گنگا جمنی تہذیب اور محرّم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی میں ”ہم سب“ میں ایک کالم پڑھ رہی تھی محرم کے حوالے سے اور ذکر تھا ”پیک“ کا۔ پیک یا پائک کے ذکر کے ساتھ مجھے چونتیس برس پہلے کا اپنا ہندوستان کا پہلا محرم یاد آگیا، یوں جیسے بھولی بسری کسی ڈائری کا پرانا ورق الٹ جائے۔ میں مشرقی یوپی کے چھوٹے سے شہر بلرام پور میں ہوں۔ سال ہے انیس سو پچاسی اور مکان ہے ”کوٹھی سید صاحب“ جس کے مرکزی حصے میں ہم رہتے ہیں اس کے اطراف ہندؤوں اور مسلمانوں کے ملے جلے مکانات ہیں۔

کوٹھی کی اونچی دیوار سے پڑوسی سنہا صاحب (وکیل) کے گھر کے شوالے کا کلس اور ٹھیک سامنے نواب آصف الدولہ کی بنوائی ہوئی مسجد کے مینار نظر آرہے ہیں۔ بقرعید کا آخری ہفتہ ہے۔ گھر میں غیر معمولی چہل پہل ہے۔ ملازم کے ہاتھ میں ایک لمبا بانس ہے جس پر کپڑا یا جھاڑو بندھی ہوئی ہے۔ اس نے جالے صاف کرنے شروع کیے ہیں۔ اس کے ذمے چونے کاری اور صفائی ستھرائی کا کام ہے۔ واضح کرتی چلوں کہ میں انیّس سو پچاسی میں شادی کے بعد پاکستان سے ہندوستان چلی گئی تھی۔ اس لحاظ سے مجھے تقسیم کی تقریباً چار دہائیاں گزر جانے کے بعد اس گنگا جمنی تہذیب کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا جو ہم نے صرف کہانیوں میں سنی تھی۔ ہاں تو میں ذکر کررہی تھی ہمالیہ کی ترائی میں آباد چھوٹے سے شہر بلرامپور کے محرم کی تیاری کا۔

عثمان علی نے جالے صاف کروائے ہیں۔ اس کے بعد چونا تیار کیا گیاہے۔ اس میں نیل کے قسم کی ایک چیز ڈالی گئی ہے۔ پھرکم از کم دو تین دن کوٹھی کے اس مرکزی حصے اور اس کے اطراف چونے کاری ہوتی ہے۔ فرش دھویا جارہا ہے۔ پھردو بڑے بڑے تخت لائے جارہے ہیں جنہیں اس مستطیل ہال کے آخری سرے پر بچھا دیا جاتا ہے۔ یہ تختوں کو بھی باہر دھو کر پاک کیا گیا ہے پھر اندر لایا گیا ہے۔ اب تخت پر دری ڈال کر چاندنیاں بچھائی گئی ہیں۔

ہال میں تخت کے سامنے اور زمیں پربھی دری اور چاندنی بچھا دی گئی ہے۔ تخت پرضریح رکھ دی گئی ہے اور علم سجادیے گئے ہیں۔ کوٹھی کا یہ مرکزی حصہ جو بارہ دری ہے اس کے دو باہری دروازے عزاخانے میں آمد و رفت کے لئے کھول دیے گئے ہیں۔ ہال میں منبر رکھ دیا گیا ہے۔ جہاں پہلی محرم سے دس محرم تک صبح کے وقت روزانہ مردانہ مجلس انتہائی سادگی کے ساتھ برپاہوتی ہے۔

اس عزا خانے کی تاریخ کم از کم ڈیڑھ سوسال پرانی ہے۔ اس صدی کے اہم ترین شاعر علی سردار جعفری صاحب کی پیدائش اسی کوٹھی کی ہے۔ اسی منبر سے علی سردار جعفری نے 1930 ؁ ء میں ستّرہ سال کی عمر میں اپنا پہلا مرثیہ پیش کیا جس کا پہلا بند ہے ؂

آتا ہے کون شمعِ امامت لئے ہوئے
اپنے جلو میں فوجِ صداقت لئے ہوئے

ہاتھوں میں جامِ سرخ ِشہادت لئے ہوئے
لب پر دعائے بخششِ امّت لئے ہوئے

اللہ رے حسن فاطمہ کے ماہتاب کا
ذرّوں میں چھپتا پھرتا ہے نور آفتاب کا

اور کسی بزرگ نے پوچھا کہ یہ لڑکا کون ہے تو انہوں نے برجستہ اسی منبر سے اپنا تعارف اس طرح پیش کیا کہ ؂
نورِ نظرِ احمدِ مختار ہوں میں
لختِ جگرحیدرِ کرار ہوں میں

ہے فتح و ظفر قوتِ بازو سردارؔ
یعنی پسرِ جعفرِ طیار ہوں میں

یہ وہ تاریخی منبر ہے جس پرہندوستان میں ذکر حسین ؑ کے حوالے سے فن خطابت کے موجد مولانا سبطِ حسن صاحب قبلہ نے بھی مجلسیں پڑھی ہیں۔ اس منبر پر دولہا ؔصاحب نے اپنی پڑھت کے جوہر دکھائے ہیں جس کا ذکرخصوصاً علی سردار جعفری صاحب کی تحریرمیں ملتا ہے۔

ہال میں بڑے بڑے بلب لگا دیے گئے ہیں۔ ضریح اور علموں پر گیندے اور موگرے کے ہار پڑے ہوئے ہیں۔ اگر بتی سلگادی گئی ہے۔ عطر دان رکھ دیے گئے ہیں اور گلاب پاش عرق گلاب سے بھر دیے گئے ہیں۔ دس دن روزانہ یہاں پر دن میں مردانی مجلس اور رات کو زنانی مجلس کا اہتمام ہوتا ہے۔ آٹھویں محرم کوذولفقار اور ذوالجناح کے سجانے کی تیاری ہے۔ بزرگوں کی تلواریں نکالی گئی ہیں۔ منّن مستعدی سے اندر باہر کے سب کاموں کی نگرانی پر معمور ہے۔ ( سچ تو یہ ہے کہ کوٹھی سید صاحب کے عزا خانے کی رونق آج بھی منّن اور عثمان علی کی بے لوث خدمت کے بغیر ممکن نہیں ) ۔

یہاں کی ہر شے اپنی قدامت کی داستان سنارہی ہے۔ کوٹھی کے در و دیوار اپنے اندر بے شمار کہانیاں سمیٹے ہوئے ہیں۔ ان ہی کہانیوں میں سے ایک کہانی جناتوں کی بھی ہے۔ لیکن میں نے توزندہ اور متحرک جنات اس کوٹھی میں دیکھے ہیں۔ اور وہ ہیں عاشور کے دن آنے والے لمبے تڑنگے لوگ جن کی کمر میں گھنٹیاں بندھی ہوئی ہیں۔ اور ہاتھ میں مور کے پر کا مورچھل ہے۔ تقریباً آٹھ دس آدمیوں کی ایک ایک ٹولی ایک وقت میں آتی ہے۔ ان میں ہر عمر کے مرد یعنی چھے سات سال کے لڑکوں سے لے کر ستر برس کے بوڑھے تک۔ تمام رات یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ہر تھوڑی دیر بعد گھنٹیوں کا شور اور ”حامی اللہ“ کا نعرہ سنائی دیتا ہے یہ اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ پائکوں کی نئی ٹولی آئی ہے۔

باہر داخلے کے دروازے کے دونوں طرف موٹے رسّے مضبوطی سے باندھ دیے گئے ہیں کیوں کہ پائک یا پیک کا ہجوم جوں جوں بڑھتا جاتا ہے انہیں کنٹرول کرنا ایک وقت میں مشکل ہوجاتا ہے۔ وہ اپنے وفور جذبات اور جوش میں بیتابانہ ضریح کی طرف بڑھتے ہیں۔ پائک آس پاس کے تمام گاؤں سے آتے ہیں۔ جن میں مسلم اور غیر مسلم کی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ یہ باتیں میرے لئے سخت حیران کن ہیں۔

میری تربیت میں کراچی جیسے پرشور اور پر ہجوم شہر کا محرم ہے۔ میرے بچپن کی یادوں میں محفلِ شاہِ خراسان کی مجلسیں ہیں۔ یہ محرم اس سے قدرے مختلف انداز کا محرم ہے۔ عاشور کی رات کوٹھی سید صاحب کے گرد ایک ہجوم ہے۔ لوگ زیارت کے لئے جوق در جوق آرہے ہیں۔ ان میں عورتوں، مردوں اور بچوں کی تعداد برابر ہے۔ میں کمرے کے دروازے کی جھری سے جھانکتی ہوں۔ ایک بوڑھا ٹھیٹھ پوربی زبان میں ایک خاص لے میں بڑی ہی روانی کے ساتھ اشعار پڑھ رہا ہے۔ جسے وہاں کی عام زبان میں ”ماثیہ“ کہتے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •