کیا نواز شریف کی ملک بدری سے حالات بہتر ہو جائیں گے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حق حکمرانی کس کو ہے؟ اسے یہ حق کس نے دیا ہے اور کیا حق دینے والاخود اس لائق تھاکہ حکمرانی کا حق تفویض کر سکے؟ ان سوالات کاجواب ہر حکمران کو دینا پڑتا ہے۔ اساطیرالاولین کا مطالعہ اور تاریخ کا تجزیہ موجودہ اور آنے والے حالات کوجاننے میں بہت ممد ومعاون ہوتا ہے۔ قدیم زمانہ میں حکمرانوں کا یہ دعویٰ ہوتا تھا کہ ان کو یہ حق ان دیکھی خدائی قوتوں اورمقبول شہنشاہوں سے ذاتی تعلقات کی وجہ سے ملا ہے۔ قلو پطرہ خود کو فطرت کی دیوی آئسس کی بیٹی کہتی تھی۔

چینی ہان خاندان کا بانی لوئی بینگ خود کو اساطیری شہنشاہ یاؤ کی اولاد میں سے بتا تا تھا۔ مسلمانوں حکمران خلیفۃالرسول کہلوانے کے ساتھ حکومت کو خدا کی عطا کہتے رہے ہیں۔ امیر تیمور اپنا رشتہ چنگیز خان سے جوڑتا تھا۔ سلاطین دہلی، پہلے بغداد اور پھر ترکی میں موجود خلیفہ وقت کے پاس خلعت بھیج کر ان سے منظور نظر ہونے کا پروانہ منگواتے رہے ہیں۔ جب مغل مضبوط ہو گئے تواکبر کے بعدچوتھی نسل میں انہوں نے اس رسم کی ضرورت محسوس نہیں کی اور اسے ترک کردیا۔

اگر چہ وہ اپنے سفیر پھر بھی بھیجتے رہے۔ ان تمام نے حکومت اپنے زور بازو پر حاصل کی، لیکن قانونی تحفظ اور عوامی مقبولیت حاصل کرنے کے لئے اس طرح کی باتیں بنائیں۔ حکمران اس لئے ہی پو پ اور مذہبی لیڈروں کو بھی اپنے دائیں بائیں موجود رکھتے رہے ہیں۔ آج بھی مذہبی کتابوں پر ہاتھ رکھ کر حلف لینے کا ایک مقصد یہ بھی ہوتا ہے۔

جمہوریت نے یہ حق عوام کو دے دیا۔ لیکن وہ ممالک جن میں جمہوریت کو پنپنے کاپورا موقع نہیں ملا، ان میں پرانے دور کی روایات ابھی پوری طرح ختم نہیں ہو سکیں۔ ان کمزور جمہوریتوں میں خاندانی تعلق کی بنیاد پر حکومت کا حق ابھی بھی کسی نہ کسی شکل میں برقرار ہے۔ الیکشن میں عوام یہ حق اپنے پسندیدہ مقبول لیڈر کو دیتے ہیں۔

ساٹھ کی دہائی کے بعد بھٹو پاکستان میں ایک طاقتور لیڈر کے طور پر ابھرے۔ مسلم لیگ بھی توڑ پھوڑ اورخرابی کے ہر عمل سے گزرتی نواز شریف کی زیر سایہ مضبوط ہوگئی اور یوں ملکی جمہوریت میں روائیتی حریفوں کا میدان سج گیا۔ جمہوریت میں صرف عوامی حمائیت ہی وزیر اعظم کو مضبوط بناتی ہے۔ سیاسی طور پر مقبول ساتھی ہی حکومت کو طاقت مہیا کرتے ہیں۔ وہ ساتھی جوذاتی خوبیوں کے ساتھ اپنی کامیابی کے لئے پارٹی کے بھی مرہون منت ہوں۔ جن کے دل میں پارٹی لیڈر کی قدر ہو۔ پارٹی کے علاوہ اچھے اتحادی ہی حکومت کے ساتھ چل کر اس کو طاقت فراہم کرتے ہیں۔

طاقتور حکومتیں ہی اہم فیصلے کر سکتی ہیں۔ مقبول لیڈر ہی غیر مقبول فیصلے کرسکتا ہے۔

اس وقت ملک کو غیر مقبول فیصلوں کی ضرورت ہے۔ تبدیلی کے نعروں سے ہوا نکل چکی ہے۔ ان غباروں میں حکمرانوں نے خود سوراخ کر دیے ہیں۔ چئیرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کے انٹرویو اور احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ویڈیو نے احتساب کی ہانڈی چوک میں پھوڑ دی ہے۔ نا اہل اورناکام حکومت اب لانے والوں کے کندھوں پر بوجھ بن چکی ہے اور اپنے ساتھ ان کی عزت بھی خاک میں ملا رہی ہے۔

یہ جو روزانہ میڈیا میں دہائیوں سے مقبول نواز شریف اور زرداری کے بارے میں متضاد قسم کی خبریں آ رہی ہیں، یہ سب حکومت اورانصاف کے اداروں کی اخلاقی اور قانونی پوزیشن پر سوالیہ نشان بن رہی ہیں۔ نواز شریف اور زرداری کے جانے، مرنے یا سزا پوری کرنے سے اس حکومت کو عوام میں مقبولیت اور جائز ہونے کا پروانہ نہیں مل سکے گا۔ یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ کیا نواز شریف اور زرداری اس انتہائی کمزور حکومت کو سہارا دینے کو تیار ہو جائیں گے؟ کیا وہ این آر او لے کر چلے جائیں گے؟

ان کے بعد ان کی پارٹیاں اور خاندان ختم نہیں ہو جائیں گے۔ بیرون ملک جا کروہ خاموش نہیں بیٹھے رہیں گے۔ اب کی بار تو کوئی شہزادہ بھی ضامن نہیں۔ اگر یہ این آر او ہو گیا تو ان دونوں کے علاوہ حکومت اور ملک کے اداروں کی اخلاقی پوزیشن بھی بہت خراب ہو جائے گی۔ سب مخا لف اب توخاموش ہیں یا اندر کر دیے گئے ہیں۔ ان دونوں کے جانے کے بعد حکومت کی مخالفت ختم نہیں ہو گی۔

مخالفت ختم ہو ناناممکن ہے، لیکن حکمرانوں کی اگر یہ خواہش پوری ہو جائے تو بھی یہ نکمے کچھ نہیں کر سکیں گے۔ اس حکومت کی ناکامی کی وجہ یہ دونوں نہیں ہیں۔ این آراو، اب حکومت کو چاہیے۔ اس حکومت کے لانے والوں کو چاہیے۔ اب عدلیہ کی عزت داؤ پر لگی ہوئی ہے۔ اب نواز شریف اندر رہے یا ملک سے باہر، سوالیہ نشان حکمرانی کی موجودہ تثلیث پر لگے گا۔

اگر دوسری طرف دیکھا جائے تو نواز شریف اور زرداری اداروں کے ساتھ اس جنگ کو جیت نہیں سکتے۔ یہ ممکن ہی نہیں کہ ادارے نواز شریف کی خواہش کے مطابق ان سے اپنی غلطی کی معافی مانگ لیں۔ اگر چہ اس وقت وہ بہت دباؤ اور مشکل میں ہیں۔ راستہ کوئی اور ڈھونڈنا پڑے گا۔

عوام کو تو ان کا حق ملنا ہی ہے۔ ووٹ کی عزت تو بحال ہونا ہی ہے۔ کردار بدل سکتے ہیں نوازشریف زرداری اگر چلے بھی گئے، مسئلہ تو وہیں رہے گا۔ اب عوامی امنگیں بھڑک اٹھی ہیں۔ حکمرانوں کے خلاف نفرت کی آگ پھیلتی جا رہی ہے۔ ان کی کارکردگی نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ اب یہ آگ اسی صورت میں بجھائی جا سکتی ہے کہ نئے اور غیر متنازعہ الیکشن کروا کر حکومت اصل حق داروں کے حوالے کی جائے۔ کوئی بھی اور حل عوام کے لئے ناقابل قبول ہوگا، سیاسی استحکام نہیں آے گا۔ اب اگر کوئی دوسرا راستہ اختیار کیا گیا اور عمران خان کے بعد کوئی اورغیر مقبول شخص، کہیں سے لا کر بٹھا دیا گیا تو وہ بھی اسی طرح عوام اور معیشت کے ہاتھوں ذلیل ہو تا رہے گا۔

مقبول، سمجھدار اورتجربہ کار حکمران مضبوط پارٹی اور ساتھیوں کے ساتھ مل کر ہی ملک کو اس مشکل سے نکال سکتا ہے۔ صرف وہی حکمران کامیاب ہو سکتا ہے جسے حکومت کرنے کاجائز حق حاصل ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •