طویل ترین جنگ اور افغان عوام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جنگِ عظیم دوئم کے بعد افغانستان میں جاری جنگ کو اب تک کی طویل ترین اور مہنگی ترین جنگ کہا جائے تو شاید غلط نہ ہو گا۔ 1979 سے شروع ہونے والی یہ ہولناق جنگ آج بھی جاری ہے اور ابھی تک بے نتیجہ بھی ہے۔

افغان امن کے نام پر آج دنیا میں بہت کچھ ہو رہا ہے۔ کئی ممالک امن مذاکرات کی کوششیں کر رہے ہیں معاہدے طے پاجانے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے لیکن شاید سبھی کچھ بے سود و بے مصرف ہے۔

امریکہ اور طالبان کے درمیان دوحہ قطر میں پچھلے دس ماہ سے مذاکرات جاری ہیں جس میں امریکی اور نیٹو افواج کا افغانستان سے انخلا سب سے اہم نکتہ ہے۔

اُدھر امریکہ میں 5 ستمبر کو فاکس نیوز ریڈیو کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد کو کم کر کے ساڑھے آٹھ ہزار تک لایا جا رہا ہے اور امریکہ ہمیشہ وہاں اپنی موجودگی برقرار رکھے گا۔ ’

ایک وقت ایسا بھی تھا کہ جب طالبان کے خلاف افغانستان میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ غیر ملکی فوجی جنگ لڑ رہے تھے۔ صدر اوبامہ کے دور میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا شروع ہوا، یہاں تک کہ دس ہزار امریکی فوجی وہاں رہ گئے۔ اس وقت افغانستان میں چودہ ہزار امریکی اور تقریباً آٹھ ہزار اتحادی ممالک کے فوجی موجود ہیں۔ جو تربیت، مشاورت اور انسداد دہشت گردی جیسے کاموں میں مصروفِ کار ہیں جن میں فضائی اور ڈرون حملے شامل ہیں۔

جب کہ دوحہ قطر میں طالبان کے سیاسی ترجمان سہیل شاہین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے بی بی سی سے کہا ہے کہ جب تک افغانستان سے ’امریکی اور بین الاقوامی افواج کا قبضہ‘ ختم نہیں ہوتا، وہاں امن ممکن نہیں۔ ’اٹھارہ سال ہم اسی مقصد کے لئے قربانی دے ر ہے ہیں، اب اس معاملے پر کسی کے ساتھ گفتگو نہیں کرسکتے۔ ‘

امریکی صدر کا فوجی انخلا کے حوالے سے یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا کہ جب دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات ’آخری مراحل‘ میں داخل ہو چکے ہیں اورافغانستان میں 28 ستمبر کو صدارتی انتخابات بھی منعقد ہونے والے ہیں۔ جب کہ دوحہ میں طالبان ترجمان کے مطابق وہ افغان حکومت کو سِرے سے تسلیم ہی نہیں کرتے اور اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ وہ بین الافغان مذاکرات کے دوران کابل حکومت کے ساتھ حکومت کی حیثیت سے نہیں بلکہ ایک گروپ کی حیثیت سے بات کریں گے۔ تاہم کابل کے ترجمان صدیق صدیقی کے مطابق طالبان کو یہ حقیقت تسلیم کرلینی شاہئے کہ افغانستان اب بدل چکا ہے، افغان حکومت طالبان کی فرمائشیں پوری کرنے کے لیے نہیں ہے اور طالبان کے پاس کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ بھی نہیں ہے۔ ’

افغانستان کی اندرونی کشمکش کیا کم تھی کہ 8 ستمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کابل حملے کو بنیاد بناتے ہوئے کہ جس میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے تھے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات معطل کر دینے کا اعلان کر دیا۔ انھوں نے مزید لکھا کہ ’یہ کیسے لوگ ہیں جو اپنی سودے بازی مضبوط بنانے کے لیے لوگوں کی جان لیتے ہیں‘ اور یہ کہ وہ مزید کتنی دہائیوں تک لڑنا چاہتے ہیں؟ ’

بی بی سی اردو کے مطابق اقوام متحدہ نے فروری 2019 کی اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اس جنگ میں اب تک 32 ہزار سے زیادہ افغان شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب اس جنگ میں اب تک ہلاک ہونے والے بین الاقوامی اتحادی افواج کے تقریباً 3500 فوجی ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں سے 2300 سے زائد امریکی فوجی تھے۔ ادھر براؤن یونیورسٹی میں واٹسن انسٹیٹیوٹ کی تحقیق سے سامنے آیا ہے کہ اس جنگ میں 58 ہزار سکیورٹی اہلکار جبکہ 42 ہزار مخالف جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔ یہ تو صرف وہ اعدادو شمار ہیں جو امریکی حملے کے بعد کے ہیں سویت یونیئن سے پہنچنے والے نقصان کا تو کہیں ذکر ہی نہیں ہوتا۔

اتنے جانی و مالی نقصان کے باوجود، آج طالبان کا کہنا ہے کہ افغانستان کے آدھے سے زیادہ رقبے پر ان کاقبضہ ہے تاہم اس کی تصدیق ممکن نہیں کیونکہ حکومت کے پاس کوئی مستند اعداد وشمار نہیں اور ہوتے بھی تو کس منہ سے سامنے لاتی۔ لیکن یہ بات واضح ہے کہ 2001 میں حکومت ختم ہونے کے بعد اس وقت طالبان سب سے زیادہ علاقے پر قابض ہیں۔

کابل کے علاقے شہرنو کے ایک دکاندار خلیل الرحمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اور ان کے بچے امن معاہدے کے ذکر سے خوش ہیں، کیوں کہ معاہدے کے بعد روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے خودکش حملے بند ہو جائیں گے۔ ’میں اور میرے سارے بچے روز ٹی وی کے سامنے اس امید کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں کہ آج کوئی امن کی خبر آجائے گی لیکن ان خبروں میں ہمیں کسی اور خودکش حملے کے بارے میں بتایا جاتا ہے اور مزید کئی بے گناہ افغانوں کی ہلاکت کے بارے میں پتا چلتا ہے۔ ‘

سنا ہے کہ بین الافغان مذاکرات کی کامیابی کے بعد ہی افغانستان میں امن آسکتا ہے لیکن یہاں تو بین الاقوامی طاقتیں ہی مذاکرات سے پیچھے ہٹتی نظر ا ارہی ہیں اور چار عشروں سے جنگ کے دلدل میں پھنسے افغان عوام آج بھی کسی پُر امن خبر کے منتظر ہیں، چالیس سالوں سے طرح طرح کی صعوبتیں برداشت کرنے والے افغانی عوام اب سکون کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں، امن معاہدے کا نام سنتے ہی اکثر افغان عوام خوش ہو جاتے ہیں کہ شاید ان کے ملک میں گذشتہ چار دہائیوں سے جاری جنگ کا خاتمہ ہو جائے گالیکن موجودہ صورتِ حال میں ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آرہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •