ہیں۔

” اے حسینؑ میں ہی ہوں جس نے آپ کا راستہ روکا تھا۔ کیا میرے لئے کوئی سزا ہے؟ “ امام ان کو اپنے بازوؤں میں سمیٹتے ہوئے فرماتے ہیں۔ ”حر ؑمیں نے تمہیں معاف کیا اور میں یقین دلاتا ہوں کہ میرے نانا بھی تمہیں معاف کرتے ہیں۔ “

حر کے فوجِ شام سے جانے پہ حجت ہے کہیں؟

ایک بھی تاریخ میں حرفِ شکایت ہے کہیں؟

خاندانِ حر کے دل میں رنج و حسرت ہے کہیں؟

دامنِ تاریخ پہ حرفِ شکایت ہے کہیں؟

پشت پر ہاتھوں کو بندھوائے ہوئے کس شان سے

شام کے لشکر سے حر نکلا نئے عنوان سے

‹ (عشرت آفرین)

معافی کاپروانہ پا کر حر ؑجنگ لڑنے کی اجازت طلب کرتے ہیں۔ امام ؑفرماتے ہیں ”حرؑ تم ہمارے مہمان ہو۔ تمہیں اپنے لیے مرنے کی اجازت کس طرح دے سکتا ہوں؟ “ حرؑ اصرار کرتے ہیں۔ امام اس وقت تک جنگ کی ابتداء کی اجازت نہیں دیتے جب تک پہلا تیر دشمنوں کی جانب سے نہیں آتا۔

حرؑ اپنے تیز و تند جملوں سے اپنے سابق ساتھیوں کو للکار کر بتاتے ہیں کہ اب وہ کسی کے غلام نہیں رہے۔ وہ ”آزاد“ ہیں۔ وہ ”حر“ ہیں۔ ”جس پر عمر ابنِ سعد تیروں کی بارش سے جنگ کا آغاز کرتا ہے اور سب سے کہتا ہے“۔ گواہ رہنا اور امیرالمومنین (یزید) کو بتانا کہ میں ہی وہ تھا کہ جس نے حسینی دستہ پہ پہلا تیر پھینکا اور یوں اس معرکہ ِ حق و باطل کا آغاز ہوتا ہے کہ جس کے قابلِ فخر اور جری شہید حر علیہ السلام بھی تھے۔

حرؑ بمعہ فرزند آیا تھا کوئی تنہا نہ تھا

بات نسلوں کی تھی کچھ اک جان کا سودا نہ تھا

جنگ کے انجام سے واقف نہ ہو ایسا نہ تھا

ماسوائے موت کے باقی کوئی رستہ نہ تھا

وقت نے ثابت کیا حق کی گواہی کے لیے

حرؑ طمانچہ بن گیا رخسارِ شاہی کے لیے

 (عشرت آفرین)

(نوٹ: اس مضمون کی تیاری میں تاریخِ ابن خلدون حصہ دوم کے علاوہ انٹرنیٹ کی مدد لی گئی ہے۔ مصنفہ)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •