آسام شہریت کا معاملہ : مودی کو اگلتے بنے نہ نگلتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی، جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ترجمان اور جنرل سیکرٹری کے عہدے پر براجماں تھے، تو ایک دن اشوکا روڑ پر پارٹی صدر دفتر میں یومیہ پریس بریفنگ کے دوران وہ بھارت کی روایتی مہمان نوازی، ہندو کلچر کے بے پناہ برداشت اور تحمل پر گفتگو کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدیوں سے بھارت نے غیر ملکیوں کو پناہ دی اور ان کو سر آنکھوں پر بٹھا کر بلندیوں تک پہنچایا۔ دی ہندو کی پولیٹیکل ایڈیٹر نینا ویاس، جو بی جے پی کور کرتی تھیں، نے ان کو آڑے ہاتھوں لے کر سوال کیا کہ ان کی پارٹی پھر ہندو کلچر کے برخلاف، بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کو ملک بدر کرنے کے مطالبہ کو انتخابی موضوع کیوں بناتی ہے؟

مجھے یاد ہے کہ مودی کا پارہ چڑھ گیا اور اسی کے ساتھ ہی انہوں نے پریس بریفنگ ختم کرنے کا اعلان کیا۔ اسی طرح جب ایک بار بی جے پی کی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں سیاسی قرارداد پر بحث ہو رہی تھی، تو ایک مسلمان ممبر، جو اٹل بہاری واجپائی حکومت میں وزیر بھی تھے، نے طنزیہ لہجے میں شکوہ کیا، کہ پارٹی کو دیگر فرقوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ قرار داد صرف مسلمانوں کے ایشوز سے بھری پڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیشوں کی شناخت کرکے ان کو ملک بدر کرنا، جموں و کشمیر کی خصوصی حثییت ختم کرنا، یونیفارم سول کورڈ لاگو کرنا اور بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر، یہ سبھی ایشو مسلمانوں کے متعلق ہی ہیں۔

حال ہی میں جب شمال مشرقی صوبہ آسام میں غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے سے قبل ان کی شناخت کا مرحلہ سات سال بعد اختتام پذیر ہوگیا، تو اس کے نتائج حکمران بی جے پی کے لئے ایک طرح سے سانپ کے منہ میں چھچھوندر والا معاملہ ہوگیا ہے۔ چونکہ یہ بی جے پی کا ہی مرکزی ایجنڈہ تھا، اس لیے نیشنل رجسٹریشن آف اسٹیزنس یعنی این آر سی کی لسٹ، ان سے نگلتے نہ اگلتے بنتی ہے۔ نگلے تو اندھا، اگلے تو کوڑھی والی مثال ہندو فرقہ پرستوں پر صادق آرہی ہے۔

سپریم کورٹ کی مانیٹرنگ میں سات سال کی عرق ریزی کے بعد صوبہ کی 39.9 ملین آبادی میں ایک تو محض 19 لاکھ چھ ہزار افراد ہی ایسے پائے گئے جو شہریت ثابت نہیں کر پائے۔ دوسرا گراونڈ پر کام کرنے والے رضا کاروں کے مطابق ان میں سے 11 لاکھ افراد ہندو ہیں اور صرف آٹھ لاکھ ہی مسلمان ہیں۔ اْن میں بھی بیشتر ایسے ہیں جن سے فارم وغیرہ بھرنے میں غلطیاں ہوگئی تھیں، خاندان کے متعدد افراد میں ناموں کی اسپیلنگ کا فرق ہے۔

ابھی چار ماہ کا وقت اپیل کے لئے اور ناموں کی تصحیح کے لئے دیا گیا ہے۔ رضا کاروں کا کہنا ہے کہ ا ن میں سے بھی بیشتر فہرست میں شامل ہوجائیں گے۔ چونکہ 2011 کی مردم شماری کے مطابق آسام میں مسلمانوں کی آبادی 34.22 فیصد ہے اور تناسب کے اعتبار سے بھارت میں جموں و کشمیر کے بعد مسلمانوں کی سب سے بڑی آبادی ہے، 9 اضلاع میں ان کی واضع اکثریت ہے، جو فرقہ پرستوں کی آنکھوں میں کھٹکتی آرہی ہے۔ گزشتہ سال این آرسی کی پہلی فہرست آئی تھی اْس میں تقریبا چالیس لاکھ افراد کے نام شامل نہیں تھے، فہرست میں بے شمار غلطیاں تھیں۔

بہت سے ایسے تھے جن کانام توشامل تھا ان کے لڑکوں کا نہیں تھا، کسی لڑکے کا تھا تو اْس کے والدین میں دونوں یا کسی ایک کا نام شامل نہیں تھا، ایسا بھی تھا کہ ماں کی جگہ بیوی کا نام، بیوی کی جگہ بہن کا نام درج کیا گیا تھا۔ اْس کے بعد دوبارہ مہلت دی گئی تاکہ جو شامل ہونے سے رہ گیا ہے وہ اپنی دستاویزات دکھا کر اپنا نام شامل کرائے۔ جن کا نام غلط درج ہوگیا ہے وہ تصحیح کرالیں۔ سپریم کورٹ کی جانب سے حتمی فہرست جاری کرنے کی تاریخ 31 اگست رکھی گئی تھی۔

ابھجیت شرما، جن کی درخواست پر سپریم کورٹ نے شہریوں کی شناخت کرنے کا آپریشن شروع کیا تھا، کا کہنا ہے کہ نتائج ان کی توقع کے برعکس ہیں۔ گوہاٹی سے فون پر راقم سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی افراد کی تعداد 40 سے 50 لاکھ کے قریب ہونی چاہیے تھی۔ فی الحال جن 19 لاکھ افراد کی شہریت پر سوالیہ نشان لگا ہے، ان میں بیشتر ایسے لوگ ہیں، جو صدیوں سے آسام میں رہ رہے ہیں۔ شرما نے اب سپریم کورٹ میں شہریوں کی فہرست کی از سر نو تصدیق کی عرضی دی ہے۔

انہوں نے کورٹ سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ اس پورے عمل کا احتساب بھی کیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس پورے پروسیس پر 13 بلین روپے خرچ ہوئے ہیں۔ اسی طرح بھارتیہ گھورکھا پری سنگھ کی آسام شاخ کے سربراہ نیتیانند اوپادھیائے نے بتایا کہ ان کی کمیونٹی کے تقریباً ایک لاکھ افراد شہریت کی فہرست میں نہیں ہیں۔ یعنی ان کو غیر ملکی قرار دیا گیا ہے۔ نیپال نژاد گھورکھا بھارتی فوج میں کام کرتے ہیں۔ ان کی شہریت سے بے دخلی کے دورس نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔

آل آسام اسٹوڈنٹس یونین، جس نے 80 ء کی دہائی میں آسامی بنام غیر آسامی کے ایشو کو لے کر ایجی ٹیشن کی قیادت کی، کا کہنا ہے کہ این آر سی کی فہرست ان کو منظور نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تعداد حکومت کے اپنے اعداد و شمار سے بھی کم ہیں۔ 2016 میں وزیر مملکت برائے داخلہ نے پارلیمان کو بتایا تھا کہ ملک بھر میں تقریباً 20 ملین غیر قانونی بنگلہ دیشی مقیم ہیں۔ اس سے قبل 2004 میں ایک اور وزیر داخلہ سری پرکاش جیسوال نے یہ تعداد 12 ملین بتائی تھی اور ان کا کہنا تھا اس میں پانچ ملین آسام میں مقیم ہیں۔

بی جے پی، جو آسام اور مرکز میں برسراقتدار ہے اب مطالبہ کر رہی ہے کہ برہمپتر ویلی کے سبھی ضلعوں اور بارک ویلی کے دو ضلعوں کی 20 فیصد آبادی کی ازسر نو تصدیق ہونی چاہیے۔ جغرافیائی اعتبار سے صوبہ آسام تین حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ لور (نشیبی) آسام جو مغربی علاقہ ہے، اَپر (بالائی) آسام جو مشرقی علاقہ ہے اور بارک ویلی جو جنوب میں واقع ہے۔ 2019 ء کے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی نے ریاست کی 14 میں سے نو پارلیمانی حلقوں میں کامیابی حاصل کی۔

آسام کی آبادی کے تناسب پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ بنیادی طور پر ایک قبائلی ریاست ہے جہاں کی تقریباً 40 فیصد آبادی مختلف قبائل پر مشتمل ہے، مگر ان کو زبردستی ایک تو ہندو بنا کر رکھا گیا ہے اور دوسرے مسلمانوں اور بنگلہ دیشی پناہ گزینوں کے نام پر ان کو خوف کی نفسیات میں مبتلا کرکے بی جے پی صوبہ میں زمین اپنے حق میں ہموارکر نے میں کامیاب ہوگئی۔ (جاری ہے ) معروف تجزیہ کار کلیان بروا کا کہنا ہے کہ مسلم اکثریتی علاقوں میں نہایت کم افراد ہی غیر ملکیوں کی فہرست میں شامل کیے گئے ہیں۔

ان کے مطابق جب یہ ایکسرسائز شروع ہو گئی تھی، تو چونکہ لگتا تھا اس کا ٹارگٹ مسلمان ہی ہوں گے ، اس لیے مسلم تنظیموں خاص طور پر جمعیت علماء ہند، اس کے مقامی لیڈر بد رالدین اجمل، ان کے ساتھیوں اور کئی غیر سرکاری تنظیموں نے مسلمانوں کو دستاویزات تیار کروانے اور قانونی مدد فراہم کروانے میں کلیدی رول ادا کیا۔ اجمل، جو آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (اے آئی یو ڈی ایف) کے سربراہ اور لوک سبھا کے ممبر بھی ہیں، نے پچھلے ایک سال سے دیہاتوں میں ہی ڈیرا ڈالا ہوا تھا، تاکہ علاقہ کے سبھی افراد کو مطلوبہ دستاویز تیار کروانے میں مدد کی جاسکے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڈھ مسلم یونیورسٹی اور کئی دیگر اداروں کے قانون کے طلبہ نے بھی رضاکارانہ طور پر ان کی مدد کی۔ دور دراز کے علاقوں میں پہنچ کر ان نوجوانوں نے شہریت ثابت کرنے کے لئے مطلوب دستاویزات تیار کروانے میں لوگو ں کی مدد کی۔ بروا کے مطابق چونکہ ہندو اس عمل سے زیادہ خائف نہیں تھے، انہوں نے اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا، جس کی وجہ سے ان کی خاصی تعداد شہریت کی لسٹ سے باہر ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ریاست میں بی جے پی کی حالت اسوقت قابل رحم ہے۔

اب جبکہ ان کے ہی ووٹروں کی اچھی خاصی تعداد غیر ملکیوں کے زمرے میں آگئی ہے، بی جے پی کے لیڈران نے اس این آر سی کے پورے عمل پر ہی سوالیہ نشان کھڑے کر دیے ہیں۔ آسام کے وزیر خزانہ اور شمال مشرق میں بی جے پی کے مقتدر لیڈر ہیمنتا بیسواسرما نے این آر سی کے عمل میں متعین افسران پر اپنا غصہ اتارا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان افسران نے 1971 میں بنگلہ دیش سے ہجرت کرکے آئے ہندو ں کو دی گئی ریفوجی اسناد کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔

ان کے مطابق بھگوان کرشنا اور بھگوتی درگا کے ماننے والوں کو غیر بھارتیہ قرار دیا گیا ہے۔ بی جے پی کے لیڈران اب اس این آر سی کے عمل کو پورے ملک میں لاگو کروانا چاہتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ آسام میں غیر قانونی طورپر مقیم بنگلہ دیشی اب ملک کے دیگر علاقوں میں بس گئے ہیں۔ اب اگر آسام کی طرز کا آپریشن پورے ملک میں لاگو کیا جاتا ہے تو اسپر ایک اندازہ کے مطابق 17 ٹریلین روپے درکار ہوں گے ۔ ریفوجی ایشوز پر کام کرنے والے سہاس چکمہ کا کہنا ہے آسام میں آبادی کو یہ ثابت کرنا تھا کہ 24 مارچ 1971 سے قبل وہ اسی صوبہ میں مقیم تھے۔

ان کے مطابق 1971 میں آسام کی 66 فیصد آبادی ناخواندہ تھی۔ ان کے پاس تعلیمی اسناد تو تھی ہی نہیں، تو آخر کہاں سے پیدائشی سند حاصل کرتے۔ اس عمل میں اکثر بے زمین مزدور شہریت ثابت کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ چکما کا کہنا ہے کہ چائے کے باغان میں کام کرنے والے قبائلیوں کو چھوڑ کر کوئی بھی کمیونٹی آسام کی اصل رہائشی ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔ آل انڈیا ڈیموکریٹک فرنٹ کے جنرل سیکرٹری امین الاسلام کا کہنا ہے کہ پچھلے 40 برسوں سے مسلمانوں کے سروں پر شہریت کی جو تلوار لٹک رہی تھی، وہ ہٹ گئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق شہریت کا پیمانہ مذہب نہیں، بلکہ 1985 کا آسام ایکارڈ تھا، جس کی رو سے مارچ 1971 تک آسام میں رہنے والوں کو شہری تسلیم کرنا تھا۔ سپریم کورٹ نے تین مرحلوں کی جس ایکسرسائز کا حکم دیا تھا، اس میں پہلا مرحلہ یعنی شناخت کا مرحلہ ختم ہو گیا ہے۔ دوسرا مرحلہ ووٹر اور شہریت کی لسٹ سے ایسے افراد کا اخراج کرنا ہے۔ تیسرے مرحلے میں ملک بدر کرنا۔ حکومت کو اب یہ غم ستا رہا ہے کہ ہندوں کی اتنی بڑی تعداد کو کہاں بھیجیں۔

اس لیے پارلیمان کے اگلے اجلاس میں مودی حکومت شہریت کے قانون میں ترمیم کرنے کا ایک بل دوبارہ پیش کر رہی ہے۔ یہ بل 2016 کو لوک سبھا میں پیش ہوا تھا، اور بعد میں منظور بھی ہوا تھا۔ مگر راجیہ سبھا نے اس کو رد کردیا۔ اس کے مطابق بنگلہ دیش، پاکستان، ا ور افغانستان سے بھارت آنے والے ہندو، سکھ، جین اور پارسی بھارتی شہریت کے حقدار ہوں گے ، اس کے لئے ان کو کوئی بھی ڈاکومینٹ پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ یعنی اگر ملک بدر یا نظر بند ہوں گے تو، صرف مسلمان ہی ہوں گے ۔

مگر اس مجوزہ قانون پر پہلے ہی آسامی ہندو ں کی طرف سے مزاحمت ہو رہی ہے۔ تقسیم ہند اور 1971 میں سقوط مشرقی پاکستان کے وقفہ کے دوران تقریباً ایک کروڑ افراد ہجرت کرکے شمال مشرقی ریاستوں میں بس گئے تھے۔ پاکستان کو سفارتی سطح پر زچ کرنے کے لئے سرحدیں کھول دی گئیں تھیں اور اس طرح کی ہجرت کی حوصلہ افزائی بھی کی جارہی تھی۔ جب بنگلہ دیش وجود میں آیا تو اکثر لوگ واپس چلے گئیْ۔ 1978 سے 1985 کے درمیان آل آسام سٹوڈنٹس (آسو) سمیت کچھ تنظیموں نے پرپگنڈہ شروع کیا کہ بہت سے پناہ گزین بنگلہ دیش جانے کے بجائے آسام میں بس گئے ہیں۔

1978 ء میں ہوئے اسمبلی کے انتخابات میں 17 مسلمان منتخب ہو گئے تھے۔ بس پھرکیا تھا، آسمان سر پر اٹھا لیا گیا کہ آسام کو ”اسلامی ریاست“ میں تبدیل کرنے کے لئے بنگلہ دیشی مسلمانوں کا ایک ریلا چلا آرہا ہے۔ پہلے تو غیر آسامیوں یعنی ہندی بولنے والوں کے خلاف تحریک شروع کی گئی، پھر اس کا رخ غیر ملکیوں اور خاص کر بنگلہ دیشیوں کے خلاف موڑ دیا گیا بعدازاں اسے آر ایس ایس اور دیگر فرقہ پرستوں کی شہ پر خونریز مسلم مخالف تحریک میں تبدیل کردیا گیا۔

اس خوفناک اور خوں آشام تحریک نے ہزاروں بے گناہوں کی جانیں لیں اورکروڑوں روپئے مالیت کی جائیدادیں تباہ و برباد کی گئیں۔ آسام کی تاریخ گواہ ہے کہ غیر ملکی اور خاص کر بنگلہ دیشی ہونے کا الزام لگا کر مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی جس میں 1983 کا نیلی اور چولکاوا کے قتل عام کے روح فرسا واقعات کبھی فراموش نہیں کیے جاسکتے جس میں تقریبا تین ہزار (غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دس ہزار) افراد کو محض چھ گھنٹوں میں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا مگر متاثرین کو آج تک انصاف نہیں مل سکا۔

1985 میں اس وقت کے وزیر اعظم راجیو گاندھی کی نگرانی میں مرکزی حکومت، آسام حکومت او ر احتجاجی طلبہ لیڈروں کے درمیان باہمی رضامندی سے آسام آکارڈ وجود میں آیا اور اس وقت کی تمام سیاسی اور غیر سیاسی جماعتوں نے اسے قبول کیا تھا۔ پولیس نے نیلی قتل عام میں ملوث کئی سو افراد کے خلاف فرد جرم عائد کی مگرآسام اکارڈکی ایک شرط کے تحت کیسز واپس لئے گئے ’اور آج تک اس نسل کشی کے لئے کسی کو سزا ملی نہ ہی کسی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔

اس واقعے کو ایسے دبا دیا گیا جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔ بنگالی مسلمانوں کے خلاف یہ مہم چلانے والی آل آسام سٹوڈنٹس یونین کے بطن سے نکلی آسام گن پریشد کو بطور انعام اقتدار سونپ دیا گیا۔ ایکارڈ کے مطابق مارچ 1971 (Cut off date ) بنیاد مان کر اس سے پہلے آسام آکر بس جانے والوں کو شہری تسلیم کیا گیا تھا۔ چنانچہ اس معاہدہ کے بعد مر کزی حکومت نے پارلیمنٹ میں ایک ترمیمی بل کے ذریعہ Citizenship Act۔ 1955 میں section 6۔

A داخل کر کے اسے منظوری دی جس پر اس وقت کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا بلکہ تمام سیاسی جماعتوں بشمول کانگریس، بی جے پی، کمیونسٹ جماعتوں نیز تمام غیر سیاسی وسماجی تنظیموں نے بھی اسے تسلیم کیا تھا۔ مگرچونکہ یہ مسئلہ ریاست میں مسلمانوں کی ایک سیاسی قوت بننے سے روکنے کی غرض سے کھڑا کیا گیا ہے۔ اس لئے 2009 میں اور پھر 2012 میں آسام سنمیلیٹا مہا سنگھ۔ سمیت مختلف فرقہ پرست اور مفاد پرست افراد اور تنظیموں نے سپریم کورٹ میں اس معاہدہ کے خلاف مفاد عامہ کی ایک عرضداشت داخل کرکے 5 مارچ 1971 کی بجائے 1951 کی ووٹر لسٹ کو بنیاد بناکر آسام میں شہریت کا فیصلہ کرنے کی استدعا کی نیز اس معاہدہ کی قانونی حیثیت اور پارلیمنٹ کے ذریعہ Citizenship Act۔

1955 میں Section 6۔ A کے اندراج کو بھی چیلنج کیا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ نے 1971 کو بنیاد تسلیم کرتے ہوئے شہریوں کی ایک نئی لسٹ تیار کرنے کا فرمان جاری کیا۔ ممبر پارلیمنٹ اجمل نے جو ریاست کی ڈھبری حلقہ سے پارلیمنٹ میں نمائندگی کرتے ہیں اور ان کی جماعت کے ریاستی اسمبلی میں 13 ارکان ہیں، سابق کانگریسی وزیر اعلی ترون گو گوئی کو خاص طور سے نشانہ بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس نے اپنے پندرہ سالہ دور حکومت میں ( 2001۔

2016 ) ریاست کی لسانی اور مذہبی اقلیتوں کو تین کاری ضربیں لگائیں۔ پہلے انہوں نے 2005 میں آئی ایم ڈی ٹی ایکٹ کا سپریم کورٹ میں کمزور دفاع کرکے اس کو منسوخ کرایا جس کے تحت کسی شخص کو غیر ملکی ثابت کرنے کی ذمہ داری انتظامیہ پر تھی۔ بنگلہ دیشی دراندازوں کا پتہ لگانے اور شناخت کرنے کی غرض سے آئی ایم ڈی ٹی ایکٹ 1983 میں پاس کیا گیا تھا۔ اس ایکٹ کے تحت کسی فرد کو غیر ملکی ثابت کرنے کی ذمہ داری استغاثہ پر تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد اس کو ختم کردیا گیا۔ اس کے بعد ان کی حکومت نے آسام میں ”بارڈر پولس ڈیپارٹمنٹ“ تشکیل دے کر اسے اس بات کا مکمل اختیا دے دیا کہ وہ جسے چاہے غیر ملکی قرار دے کر گرفتار کر سکتا ہے۔ ہزاروں معصوم لوگ اس ڈپارٹمنٹ کے ظلم و ستم کا شکار ہو چکے ہیں۔ واضح رہے کہ ملک کی دیگر ریاستوں میں اس طرح کا کوئی محکمہ نہیں ہے۔ مزید ستم یہ کیا گیا کہ جن لوگوں کو گرفتار کرکے۔ حراستی مراکز میں ڈالا گیا ان سے راشن کار ڈ چھین لئے گئے۔

خواتین کے معاملے میں شہریت کے ثبوت کے طور پر گاوٗں پنچایت کے سرٹیفکیٹ کو تسلیم نہ کیے جانے کا فیصلہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد ہوا۔ جس کو بعد میں سپریم کورٹ کے حکم پر بحال کر دیا گیا۔ مسلمانوں کو کس حد تک پاور اسٹریکچر سے باہر رکھنے کا کام کیا گیا، اس کی واضع مثال بھارتی حکومت اور بوڈو لبریشن ٹائیگرز کے درمیان 2005 کا معاہدہ ہے، جس کی رو سے آسام کے کھوکھرا جار اور گوپال پاڑہ میں بوڈو علاقائی کونسل قائم کی۔

یہ معاہدہ جنوبی افریقہ کی سفید فام اقلیت کے نسلی حکمرانی (اپارتھیڈ رول) کی یاد دلاتا ہے کیونکہ جن اضلاع میں یہ کونسل قائم کی گئی‘ ان میں بوڈو قبائل کی تعداد محض 28 فیصد ہے۔ بنگالی بولنے والی آبادی نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے 80 ء کی دہائی میں یونائیٹڈ مائنارٹیز فرنٹ کے نام سے ایک سیاسی تنظیم بنائی تھی لیکن یہ تجربہ باہمی اختلافات کی وجہ سے زیادہ کامیاب نہ ہو سکا ’حالانکہ اسے اسمبلی اور پارلیمنٹ میں قابل ذکر کامیابی ملی تھی۔

فرنٹ سے منتخب ہونے والے رکن پارلیمان بیرسٹر ایف ایم غلام عثمانی (مرحوم) اور دیگر لیڈر کانگریس میں چلے گئے۔ ریاست کے حالات اور کانگریسی حکومت کے رویے سے مایوس ہو کر اکتوبر 2005 ء میں اس تجربے کا احیا کیا گیا: چنانچہ صوبے کی 13 ملی تنظیموں نے ایک نیا سیاسی محاذ آل انڈیا ڈیموکریٹک فرنٹ کے نام سے تشکیل دیا۔ اس کی تشکیل میں ایڈووکیٹ عبدالرشید چودھری کا اہم رول رہا، لیکن انہوں نے اس کی قیادت قبول نہیں کی کیونکہ کوئی سیاسی جماعت چلانے کے لئے پیسے کی ضرورت ہوتی ہے : چنانچہ قرعہ فال عْود اور عطر کے بڑے تاجر مولانا بدرالدین اجمل قاسمی کے نام نکلا۔

ان کی قیادت میں فرنٹ ریاست میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت بن گئی۔ ویسے آسام میں ابتدا سے جمعیت العلماء ہند کا خاصا اثر رہا ہے اور ہر چپے پر مدارس نظر آتے ہیں۔ اسلام آسام کا دوسرا بڑا مذہب ہے جہاں 13 ویں صدی میں سلطان بختیار خلجی کے دور میں مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا۔ اسوقت تک آہوم سلطنت وجود میں بھی نہیں آئی تھی۔ جب برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1757 کی جنگ پلاسی کے بعد بنگال پر قبضہ کیا تو اس کے زیر تسلط آسام کا علاقہ بھی آیا۔

کمپنی نے یہاں بڑے پیمانے پر بنگالیوں کو لاکر بسانا شروع کیا اوران لوگوں نے معاشی وجوہات سے اپنے رشتہ داروں کو یہاں بلانا شروع کیا۔ کیونکہ آسام میں زمینیں زرخیز تھیں۔ مشرقی بنگال سے بڑی تعداد میں بے زمین کسان یہاں آکر آباد ہوگئے جن میں 85 فی صد مسلمان تھے۔ آج انہی صدیوں سے آباد مسلمانوں کو غیر ملکی یا بنگلہ دیشی قرار د یکر ان کے لئے زمین تنگ کی جارہی ہے۔ مزید براں یہ کہ ریاست میں دراصل اکثر یت قبائلی فرقوں کی ہے جو کل آبادی کا لگ بھگ 40 فی صد ہیں۔

قبائلیوں کی کل ہند تنظیم راشٹریہ آدیواسی ایکتا پریشد کے نیشنل کو آرڈی نیٹر پریم کمار گیڈو کہتے ہیں کہ آئین ہندکی رو سے قبائلی ہندو نہیں ہیں۔ گیڈم کہتے ہیں کہ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کا فیصلہ بھی موجود ہے جس نے قبائلیوں کو غیر ہندو قرار دیا ہے۔ چنانچہ ریاست میں ہندؤ حقیقی معنوں میں اکثریت میں نہیں ہیں۔ یہ چیز بھی فرقہ پرستوں کو کھٹکتی ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کی شہریت چھیننے اور ان کو بے حیثیت کر نے کی قواعد شروع کی تھی۔

اور یہ معاملہ برما سے بھی سنگین تر ہوتا جا رہا تھا۔ مقتدر کانگریسی لیڈر اور صوبائی اسمبلی کے پہلے ڈپٹی اسپیکر محمد امیرالدین کا خاندان ہو یا سابق فوجی افسر محمد اعظم الحق، ان کو پہلے ووٹر لسٹ سے خارج کر دیا گیا، اور بعد میں انہیں فارن ٹریبونل کی ایک اسپیشل بینچ کے سامنے بھارتی شہریت ثابت کرنے کے لئے کہا گیا۔ گوہاٹی سے 90 کلومیٹر دور بارپیٹہ میں جلد سازی کے ایک کاریگر معین ملا کسی کام کے لئے گھر سے باہر گئے ہوئے تھے، کہ شاہراہ پر پولیس نے ان سے شناختی کارڈ مانگا، جو وہ گھر پر بھول گئے تھے۔

بس انہیں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرکے، پولیس نے غیر ملکی قرار دیکرحراست میں لیا۔ تلاش بسیار کے بعد ان کے خاندان کو پتہ چلا کہ ملا 100 کلومیٹر دور حراستی کیمپ میں نظر بند ہیں اور ان کو بنگلہ دیش بارڈر کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ سرکار ی اعداد و شمار کے مطابق اگست 2017 سے جاری اس کارروائی میں اب تک 89,395 افراد کو غیر ملکی قرار دے کر حراستی کیمپوں میں نظر بند کیا جا چکا تھا۔ انصاف کے دہرے معیار کی اس سے بڑھکر اور کیا مثال ہو سکتی ہے۔

ایک طرف آسام میں مذہب کی بنیاد پر شہریت میں تفریق کی جارہی ہے تو دوسری طرف بھارت کی مرکزی حکومت لاکھوں غیر ملکی ہندو پناہ گزینوں کو شہریت دلانے کے لئے قانون سازی کر رہی ہے۔ اس سے بڑی اور کیا ستم ظریفی ہوسکتی ہے کہ آسام میں تو مقامی ہندو آبادی کی نسلی اور لسانی برتری قائم رکھنے کے لئے لاکھوں افراد کو بنگلہ دیشی جتا کر شہریت سے محروم کر نے کو کوشش ہو رہی ہے، وہیں دوسری طرف جموں و کشمیر کی نسلی، لسانی و مذہبی شناخت کو ختم کرنے کے لئے علانیہ دوہرے پیمانے صرف اس لیے اختیار کیے جا رہے ہیں کہ آسام کی 35 فیصد اور جموں و کشمیر کی 68 فیصد مسلم آبادی ہندو فرقہ پرستوں اور موجودہ بھارتی حکومت کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹک رہی ہے۔ بھارتی حکومت کے حالیہ اقدامات عندیہ دے رہے ہیں کہ ہندو فرقہ پرست دیگر ریاستوں سے ہندو آبادی کو کشمیر میں بساکر مقامی کشمیری مسلمانوں کو اپنے ہی وطن میں اقلیت میں تبدیل کروانے کے فراق میں ہیں
بشکریہ روزنامہ 92۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •