پنجاب پولیس کا ڈنڈا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کچھ عرصہ پہلے میں نے ایک پنجابی فلم دیکھی جس میں پنجاب سے تعلق رکھنے والا ایک پولیس افسر کینیڈاکسی خاص مشن پر جاتا ہے۔ چونکہ وہاں وہ اپنی عقل و دانش اور خاص طورپراپنے ”پولیس والے ڈنڈے“ سے ایسے کیسیز حل کر نے میں کامیاب ہو جاتا ہے جن پر وہاں کی پو لیس نے بھی اپنے ہاتھ اُٹھا لئے ہوتے ہیں۔ کینیڈاکی پو لیس اُس سے اتنامتاثر ہوتی ہے کہ اُس کو کہتی ہے کہ ان کے پو لیس والوں کو بھی وہی ڈنڈاگردی سکھائے، تاکہ وہ بھی اُسی مہارت سے کیسز کو حل کر سکیں جس طرح اس نے کیے۔

خیر یہ تو ایک فلم تھی جس میں یہ بتا یا گیا کہ پنجاب پو لیس کے ڈنڈے کے چر چے تو پوری دنیا میں ہیں۔ لیکن حقیقت میں ایسے واقعات رونما ہو ے جس میں واقعی ہی پنجاب پو لیس کے ڈنڈے نے ایسی مہارت دکھائی کہ بے چارے لوگوں کو دنیا ہی چھوڑنی پڑی۔ اس ڈنڈے نے کبھی جرائم ختم کیے ہوں یا نہ کیے ہوں ہاں معصوم، بے گناہ، لوگوں کو ضرور اپنے تشدد سے ختم کیا ہے۔ پنجاب پو لیس کے بارے میں تو یہاں تک کہا جاتا ہے کہ یہ ملزم کی ایسی خاطر کرتی ہے کہ جب وہ ان کے چُنگل میں پھنستاہے تو وہ ان سارے جرائم کی ذمہ داری قبول کر لیتا ہے جو اس نے کیے بھی نہیں ہو تے۔

پنجاب پو لیس کا ڈنڈا اس حد تک بے قابو اور طاقتوار ہو چکا ہے کہ کو ئی بھی حکو مت اس کو لگام ڈالنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ خود پی ٹی آئی جو تبدیلی کا نعرہ لگا کر کامیاب ہو ئی تھی وہ بھی اس کے سامنے گھٹنے ٹیک چکی ہے۔ پنجاب پو لیس کی وردی تک تبدیل کی گئی مگر افسوس رویہ نہ بدل پایا۔ ایک سال کے دوران 2 آئی جی تبد یل ہو چکے ہیں مگر پھر بھی کو ئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہو پائی۔ اب تو ایسے محسوس ہو تا ہے کہ خان صاحب بھی پنجاب پو لیس کے ڈنڈے کی بے دردی اور منہ زوری کی وجہ سے پو لیس اصلاحات نہیں کر نا چاہتے۔

اس حوالے سے میں خان صاحب سے اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ یہ حکومت سدا نہیں رہنی آج آپ حکمران ہیں تو کل کو ئی اور ہو گا۔ اگر آج یہ ڈنڈا معصوم اور مظلوم لو گوں پر چل رہا ہے تو کل کو آپ پر بھی چل سکتا ہے اس لئے اس محکمے میں اصلاحات کی جائیں۔ 2017 کی ایک تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پو لیس تشددمیں پنجاب پو لیس پہلے نمبر پر اور سندھ پو لیس دوسرے نمبر تھی۔ اسی طرح اگر جرائم میں ملوث ہو نے کی بات کی جائے تو رواں سال کے پہلے دو ماہ میں پنجاب پو لیس کے ایک سو تیتیس اہلکاروں کے خلاف چوری، ڈکیتی، منشیات فروشی سمیت دیگر جرائم کے 35 مقدمات درج ہوئے (بحوالہ لاہور 24 نیوز ویب سائٹ) ۔

اس سے آپ خود ہی اندازہ لگا لیں کہ حالات اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ عوام کے رکھوالے ہی جرائم کے حصے دار بن گئے۔ پولیس کے مجرموں پر تشدد کر نے کی اگر بات کی جائے تو 26 جون 1987 کواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے زیر حراست ملزمان پر قبول جرم کے لئے تشدد، انسانیت سوزاور توہین آمیزبرتاؤ کے خلاف کنونشن کی منظوری دی تھی۔ اس حوالے سے پا کستان نے بھی جون 2010 میں اس کنونشن کی توثیق کر دی تھی۔ یہ سب تو صرف اور صرف کاغذوں کی حد تک کیا گیا جبکہ عملی طور پر اس حوالے سے کوئی بھی قدم نہیں اُٹھایا گیا۔

جہاں ترقی یافتہ ممالک میں ملزموں سے تفتیش کے لئے تحقیق اور جدید سائنسی طریقے جیسے کہ پو لی گرافک ٹیسٹ استعمال کیے جاتے ہیں۔ جبکہ ہمارے ہاں آج بھی پولیس تفتیش میں ڈنڈے، اور تشدد کا استعمال کرتی ہے۔ پنجاب پو لیس کے تر بیتی اداروں میں بھی پو لیس اہلکاروں اور افسر وں کو تفتیش کے لئے سائنسی بنیاوں کے طریقہ کار، اور نفسیاتی طریقے نہیں سیکھاے جاتے بلکہ ان کو تشدد، ظلم، بد تمیزی کے مختلف طریقے سیکھاے جاتے ہیں۔

اس حوالے سے 3 ستمبر 2019 کو بی بی سی اردو نے خصوصی خبر شائع کی جس میں اس بات کا ذکر کیا گیا کہ پو لیس کے عقوبت خانے اب تھانوں سے باہرمنتقل ہو رہے ہیں۔ اس خبر میں بھی جس عقوبت خانے کی بات کی گئی وہ بھی پنجاب پو لیس کا ہی تھا۔ پنجاب کے محکمہ انسداد کر پشن نے لاہور میں کرول جنگل کے علاقے سے گجر پورہ پو لیس کا غیر قانو نی عقوبت خانہ پکڑا جہاں ان تما م لو گوں کو غیر قانو نی حراست میں رکھ کر ان پر تھرڈ ڈگری کا استعمال یعنی تشددکیا جاتا رہا۔

مطلب کے پنجاب پو لیس کے تھانے بھی اب ان کا ظلم اور تشدد برداشت نہیں کر پا رہے اس لئے باہر عقوبت خانے بناے جا رہے ہیں۔ جسمانی ریمانڈ کی بھی و جہ سے پو لیس مجرموں پر زیادہ تشدد کرتی ہے کیو نکہ پو لیس کو لگتا ہے، کہ اگر جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے تو اب قانو نی طور پولیس کے پاس مجرم پر تشدد کاحق حاصل ہو گیا ہے۔ حالانکہ پو لیس کو کسی بھی زیر حراست ملزم پر تشدد اور سر عام تشدد کا حق حاصل نہیں ہے۔ ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب پو لیس کا ڈانڈا خود ہی اتنا طاقت وار نہیں بنا بلکہ اس کو طاقت وار اور منہ زور بنانے میں چند اہم عوامل کارفرما رہے ہیں۔

سب سے پہلے تو ہماری جمہوری حکو متیں اس حوالے سے زیادہ ذمہ دار ہیں۔ ہم زیادہ نہیں بلکہ دس سال پیچھے چلے جاتے ہیں تو یہاں سب سے زیادہ جس جماعت نے حکومت کی وہ مسلم لیگ ن تھی مگر وہ بھی پو لیس گردی کو روکنے میں ناکام رہی۔ مسلم لیگ ن کی ہی حکومت میں ماڈل ٹاون جیسا واقعہ ہوا جس میں دن دیہاڑئے معصوم اور مظلوم لوگوں کو گو لیا ں مار کر شہید کر دیا گیا اور آج تک اس حوالے سے کیا ہوا؟ پو لیس سے اگر کو ئی ایسا کار نامہ سرزد ہو جاے تو پوری مشینری اپنے پیٹی بھائیوں کو بچانے میں لگ جاتی ہے اور بچا نے میں کامیاب بھی ہو جاتی ہے۔

دوسرا ہمار ”نظام انصاف“ نہایت بو سیدہ، مشکل، اور پیچیدہ ہے کہ یہاں سالوں تک لوگ انصاف کے لئے دھکے کھاتے ہیں اور یہ سلسلہ نسل در نسل چلتا ہے۔ اگر قسمت اچھی ہو تو انصاف مل جاتا ہے ورنہ پھر حشر کے میدان کا انتظار کیا جاتا ہے۔ تیسرا ہمارے ہاں ”احتساب“ اور جواب دہی کا نظام اس قدر ناقص ہے کہ پو لیس والے اس کھوکھلے نظام کا کھل کر فائدہ اُٹھاتے ہیں اور دن بدن مزید منہ زور اور طاقت وار ہوتے جارہے ہیں۔ اس لئے ہمیں پو لیس والوں کو ٹھیک کر نے سے پہلے اپنے نظام کو ٹھیک کر نا ہو گا۔ پو لیس اصلاحات سے بھی زیادہ ضروری چیز یہ ہے کہ پو لیس کے نظام میں انسانیت کا احترم اور انسان کی عزت کر نا سکھایا جاے۔ ان کو بتا یا جائے کہ پولیس اہلکار عوام کی جان و مال کے رکھوالے ہو تے ہیں نہ کہ عوام کے لئے عزرائیل۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •