گیس ٹیکس کی واپسی: شاہد خاقان عباسی اور عمران خان کے فیصلے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فرمایا۔ بنو انصاف کی گواہی دینے والے کہ لوگوں کی عداوت تمھیں بے انصافی پر آمادہ نہ کردے۔ فرمایا سچ میں نجات اور جھوٹ میں ہلاکت ہے۔ وطنِ عزیز میں کہ روّیے بغض، عناد اور بے انصافی پر مبنی ہو چکے۔ جھوٹ سے کراہت مٹ چکی۔ معاشرہ گروہوں میں بری طرح تقسیم ہے۔ افراتفری کاعالم ہے کہ کھلی آنکھوں سے حقیقت کو دیکھتے ہیں مگر اپنے اپنے گروہی حصاروں میں ڈٹے کھڑے ہیں کہ یہی اب وفاداری اور بہادری کا پیمانہ ٹھہرا۔

فرمایا یہ نا دیکھ کہ کون کہہ رہا ہے یہ دیکھ کہ کیا کہہ رہا ہے! متحارب جتھوں کو مگر حکمت سے نہیں، نفرت سے سروکار ہے۔ مخالف کے منہ سے ڈھنگ کی بات بھی سننے کو روادار نہیں۔ گروہی وابستگیاں اس طرح واشگاف ہو چکیں کہ گویاپیشانیوں پر رقم ہیں۔ وکیل ہوں، معاشی ماہر ہوں یا تجزیہ کار، بس نام ہی کافی ہے۔ کوئی بھی معاملہ ہو، کوئی بھی الجھن درپیش ہو، متعین رائے سب کی برہنہ پڑی ہے۔ اب تو اخباری رپوٹرز بھی کھلم کھلا سیاسی و گروہی وابستگیاں رکھتے ہیں۔

سٹوری پڑھے بغیر صرف رپورٹر کا نام دیکھ کر رپورٹ کے متن کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اداروں سے پرخاش رکھنے والے ناقدین ہر دور میں موجود رہے بالعموم بائیں بازو کے دانشور اور قوم پرست کہ مخاصمت جن کی اچھے برے اصول و نظریات پر استوار رہتی۔ چار عشرے قبل ضیاء الحق کے مارشل لائی دور میں لفٹین کوئٹہ کینٹ میں تعینات تھا کہ بلوچستان کی کسی دورافتادہ بستی میں قوم پرست نوجوانوں کے جلسے میں کی گئی تقریروں کے متن کا ترجمہ انگریزی میں کرنے کا حکم ملا۔

معلوم ہوا کہ نوجوان قوم پرست پنجابی فوج سے نالاں ہیں۔ حکومت سے بلوچستان کی آزادی اور روس سے گوادر کی بندر گاہ تعمیر کرکے ان قوم پرستوں کے حوالے کرنے کے بلند آہنگ مطالبات کررہے تھے۔ سابق صوبہ سرحد میں سرخ پوش افغانستان سے نمو پاتے تھے۔ بھلا ہو خاتون کے سوشل میڈیا سیل کاکہ اب اداروں کے خلاف پنجابی جتھے بھی کارفرما ہیں۔ اکثر بے روز گار اور نیم خواندہ، مگر خود پسندی میں مبتلا۔ کتابیں نہیں پڑھتے۔ تاریخ سے بے بہرہ۔ بس سوشل میڈیا پر زندگی بسر کرتے ہیں۔ جمہوریت اور سول بالادستی کے نام پر جن کے دلوں میں کدورت بھردی گئی ہے۔ سوشل میڈیا کہ تحقیق سے بے زار معاشرے کو خوب موافق ہے کہ جس کے افراد کی گزر بسرفوٹو شاپ پوسٹوں، گمنام اکاؤنٹس کی گالم گلوچ اورنفرت بھرے ٹویٹس پر ہو۔

میں کہ ناتو معاشیات کا ماہر ہوں، نا تو کوئی دانشوراورناہی اس حکومت کا ترجمان ہوں۔ گیس سے چلنے والی صنعتوں پر صدر زرداری کے دورِ حکومت میں لاگو ترقیاتی ٹیکس کے معاملے سے مگر بنیادی آگاہی رکھتا ہوں۔ حالیہ صدارتی آرڈینینس کے نتیجے میں اٹھے طوفان پر انگشتِ بدنداں ہوں۔ سوشل میڈیا کی غیرسنجیدگی تو قابلِ فہم ہے۔ مگر حیران ہوں کہ مین سٹریم میڈیا پر بھی لوگ حقائق چھپاتے ہیں۔ آدھا سچ بولتے ہیں یا تو پھر سچ سے آگاہ نہیں ہوتے۔

اپنے دوادوار ملا کر دونوں بڑی سیاسی جماعتیں، صنعتوں بشمول سی این جی سیکٹر پر بین الاقوامی گیس پائپ لائنز بچھانے کی خاطر عائید کردہ ٹیکس کی وصولی میں ناکام رہیں۔ بے بسی سے عدالتوں کو تکتی رہیں کہ صنعتوں نے سٹے آرڈرز لے رکھے تھے۔ 700 ارب روپے کے لگ بھگ ادائیگیوں کا معاملہ نمٹانے کے لئے شاہد خاقان عباسی صاحب نے صنعتوں سے ’آؤٹ آف کورٹ‘ معاہدہ کیا۔ چنانچہ جون 2018 ء میں ایک ’ایکٹ آف پارلیمنٹ‘ کے تحت سال 2015 ء تک واجب الادا ٹیکس میں سے نصف کی ادائیگی معاف کر دی گئی، بشرطیکہ صنعتیں اور سی این جی سیکٹر بقیہ نصف تین ماہ کے اندر حکومت کو ادا کرتے ہوئے تمام سٹے آرڈرر واپس لے لیں۔

بھاری تعداد میں اس مراعت سے فائدہ اٹھایا گیا تاہم کچھ عناصر جو نصف دینے کو بھی تیار نہیں تھے دوبارہ کورٹ سے سٹے آرڈر لے کر بیٹھ گئے۔ پی ٹی آئی کی حکومت میں اسد عمر صاحب نے 2015 سے 2018 ء تک کے عرصے کے لئے بالکل انہی شرائط پر صنعتکاروں اور سی این جی سیکٹر سے ایک بار پھر معاملہ کیا۔ ان کی وزارت چلی گئی مگر معاہدہ برقرار رہا۔ عدالتوں میں جا بجا بکھرے مقدمات سمیٹے جانے کی خاطر گزشتہ ہفتے جسے ایک صدارتی آرڈینینس کے ذریعے نافذ کردیا گیا۔ مطلوب اس واجب الادا ٹیکس کے نصف کی وصولی بھی تھی کہ جس کے نفاذ کے خلاف ملک کی اعلیٰ ترین عدالتیں صنعتکاروں اور سی این جی سیکٹرکے حق میں ایک بار فیصلہ دے چکی ہیں۔

طوفان کی ابتداء سوشل میڈیا سے ہی ہوئی۔ جانے پہچانے چہرے کہ جن میں سیاست دان، صحافی اور تجزیہ کار سبھی شامل تھے حکومت پر چڑھ دوڑے۔ ’ریاستِ مدینہ‘ کو آڑے ہاتھوں لیا جانے لگا کہ جہاں با اثرصنعتکاروں کو نوازنے کے لیے اربوں روپے کے ٹیکس معاف کر کے قومی خزانے پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ دن بھر سوشل میڈیا پرآگ برسانے والے اب سرِشام اپنے اپنے سٹوڈیوز میں آکر محاذ سنبھال چکے تھے۔ جب ایک ’سٹار‘ میزبان نے واجب الادا ٹیکس کو ’قرضوں‘ میں بدلتے ہوئے کہیں سے وزیراعظم کا ایک پرانا کلپ ڈھونڈ کر چلایا کہ جس میں وہ قرضوں کی معافی کو قومی جرم قرار دے رہے تھے تو ٹی وی بندکرتے ہی بنی۔

کیا ٹیکس اور قرضے کو گڈ مڈ کرنے والے اصل حقیقت سے آگاہی نہیں رکھتے، ہوم ورک نہیں کرتے یا کہ جان بوجھ کر نا انصافی برت رہے تھے! دباؤ میں آکر حکومت نے صدارتی حکم نامہ واپس لے لیا ہے اور معاملہ اب واپس سپریم کورٹ میں جا چکا۔ جناب احسن اقبال نے ٹویٹر پیغام میں حکومتی پسپائی کو اپنی فتح قرار دیتے ہوئے حکومت کی نا اہلی پر اسے آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ سوشل میڈیا اور ٹی وی چینلز پر اٹھنے والا طوفان ایک دم سے تھم چکا۔

متحارب جتھے کسی اور شکار کی تلاش میں اب کسی اور سمت کو نکل چکے۔ جی آئی ڈی سی کا معاملہ مگر ایک بار پھر اندھے کنویں میں جا گرا ہے۔ عدالتوں سے کوئی فیصلہ آنے تک عوام سو فیصد شرح سے ٹیکس ادا کرتے رہیں گے۔ ’ٹایم منی ویلیو‘ کے اصول کے تحت صنعتکار اور حکومت بالترتیب فائدہ اور خسارہ سمیٹتے رہیں گے۔ میں کہ نفع ونقصان کا کوئی میزانیہ ترتیب دینے سے خود کو قاصر پاتا ہوں کہ یہ معاشی امور پر گہری قدرت رکھنے والے افراد کا کام ہے۔

تاہم میں ایک عام پاکستانی کی حیثیت سے جا نناصرف یہ چاہتا ہوں کہ موجودہ حکومت کا صنعتکاروں سے طے کردہ معاہدہ، صرف ایک برس قبل سابقہ حکومت کے انہی صنعتکاروں کے ساتھ طے پانے والے معاہدے سے مختلف کیسے ہے؟ اگر موجودہ حکومت کی جانب سے معاف کردہ ٹیکس قومی خزانے پر ڈاکہ ہے تو جناب شاہد خاقان عباسی صاحب کی ایماء پر جاری ہونے والا ایکٹ آف پارلیمنٹ (جو کہ ہوبہوانہی شرائط پر استوار تھا) قابلِ قبول کیوں کرتھا؟

ہے کوئی اللہ کا بندہ جو گروہی اور جماعتی وابستگیوں سے اٹھ کربات ہمیں سمجھائے؟! وہ کہ جو نفرت کے بیانیے میں غرقاں ہیں، توقع ان سے عبث ہے، مگران سی کہ جن کا جینا مرنا کسی فرد یا گروہ سے نہیں بلکہ اِس ملک سے وابستہ ہے، انصاف پر مبنی بات کی امیدہے! پیسے پیسے کو ترستی، ملکوں ملکوں بھیک مانگتی حکومت کہ جسے ناموافق عدالتی حکم کے نتیجے میں نا صرف یہ کہ واجب الادا ٹیکس کے نصف کی وصولی سے دستبردار ہونا ہوگا، بلکہ گزشتہ حکومتوں کی طرف سے وصول کردہ 228 ارب روپے بھی لوٹانے پڑ سکتے ہیں! اس دوران صنعتوں کی جانب سے گیس ٹیکس کے نام پر صارف سے وصول کردہ اضافی قیمت کی واپسی کا سوال ہرصورت میں جواب کا متقاضی رہے گا۔ صورت حال تو اس بات کا بھی تقاضا کرتی ہے کہ قومی معاملات میں اپنے اپنے حصے کا سچ بولا جائے کہ اسی میں نجات ہے۔
فرمایا، بنو انصاف کی گواہی دینے والے کہ لوگوں کی عداوت تمھیں بے انصافی پر آمادہ نہ کردے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •