امام زین العابدین ؑ کی علی الاستقامت!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دَقِیقُ النَّظَری کے ساتھ تاریخِ اسلام کے دریچوں کوکھولیں، تو دشتِ کربلا میں آکر اسلام کی تاریخ کا آخری دریچہ کھلتا ہے۔ جہاں حد نظر صحرائے لق و دق میں ریت کے ذرے عقاب کی رفتار سے اڑ اڑ کر آنکھوں کی بینائی چھین رہے تھے، جہاں ایک پل بھی جینا دشوار تھا۔ لیکن دنیاوی وجاہت شان و شوکت کی اساطیری خواہشات کی لالچ انسان سے وہ کام سرزد کروا دیتی ہیں، جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتے۔ اگر آج بھی دنیا کے طول عرض میں کسی خطے پر نظر دوڑائیں، تو اپنی بصیرت سے یہ نتیجہ اخد کرسکتے ہیں کہ کہیں بغاوت ہورہی ہے، کہیں کوئی حکومت گر رہی ہے، تو کہیں کوئی نئی حکومت بن رہی ہے۔ لیکن نو منتخب حکمران جب اقتدار کی مسند پر فاٰئز ہوتے ہیں، تو تقاضا بشریت کے مطابق کہیں نہ کہیں کوئی شکوہ کرتے نظر آتے ہیں۔ یہ بات کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ آگے مزید عمیق داستان ہے۔

بزعم خود ہمارا دل اس بات کی گواہی دینے پر آمادہ ہوتا ہے کہ کے میں اس مظلوم و بے کس امام زین العابدین علیہ سلام پر درود و سلام بھیجیں، جو عصر عاشور میں اپنے بابا امام حسین علیہ سلام کی شہادت کے بعد منصب امامت کوسنبھال رہے ہیں۔ لیکن امام زین العابدین علیہ سلام کی علی الاستقامت اور صبر دیکھیے کہ نامساعد حالات میں بھی ان کی زبان پر ایک شکوے کا لفظ بھی نہیں ہے۔ پروردگار نے اس وقت امامت کامنصب عطا کیا، جب ایک جانب امام زین العابدین علیہ سلام کے بابا امام حسین علیہ سلام کا لاشہ جلتی ریت پر پڑا ہے، تو دوسری جانب پھوپھیوں کی چھینتی چادریں ہیں ؛ اور شہداء کے لاشوں کو دفنانے کی اجازت نہیں ہے۔ جبکہ اہلیبت علیہ سلام کا تمام مال و اسباب لٹ چکا تھا؛ اور امام زین العابدین علیہ سلام کے خود گَلے میں طوق، ہاتھ میں ہتھکڑیاں، پاٶں میں بیڑیاں تھیں۔

اگر استغراق کی کیفیت میں اس منظر کا جائزہ لیں، تو اِن انسان نما حیوانوں کے مظالم اور ریگزار کربلا پر بہترشہداء کے بے گوروکفن لاشے دیکھے۔ ان حالات میں بھی امام علیہ سلام نے جذبات کو اپنی عقل سلیم کا تابع رکھا ورنہ اس تغیراتی کیفیت میں انسان جوش میں حواس باختہ ہوجاتا ہے۔ کربلا سے کوفہ اور کوفہ سے شام تک ہر لمحہ امام علیہ سلام کے دل پر نشتر تھا۔ ہر موڑ پر نت نئی جفا جوئی بیداد گری سے دل آزاری کی جاتی تھی۔ حتٰی کہ اہلیبت ؑ کی خواتین کے سروں کی چادریں تک چھین لی گئیں تھیں۔ اگر غیور قوم ہو، تو خواتین کی حرمت پامال نہیں کی جاتی، مقصد بہت بڑا تھا۔ جب ہی آپ نے مشیعت الہی کے مقابل میں اف تک نہ کی تھی۔

کرب و بلا میں حکومت کی جابرانہ حرکات کے بعد لوگوں کی بصیرت کھلتی گئی۔ جس کے باعث کچھ مخلص افراد سچے جذبہ ایمانی کے ساتھ حکومت کے خلاف کھڑے ہوگئے۔ اس وقت امام زین العابدین علیہ سلام نے کسی بھی گروہ کی حمایت نہیں کی، حالانکہ انتقام کے لیے عنادِ بنو امیہ میں کوئی بھی گروہ ہوتا، تو امامؑ کو اس کی حمایت کر دینی چاہیے تھی، لیکن نہیں! امام علیہ سلام کو حال سے زیادہ مستقبل پر نگاہ تھی۔ آپ نے اپنی بصیرت سے نتیجہ اخذ کر لیا تھا کہ انتقام کے لیے کسی گروہ کا ساتھ دینا یا اس کے لی سعی کرنا بے سود ہوگا۔

امام ذین العابدین نے طیش و عناد کے بجائے ہمت اور استقلال کے ساتھ اپنا ہر قدم کثیرالمقاصد کے ساتھ اٹھایا۔ چونکہ حالیہ حکومت کی آپ پر کڑی نظر رہتی تھی کہ کہیں آپ اپنے مضمرات کی بالواسطہ طور پر تبلیغ نہ کر رہے ہوں۔ جس وجہ امام ذین العابدین ظاہری طور بے التفاتی کا مظہر بن کر اندرونی طور پر پیغام حق کی جدوجہد میں لگ چکے تھے۔ بالعموم جیسے حالات تھے اس سے یہ بھی خطرہ لگا رہتا تھا کہ کہیں حکومت آپ کو قید نہ کرلے یا پھر آپ کے چراغ زندگی کو خاموش نہ کردے۔

چلئے کچھ دیر کے لیے ہم اس بات کے معترف ہوجائیں کہ حکومت آپ تک رسائی نہ بھی کر پاتی، لیکن اپنی شقاوت سے بھی باز نہیں آتی۔ اس وقت امام ذین العابدین نے مغلوب الجذباتیت کو اپنی عقل سلیم کا تابع دار نہیں کیا کیونکہ اس وقت امام کو پیغام انسانیت کی نشر و اشاعت کرنا تھی۔ تاکہ معاشرہ میں بسنے والوں کو یہ ادراک ہو کہ کربلا اسلحہ کی جنگ کا نام نہیں بلکہ دائمی کردار کی کسوٹی کا نام ہے۔ ورنہ کسی مسلح گروہ سے مربوط ہونے کا نتیجہ یہ نکلتا کہ وہ دین الہی کے تسخیرکے عمل میں مانع بنتے ؛ اور دین الٰہی کے دشمن آپ کے چراغ حیات کو مدہم کرنے میں کوئی لمحہ فروگذاشت نہ کرتے۔

معرکہ کربلا کے بعد اسیران اہلیبت کی قافلہ سالاری، دربار یزید میں دندان شکن خطبہ سے حسینیت اور یزیدیت میں تفریق کرکے فلسفہ حسینت کی بنیاد کو ڈال کر اپنے کردار و کلام سے لوگوں کو آشانا کرنا ہی عین مقصد اسلام تھا۔ اگر امام زین العابدین علیہ سلام علی الا علانیہ حق و حقانیت کی تبلیغ نہ کرتے، تو آپ کے کلام کی حقیقی تصویر ”صحیفہ سجادیہ“ آج ہم تک نہ پہنچ پاتی۔ اس پُر آشوب دور میں امام نے اپنی جدوجہد کو جاری رکھا تھا؛ اور اصلاح کے لیے اپنی التفات کا مظاہرہ کیا تھا۔

جس وجہ سے امام زین العابدین علیہ سلام کے کلام کا ایک کثیر حصہ زہد و تقوی، دعا و مناجات اور اللہ سے رابطے کی تلقین پر مشتمل ہے۔ صحیفہ سجادیہ خدا سے براہ راست راز و نیاز کا ایسا کلام ہے، جو رہتی دنیا میں اب تک نہیں ہے۔ علاوہ ازیں امام ”رسالۃ الحقوق“ جیسی ایک طویل حدیث مرتب گئے ہیں، جس کا مقصد صرف یہ ہے کہ ایک انسان کے دوسرے انسان پرکیا حقوق ہیں۔

چنانچہ شورش انگیز حالات میں بھی امام ذین العابدین علیہ سلام اپنے مقصد پر استقامت کے ساتھ قائم رہے اور گنجلگ سیاسی معاملات کے باوجود اپنے مقصد میں آگے بڑھتے رہے۔ البتہ انہوں نے اپنے مضمرات کو مختلف زاویوں سے انسانیت اور دین اسلام کی بقا اور اپنی عبادتوں سے شریعت محمدی کے دم توڑتے چراغ حیات کو چمکتے سورج میں تبدیل کردیا تھا۔ چانچہ ہمیں امام امام زین العابدین علیہ السلام نے یہ سبق دیا ہے کہ زندگی کے کٹھن حالات اور روگردانی کیفیات میں بھی ہمیں معاشرتی اور دینی فرائض سے بے اعتنائی نہیں کرنی چاہے۔ لہذا ہمیں مصلٰی عبادت پر بیٹھ خدا سے معرفت کو مستعار لے کر دین ترویج دین کرنا چاہیے۔ مزید براں کہ ابتری صورتحال سے مرعوب ہونے کے بجائے امام زین العابدین علیہ السلام بشریت کی فلاح و بہبود میں کوشاں رہنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •