چاند پر بعد میں چلیں گے، پہلے افسوس تو کر لیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہندوستان کا چاند پر جانے کا خواب پورا نا ہو سکا،
افسوس،

980 کروڑ روپے، جو کسی بھی چاند پر جانے والے مشن پر خرچ ہونے والی سب سے کم رقم ہے، اس کے باوجود، ہندوستان چاند پر نا جا سکا،
افسوس،

ہندوستان کی اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن کے سربراہ جناب کے سون کا تعلق ایک غریب کسان گھرانے سے ہے، پوری زندگی کوشش کی، 104 سٹیلائٹ بھی خلا میں روانہ کر دیے، اور تنخواہ بھی صرف ایک لاکھ روپے ماہانہ لیتے ہیں، لیکن،
افسوس،

ہمیں اپنے پاکستانی نوجوان، بلوچستان سے تعلق رکھنے والے خلائی سائنسدان ڈاکٹر یار جان عبدالصمد کی کہانی کے بارے میں شاید نہیں پتا، جو اپنے ڈیپارٹمنٹ کا سب سے کم عمر سینیئر ریسرچ سائنسدان اور فیلوہے، جس کے والد اور والدہ نے کبھی اسکول کا منہ نہیں دیکھا تھا۔ لیکن
افسوس

ہمیں نمیرہ سلیم کے بارے میں بھی شاید علم نہیں، جو پاکستان کی پہلی خاتون آسٹروناٹ ہیں، یہی وہ پاکستان کی پہلی خاتون ہیں جو نارتھ پول اور ساوتھ پول بھی پہنچ چکی ہیں، لیکن
افسوس

ہمیں جناب طارق مصطفی، پرنسپل انجینئر، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن، ڈاکٹر سلیم محمود، سائنٹیفک آفیسر، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن، جناب سکندر زمان، اسسٹنٹ انجئنیر، پاکستان اٹامک انرجی کمیشن، جناب اے زیڈ فاروقی، سائنٹیفک آفیسر پاکستان اٹامک انرجی کمیشن اور جناب محمد رحمت اللہ، ریجنل ڈائریکٹر، محکمہ موسمیات کے لوگوں کے بارے میں نہیں علم جو ناسا سے راکٹ لانچنگ کی ترتبیت لینے کے بعد، 1962 میں رہبر اول، سومیانی راکٹ رینج (جی پاکستان سے ) کامیابی کے ساتھ لانچ کیا، اوراس کے بعد پاکستان کو یہ فخر حاصل ہوا کہ وہ ایشیا میں تیسرا اور دنیا میں دسواں ملک بن گیا۔ اس وقت تک جن ملکوں نے اس طرح کی لانچنگ کی تھیں ان میں امریکہ، روس، یوکے، فرانس، سوئڈن، اٹلی، کینیڈا، جاپان، اور اسرائیل شامل تھے، جی ان میں انڈیا شامل نہیں ہے۔

اور یہی وہ لوگ تھے جو بعد میں باقاعدہ سپارکو کے بانیوں میں شامل رہے۔ لیکن ہم نہیں جانتے۔
افسوس

ہمارے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی، جناب فواد چوہدری صاحب نے فرمایا، ”ہندوستان کو مشورہ ہے، بغیر سوچے سمجھے چندریان جیسے مشن بنانے یا ابھینندن جیسوں کو لائن آف کنٹرول پار چائیے پینے بھیجنے جیسے منصوبوں پر پیسہ لٹانے کی بجائے اپنے لوگوں کوغربت سے باہر نکالنے پر پیسے لگائیں۔ کشمیر بھارت کا ایک اور چندریان ہو گا اورقیمت چندریان سے کئی گنا زیادہ ہوُگی۔“
اور

”آ آ آ۔ جو کام آتا نہیں پنگا نہیں لیتے نا۔ ڈئیر انڈیا۔“

انہیں یہ نہیں کہنا چاہیے تھا
افسوس

پاکستانی میڈیا پر بیٹھے کچھ اینکرز کی ہندوستان کے مشن کی ناکامی پر اظہار افسوس، ہمدردی، اور اظہار یکجہتی۔ اور پاکستان کے آئل اور گیس کی ایکسپلوریشن کے منصوبے کیکٹرا میں ناکامی پر تنقید اور تضحیک۔
افسوس

ہم کسی بھی معاملے میں ایک قوم، ایک سوچ، ایک آواز نہیں بن پا رہے،
افسوس

ہم اپنے اپنے انفرادی مفادات میں، ملک کے اجتماعی مفادات کا سودا کرتے آ رہے ہیں اور کر رہے ہیں،
افسوس

اس ملک کے نوجوانوں کو 72 سالوں میں ایک ایسا تعلیمی نظام نا دے سکے جو ان میں تخلیقی اور تعمیری صلاحیتوں کو اجاگر کر سکے،
افسوس،

ٹویٹر، فیس بک، انسٹا گرام کی چند ہزار لائکس، کمینٹس، اور ”میں مشہور ہو جاؤں“ کے چکروں میں آپ پہلے یہ دیکھ لیں کہ کہیں اس سے آپ کے ملک پاکستان کے دشمنوں کو کہیں کوئی ایسا تو موقع نہیں مل جائے گا کہ جس سے وہ کہہ دیں، کہ دیکھا،
افسوس۔

اس وقت پاکستان کو ایک قوم کی ضرورت ہے، اور اگر ہم وہ قوم نا بن سکے تو ہمارے لئے اللہ نا کرے۔ صرف یہ نا رہ جائے کہ
افسوس۔

اللہ میرا، آپ کا، اور اس پاکستان کا حامی و ناصر رہے۔ آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •