روہتاس میں مائی رانی کا تعزیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جی ٹی روڈ پر ضلع جہلم کے بڑے قصبے دینہ کی عالمی شہرت معروف بھارتی فلم ڈائریکٹر، شاعر اور کہانی نویس گلزار کی جنم بھومی ہونا ہے اور قومی لحاظ سے یہ بابائے ظرافت ضمیر جعفری کا شہر ہے۔ گلزار کا بچپن دینہ کے مرزا محلہ میں گزرا اور ضمیر جعفری دینہ کے نواحی گاؤں چک عبدالخالق کے باسی تھے۔ راولپنڈی سے لاہور کی جانب عازم سفر ہوں تو تو دینہ شہر سے باہر نکلتے ہی ریلوے لائن پر بنے اوور ہیڈ برج کو کراس کرتے ہوئے دائیں جانب نظر اٹھائیں تو تو قلعہ روہتاس کے پرشکوہ لیکن شکستہ برج اور دیواروں کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔

مغل بادشاہ ہمایوں کو شکست دینے کے بعد افغان سردار شیر شاہ سوری نے ہندوستان میں زمام کار سنبھالی تو جی ٹی روڈ کے ساتھ سرائے، باؤلیوں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ جہلم کے علاقے کو سرکش گکھڑ قبائل سے محفوظ رکھنے کے لیے روہتاس قلعہ تعمیر کیا، جو فی زمانہ یونیسکو کی طرف سے عالمی ورثہ قرار دیے جانے کے باوجود ہمیشہ سے حکومت پاکستان کی توجہ کا منتظر رہا ہے۔

اسی روہتاس قلعے کے اندر آباد اہل تشیع اور سنی خاندان قریب ڈیڑھ سو سال سے بر صغیر میں سب سے بڑا تعزیہ تیار کرتے ہیں۔ روہتاس میں تعزیہ کی روایت کے مطابق شیعہ سنی کی تفریق پہلے تھی نہ اب ہے۔ یہاں محلہ ترکھاناں کا تعزیہ، محلہ لوہاراں کا تعزیہ، اور مائی رانی کا تعزیہ تیار کیے جاتے ہیں۔ علم کی تعداد کا تو کوئی شمار ہی نہیں۔ ان تعزیوں کی تیاری میں شیعہ اور سنی نوجوان سارا سال سرگرم ہوتے ہیں۔ ایک مقابلے کی سی فضا ہوتی ہے۔

دو منزلہ تعزیہ پاکستان کے دوسرے شہروں میں بھی تیار کیے جاتے ہوں گے لیکن روہتاس کے تعزیوں کی اپنی پہچان ہے۔ ترکھانوں کے محلے کا سبز تعزیہ اور لوہاروں کے محلے کا سرخ تعزیہ بڑے جوش و خروش سے بنتے ہیں۔ سفید تعزیہ کسی ایک خاندان کی پہچان نہیں یہ مشترکہ طور پر بنتا ہے اور اس کی اہمیت بھی سب سے زیادہ ہے۔ لیکن ان سب میں ایک منفرد حیثیت مائی رانی کے تعزیے کو حاصل ہے۔

مقامی روایات کے مطابق مائی رانی تقسیم ہند سے قبل ایک گائیکہ تھی جو تائب ہوئی اور پھر نیکی کی راہ اختیار کرنے کی خواہش میں تعزیہ بنانے کی طرف مائل ہوئی۔ مائی رانی کا گھر تنگ گلی میں تھا، کوئی کھلا میدان قریب نہ تھا، اس لیے مائی رانی نے تعزیہ گھر کی چھت پر تیار کیا، اس تعزیے کو ایک بڑے اکٹھ کی شکل میں چھت سے نیچے لایا گیا، پھر یہی روایت ٹھہری کہ مائی رانی کا تعزیہ چھت پر بنے گا اور پھر عاشورہ محرم میں اسے چھت سے نیچے اتارنے کی تقریب ہو گی۔

گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مائی رانی کے تعزیے کا سائز دو منزلہ ہو گیا اور اسے ایک دو منزلہ مکان کی چھت پر بنایا جاتا ہے۔ اسے تنگ گلیوں کے اندر واقع مکان کی چھت سے اتارنا اور میدان تک لے جانا معرکے کا کام ہے اور یہی معرکہ دیکھنے اور سننے کی چیز ہے۔ کوئی سائنس کا اصول اور اس فارمولے کو نہیں مانتا جس اصول، فارمولے اور طریقے کے مطابق مائی رانی کا تعزیہ چھت سے نیچے اترتا ہے۔ لیکن اس سے قبل ایک مجلس ہوتی ہے جس میں ایک اچھا پڑھنے والا ”مینڈے سنی تے شیعہ بھراؤ“ کے الفاظ پکار کر مجلس پڑھنا شروع کرتا ہے۔ قیام پاکستان سے قبل اس مجلس میں ہندو اور سکھ نوجوان بھی بڑی تعداد میں شامل ہوتے تھے، قیام پاکستان کے بعد ہندوؤں کا تعزیہ تو سندھ میں تو برآمد ہوتا ہے لیکن روہتاس سے چلے جانے والے ہندو اور سکھ نوجوان اب اس تقریب میں شریک نہیں ہوتے۔

محلہ لوہاراں سے شروع ہونے و الے جلوس کو دیکھنے کے لیے روہتاس کے ارد گرد آباد گاؤں دیہات سے سنی نوجوان، مرد، عورتیں بچے اور بوڑھے سینکڑوں کی تعداد میں پہنچتے ہیں۔ ان سب کے لیے یہ ایک یادگار دن ہوتا ہے۔ بعض منچلے دور دراز کے دیہات سے پیدل سفر کر کے نویں اور دسویں محرم کی درمیانی رات کو ہونے والی مجلس کا منظر دیکھنے کے لیے جاتے ہیں۔ اسے علاقے میں قتل کی رات کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یورپ مشرق وسطیٰ اور مشرق بعید میں روزگار کے لیے مقیم مقامی لوگ عاشورے کی تاریخوں کے مطابق وطن واپسی کے پروگرام اب بھی بناتے ہیں کہ عاشورے کے موقع پر روہتاس اکٹھے چلیں گے۔

یہی دن ہیں جب روہتاس میں مشہور زمانہ جلیبی اور امرہسے کی دکانیں سجتی ہیں۔ دکاندار لاکھوں کا کاروبار کرتے ہیں۔ نوجوان، بچے، بوڑھے کھانے پینے کے سامان کی پوٹلیاں اٹھائے شام تک گھروں کو لوٹتے ہیں۔ کوئی تفریق پہلے تھی نہ اب ہے۔ مرثیہ لکھنے وار پڑھنے والے پہلے بھی شعیہ اور سنی دونوں تھے اور آج بھی ہیں۔ شادی بیاہ کی روایات میں دوں وں برابر کے شریک ہیں۔ محلہ لوہاراں سے اٹھایا جانے والا سبز تعزیہ آج بھی شیعہ اور سنی نوجوان میدان میں لاتے ہیں۔ اہل تشیع زنجیر زنی کرتے ہیں۔ ماسٹر عاشق حسین کے مزار پر حاضری کے بعد یہیں سے ترکھانوں کا سرخ تعزیہ بھی پہنچتا ہے۔ لیکن سفید تعزیہ جو اشتراک اور اتفاق کی علامت ہے انتظار کے بعد یہاں لایا جاتا ہے۔ جسے سب مل کر سلامی دیتے ہیں۔ ذوالجناح برآمد ہوتا ہے تو گاؤں دیہات سے آنے والی سنی عورتیں بھی منتیں مانتی اور نیچے سے گزرتی ہیں۔

اس میں سے کوئی بھی منظر سنا ہوا یا کسی کا بتایا ہوا نہیں ہے بلکہ روہتاس سے چند کلو میٹر کے فاصلے پر واقع اپنے گاؤں سے جا کر یہ منظر میں اپنی آنکھوں سے دیکھتا رہا ہوں۔ پچاس سال قبل میرے والد مرحوم لندن سے گاؤں آتے اور کندھوں پر بٹھا کر روہتاس لے جاتے، جلوس کے گرد جمع ہونے والے لوگوں میں شامل ہو کر مجلس اور زنجیر زنی کا منظر آنکھوں میں نقش ہے۔ والد مرحوم کے کندھوں پر بیٹھ کر تحفظ کا احساس بھی تھا اور تفاخر بھی لیکن اب دونوں منظر رخصت ہو چکے، تحفظ کا احساس اور تفاخر بھی۔

روہتاس میں اس دسویں محرم کو بھی تعزیہ کا جلوس نکلے گا، محلہ لوہاراں اور محلہ ترکھاناں سے تعزیہ برآمد ہو گا، مائی رانی کی چھت سے دو منزلہ تعزیہ اسی جوش و خروش سے اتارا جائے گا، روہتاس سے میرے عزیز دوست سینئر جرنلسٹ مسرور حسین کا کہنا تھا کہ روہتاس میں وقت ٹھہر سا گیا ہے اور سب روایات اسی طرح سے قائم ہیں جس طرح پچاس سال قبل تھیں لیکن اب تو مسرور حسین بھی اس دنیا سے رخصت ہو چکا، نصف صدی کی روایات کے بارے میں کیا کہوں۔ کاش اے کاش۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •