معافی کا خواستگار شہباز گل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک لطیفہ مشہور ہے۔ ”کسی ریاست کا دوسری ریاست سے جھگڑا ہو گیا تو ریاست کے بادشاہ نے ریاست میں جنگ کی تیاری کے لئے قاصد بھیجے۔ ایک قاصد میراثیوں کی بستی میں بھی چلا گیا۔ میراثیوں نے ساری بستی کو اکٹھا کیا اور قاصد کی بات کو بڑے دھیان سے سنا۔ جب قاصد نے بادشاہ کا پیغام سنایا تو میراثیوں کے سر پنچ نے ریاستی قاصد سے کہا ’سرکار جے گل ساڈے تک پہنچ گئی اے تے فیر بادشاہ نو کہو صلح کر لے‘ (اگر بات ہم میراثیوں کی جانوں تک پہنچ گئی ہے تو بادشاہ کو کہیں صلح کر لے)۔“

کچھ ایسا ہی واقع گذشتہ روز ”ٹویٹر کی ریاست“ میں پیش آیا۔ ایک معروف خاتون اینکر نے حکومتِ پنجاب سے کچھ ایسے سوال ٹویٹ میں کر ڈالے جو انہوں نے کبھی گذشتہ حکومتوں سے ”نسبت“ کی وجہ سے نہی کیے تھے۔ اس ٹویٹ کے جواب میں حسبِ منشا پنجاب حکومت کے ترجمان ”امریکہ پلٹ“ جناب محترم شہباز گِل (سمندری والے ) جن کا قول ہے ”میں سیاست دانوں کی طرح مروت اورُمنافقت نہی کرتا منہ پہ بات کرتا ہوں پروگرام سے باھر نکل کر معافی نہیں مانگتا“ نے جھٹ سے ٹویٹ کا جواب داغا جس کو ”ٹویٹر کی ریاست“ میں ”نقارہ جنگ“ تصور کیا گیا اور پھر ایک گھمسان کی جنگ شروع ہونے کی ہوا چلنے لگی۔

سب اپنے اپنے ہتھیار سنبھالے پوسٹ پر امڈ آئے۔ سب ”ٹویٹری قاصد“ لائیک اور شئیر اور کومنٹس کرنے لگے اور محترم شہباز گِل صاحب کو ”سپہ سالار کے گھوڑے“ کی لگام تھماتے ہوئے“ تھپکی دینے لگے۔ ہم نے بھی تھپکی میں اپنا حصہ ڈالنا فرض سمجھا اور شہباز گِل کی تعریف میں ”حضور کا اقبال بلند ہو“ کے ان الفاظ کے ساتھ ٹویٹ کر ڈالی ”گلِ کو بھلے جو مرضی کہہ لو ایک بات پہ گلِ کو سیلیوٹ ہے۔ شہزادے میں مروت نام کی کوئی چیز نہیں، ٹھوک کے جواب دیتا ہے آگے بھلے کوئی بھی ہو۔“

ہمارا یقین تھا ”ٹویٹر کا صلاح دین ایوبی“ یہ جنگ ضرور جیتے گا۔ ”حالات“ کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے خاتون اینکر نے بھی جوابی ٹویٹ شہباز گِل کو داغا جس میں وفاق کے ایک ادارے کو شکایت کرنے کی بابت بتایا گیا جو سوشل میڈیا پر ہراساں کرنے کی شکایات کو دیکھتا ہے۔ اینکر کی اس ”ٹویٹی پسپائی“ پر شہباز گِل نے ایک اور تابڑ توڑ حملہ کیا سو کیا ہم نے بھی شہباز گِل کی طرح خاتون اینکر کی جنس کو بالائے طاق رکھتے قلم کمان میں رکھ کر ایسا ٹویٹ داغا کہ پڑھنے والے عش عش کر اٹھے جس کے الفاظ تھے۔

”مطلب ہون شکایت لگے گی؟“

شکایت کا متن

میاں جی میاں جی یہ جو گِل ہے نا گِل
‏اس میں بالکل نہی ہے آپ جیسا دِل

‏اب تو ہر بات پہ آ جاتا ہے بلِ
‏آٹا گوندھوں تو کہتا ہے بالکل نہ ہِل

‏ٹویٹر پہ میرے ساتھ کرتا ہے چِل
‏مجھے ذرا نہی کہتا مجھے آ کے مِل۔

‏میاں چپ، سو سکھ

اس ”ٹویٹری جنگ“ کی شدت جو کہ تھمنے کو نہ تھی خاتون اینکر نے اپنا آخری ترمپ کا پتا کھیلا جو سیدھا ہمارے ٹویٹر کے ”صلاح دین ایوبی“ کے ماتھے پہ فٹ ہو گیا۔ ٹویٹ میں خاتون اینکر نے اپنے عورت ہونے کو اور مظلومیت کو بہترین انداز میں پیش کیا۔ ہمارا یقین تھا کہ شہبازِ گِل صاحب کے سامنے یہ پتے بے ضرر ہیں اور اس کا حاصل جمع کچھ نہ ہو گا کیونکہ پی ٹی آئی کا نعرہ اور ورکروں کا گمان یہی ہے کہ یہ حکومت روایتی سیاست اور رنگ بازیوں سے ذرا دور ہے۔

لیکن ہمارا یہ گمان اس وقت اس شاپر کی طرح ہو گیا جو اندھیری میں اڑ کے بجلی کے کھمبے سے لٹکا ہوتا ہے جب خاتون اینکر نے دو گھنٹے بعد ”بھیگے ہوئے جوتے جیسا“ ٹویٹ کرتے ہو ئے اعلان کیا کہ ترجمان وزیراعلی پنجاب جناب محترم شہباز گِل نے مجھے کال کر کے بہت بہت معذرت کی ہے اور اپنے رویے اور ٹویٹس پر معافی مانگی ہے۔ ساتھ ہی شہباز گلِ صاحب نے خاتون اینکر کے ٹویٹ کی تائید بھی کر دی۔ غالباً شہباز گِل کو اپنا حال فیاض چوھان جیسا ہوتا نظر آنے لگا۔ ساری بڑھکیں رنگ بازیاں دھری کی دھری رہ گئیں۔ کرسی اور ہٹو بچو آخر کو کسے پیارا نہی ہوتا؟ یہ محترم بھی روایتی شطرنج کے پیادے نکلے۔

اور ہم جو فتح کا جشن منانے کے لئے سابقہ حکومت کے حامیوں کی طرح مٹھائی کے ٹوکرے سامنے رکھ کر بیٹھے تھے گویا جل بھن کر رہ گئے اور ”ٹویٹر کے صلاح دین ایوبی“ کو صلواتیں سنانے لگے۔ جناب شہبازگِل صاحب جنہوں نے اپنی چرب زبانی اور جارحانہ رویے اور ”ہزاروں میل لمبی ٹویٹوں“ سے اپنا مقام ”چندرا 2“ جتنا اونچا کیا تھا وہ صرف ”دو ٹویٹ“ کے فاصلے سے ”چاند بوس“ ہو گیا اور ہمارے ذہن کے کونے میں ایک پولیس والے کی درخواست جو کبھی اس نے معطلی کی معافی مانگنے کے لکھی تھی اس کے آخری الفاظ آنکھوں کے سامنے لے آیا جو کچھ یوں تھے۔

”معافی کا خواستگار“، شہباز گلِ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •