مہنگائی کہیں نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج صبح کچن میں جھانکا تو تقریباً سب راشن ختم تھا۔ سو آج ہر صورت مجھے گروسری کے لئے جانا تھا۔ میں نے پرس اٹھایا اور گروسری کے لئے چل دی کہ جانا ضروری تھا۔ واپسی پر پرس خالی تھا اور شاپر بھرے ہوئے پیدل چلنا ناممکن تھا۔ ویسے تو میرے گھر سے پچیس منٹ پیدل کا رستہ ہے مارکیٹ تک لیکن سامان کے ساتھ پیدل ذرا مشکل ہے۔ کوئی بھی رکشے والا اس ذرا سے فاصلے کے لئے چارسو سے کم پر آمادہ نہیں ہو رہا تھا۔ سوچا کاش میرے پاس بھی ایک ہیلی کاپٹر ہوتا تو آدھے میل کے حساب سے صرف ساڑھے ستائیس روپے لگتے اور میں آرام سے گھر پہنچ جاتی۔

سوچ رہی ہوں کمیٹی ڈال کر ہیلی کاپٹر خرید لوں ہیلی کاپٹر بے شک مہنگا ہے لیکن اس کا فیول بہت ہی سستا۔ کم از کم ان رکشے والوں سے تو جان چھوٹے گی جو ذرا سے فاصلے کے سینکڑوں بٹورتے ہیں۔ ہمارے وزیرِ اعظم بھی تو آج کل سادگی اور بچت کا نعرہ لگا کر ہواؤں میں اڑتے پھرتے ہیں۔ ہواؤں میں اڑنے کا شوق سبھی کو ہوتا ہے اور موجودہ دور میں تو ہر کوئی ہوا میں ہی اڑنا پسند کرتا ہے۔ خیر جو افورڈ کر سکتا ہے وہ اڑ لے جو نہیں افورڈ کر سکتا وہ میری طرح اس کے لئے ایک کمیٹی ڈال لے کہ بچت بہت ضروری ہے۔

خیر ابھی تو میں بنا اُڑے ہی گھر پہنچی وہ بھی رکشے والے سے بھاؤ تاؤ کر کے ساڑے تین سو میں۔ سوا تین سو زائد جانے کا قلق رہے گا جب تک میری ذاتی سواری ہیلی کاپٹر نہ آجائے تب تک تو رکشہ مافیا ہی سہی۔ خیر اللہ اللہ کر کے گھر پہنچی۔ پانی کی بوتل فریج سے نکالی۔ انتہائی گرم دن میں شدید ٹھنڈاپانی حلق میں انڈیلاتو کچھ سکون آیا۔ اے سی آن کیا اور آنکھیں موند لیں۔ تھوڑا وقت گزرا کہ ڈور بیل نے گھر کاسکوت توڑا۔

یقیناً میری کام والی ہوگی۔ کہ اس کی آمد بھی ہمیشہ کسی ناکام شاعر کے شعر کی طرح غلط وقت پر ہوتی ہے جب وہ شعر کو محفوظ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا۔ ناکام شاعر بھی شاید کبھی کامیاب ہو جائے اگر شعر کی آمد ہمیشیہ درست وقت پر ہو اور دوسرا شاعر صاحب بھلکڑ نہ ہوں تو۔ یہ بھی ہمیشہ غلط وقت پر آتی ہے جب میرا اسے دیکھ کر جی جل جائے کہ جب بھی یہ گھر میں آیا راشن دیکھتی ہے اس کی فرمائشی لسٹ نکل آتی ہے۔ میں نے نہ چاہتے ہوئے اس کو دروازہ کھولا کہ تاخیر پر کہیں واپس ہی نہ چلی جائے۔

اس نے آتے ہی ٹی وی آن کیا اور صوفے پر بیٹھ گئی۔ یہ اس کی عادت ہے کہ آتے ہی وہ چائے کے دوران آدھا گھنٹہ انتہائی فضول انڈین ڈرامہ دیکھ کر کام شروع کرتی ہے۔ لیکن آج اس نے سامان دیکھ کر فرمائش نہیں کی۔ بِلکہ پوچھنے لگی باجی خریداری کر کے آئی ہو؟ میں نے کہا ہاں پر مہنگائی بہت ہوگئی ہے۔ کوئی چیز تو ہاتھ لگانے نہیں دیتی۔ میری کام والی کا نام نرگس ہے اور وہ ہے بھی نرگسی آنکھوں والی، کوئل جیسی سریلی۔ فٹ سے اپنی بڑی آنکھیں کھول کر بولی مہنگائی کدھر ہے باجی اب بھول جاؤ مہنگائی کو۔

میں نے کہا بھول کیسے جاؤں ابھی تو ایک بھاری رقم راشن میں لگا کر آئی ہوں۔ تو وہ کہنے لگی نہیں باجی آپ کے ساتھ دھوکہ ہوا ہوگا۔ اب تو چیزیں سستی بلکہ سمجھو مفت مل رہی ہیں اب تبدیلی آگئی ہے اور مہنگائی کہیں نہیں ہے۔ اس نے بتایا ڈالداگھی سوروپے کلو، چینی بیس اور مختلف دالیں بھی انتہائی سستی ہو گئی ہیں۔ اس نے بتایا کہ وہاں سے دودھ کے ڈبے بھی انتہائی سستے ملتے ہیں۔ اور سنا ہے بجلی بھی اب مفت ملا کرے گی بس اس کے لئے تھوڑا وقت لگے گا۔

میں اس کو ڈانٹنے لگی کہ تم۔ مجھے کون سے زمانوں کی داستان سنا رہی ہو تو کہنے لگی نہیں باجی اللہ قسم سچ کہتی ہوں میں تو خود خرید کر لائی ہوں یقین نہ آئے تو آپ بھی لے آنا۔ میں نے سارا دن سوچ میں گزارا رات میاں سے ذکر کیا تو وہ بھی ہنسنے لگے۔ اگلے دن میں کام والی کے ساتھ تصدیق کے لئے اس دکان سے کچھ خریداری کر آئی۔ ہم لوگ بہت حیران تھے۔ پھر سمجھ آئی کہ اب تو واقعی ”تبدیلی“ آگئی ہے ہو سکتا ہے یہ سب اسی کا کرشمہ ہو جب حکومت عوام کا سوچ رہی ہے تو ہو سکتا ہے یہ بھی اسی میں شامل ہو جب ہیلی کاپٹر کا پٹرول سستا ہو سکتا ہے تو راشن کیوں نہیں۔

ہو سکتا ہے حکومت نے مخصوص دکانوں (یوٹیلیٹی سٹورز) پر ڈسکاونٹ رکھا ہو۔ میں بہت خوش تھی اگلے ماہ وہیں سے خریداری کا ارادہ کر لیا۔ لیکن ابھی بیچ کے تیس دن تھے۔ خیر ماہ تمام ہوا اور راشن کی لسٹ لے کر جب وہاں پہنچی تو دکان بند تھی۔ پوچھنے پر پتہ چلا کہ دکان تو پچھلے ماہ سے بند ہے وہ لوگ رمضان کے مہینے صدقہ، وٰخیرات کے نام پر اکٹھا کیا راشن سستے داموں فروخت کر رہے تھے چھاپہ پڑا اور پولیس ان کو پکڑ کر لے گئی۔ اور میرے کانوں میں بس نرگس کی آواز گونج رہی تھی کہ تبدیلی آگئی ہے مہنگائی کہیں نہی ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •