پاکستان میں خواتین کی جہد مسلسل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جدوجہد آزادی میں جنوبی ایشیائی خواتین کا کردار مردوں سے کم نہیں تھا لیکن پاکستان بننے کے بعد پاکستان میں سیاست مردوں کی ہاتھ چلی گئی۔ اسٹیبلشمنٹ اور ڈکٹیٹرز نے ملک میں جیسے خواتین کی سیاست پر غیر علانیہ پابندی عائد کردی ہو۔

بانی پاکستان کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح اس وقت میدان سیاست میں آئیں جب فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کے اقتدارکا سورج عروج پر تھا۔ تحریک پاکستان کے دوران برصغیرکی مسلم خواتین کو متحرک کردارادا کرنے کی ترغیب دلانے میں محترمہ فاطمہ جناح کا کردار نمایاں تھا لیکن قیام پاکستان کے بعد وہ عملی سیاست سے لاتعلق ہوگئی تھیں۔

1964 ءمیں جنرل ایوب خان نے دوسری مرتبہ صدر منتخب ہونے کے لئے بنیادی جمہوریت کے فارمولے کے تحت صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔ اس وقت پاکستان کے سیاسی منظرنامے پر مولانا بھاشانی، خان عبدالغفارخان، شیخ مجیب الرحمنٰ، ممتاز دولتانہ، مولانا مودودی، نوابزادہ نصراللہ خان جیسے سیاستدان موجود تھے لیکن کوئی بھی جنرل ایوب خان کے مقابلے میں امیدوارکے طور پر سامنے آنے کی جرآت نہ کر سکا۔

ایسے عالم میں محترمہ فاطمہ جناح نے ایوب خان کے مقابلے میں صدارتی امیدوارکے طور پرکاغذات نامزدگی جمع کرائے اور تمام تر مشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود جم کرنہ صرف انتخابی مہم چلائی بلکہ مؤثرانداز میں مقابلہ بھی کیا۔ عوامی سطح پر فاطمہ جناح کی صدارتی الیکشن میں کامیابی یقینی سمجھی جا رہی تھی لیکن الیکشن کے سرکاری نتائج کا اعلان جنرل ایوب خان کی کامیابی کے طورپر کیاگیا۔ اس زمانے میں ایوب خان اور نام نہاد علمائے دین اور بنیاد پرست طاقتوں کو اس کا احساس ہوا کہ ملک کی جمہوری جدوجہد میں اگر عورتیں بھرپور طور سے فعال ہوگئیں تو یہ ان کی موت کے مترادف ہوگا۔

چنانچہ متعدد علماء نے محترمہ فاطمہ جناح کے خلاف فتوے دیے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسلام میں عورت سربراہ نہیں ہوسکتی، چنانچہ ملک اور قوم کے لیے کام کرنا یا کسی جمہوری جدوجہد میں عورت کا شریک ہونا، دین سے خارج ہونے کے مترادف ہے۔

محترمہ فاطمہ جناح کے بعد پاکستانی سیاست میں جیسے ٹھہراؤ سا آگیا تھا، کوئی بڑا نام سامنے نہیں آیا۔ تقریباَ 13 سال کے وقفے کے بعد جب ڈکٹیٹر نے پاکستان کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا تو اُن کی ہونہار اعلیٰ تعلیم یافتہ بیٹی ہارورڈ اورآکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ محترمہ بے نظیر بھٹونے اپنی والدہ کے ساتھ مزاحمتی سیاست کا آغاز کیا۔

محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کی والدہ نے اس سانحہ کوقومی سیاسی سانحہ میں تبدیل کرنے کے لئے پیپلز پارٹی کا کنٹرول سنبھالا اورایم آرڈی کے پلیٹ فارم سے جمہوریت کی بحالی کی تحریک کو منظم کیا۔ جنرل ضیاءنے جمہوریت بحالی کی اس تحریک کوکچلنے کے لئے ہر حربہ استعمال کیا لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی جدوجہدکو جاری رکھا۔ اس سے پریشان ہوکر جنرل ضیاء الحق نے محترمہ بے نظیرکو جلا وطنی پر مجبورکردیا۔ دو سال بعد محترمہ بے نظیر بھٹو اپنی جلاوطنی کے خاتمے پر دس اپریل 1986 کو جب لاہور ایئر پورٹ پر اتریں تو پاکستانی سیاسی تاریخ کے سب سے بڑے مجمعے نے محترمہ بے نظیر بھٹو کا استقبال کیا۔

ضیاء الحق مجبور ہوگیا اور اس نے الیکشن کا اعلان کردیا۔ اس دوران 17 اگست 1988 ءکو ضیاءالحق طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہوگئے۔ اس طرح پاکستان سے ایوب خان کے بعد دوسرے جنرل کی طویل حکومت کا خاتمہ ہوا اورغلام اسحق خان صدر مملکت کے منصب پر فائز ہوئے۔ اسی سال ہونے والے انتخابات میں پیپلزپارٹی محترمہ بے نظیر بھٹوکی قیادت میں سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی، محترمہ بے نظیر بھٹو وزیراعظم پاکستان منتخب ہوگئیں۔

انہیں پاکستان کی سب سے کم عمر وزیراعظم اور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم ہونے کا عزاز بھی حاصل ہوا۔ لیکن ان کی حکومت صرف اٹھارہ ماہ بعدکرپشن اور اقربا پروری کے الزام میں صدر غلام اسحٰق خان نے آئین کی دفعہ 58.2 bکے تحت برطرف کر دی۔ اس پر بھی بے نظیر بھٹو نے ہمت نہ ہاری اور مزاحمت کی سیاست کو جاری رکھا۔ وہ 1993 ءدوسری مرتبہ پھر وزیراعظم منتخب ہوگئیں۔ اس مرتبہ بھی اپنی ہی پارٹی کے اور پارٹی ووٹوں سے منتخب کرائے گئے صدر مملکت فاروق لغاری نے پرانے الزامات کے تحت ایک منتخب وزیراعظم کو وزارت عظمیٰ سے برطرف کردیا۔

ایک بار پھر جب ایک اور ڈکٹیٹر نے ملک میں پنجے گاڑے تو محترمہ بے نظیر بھٹو نے پہل کرتے ہوئے اپنے سیاسی مخالف نواز شریف کے ساتھ چارٹرڈ آف ڈیموکریسی کیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان آنے کیا فیصلہ کیا، ڈکٹیٹر کو سب سے بڑا خطرہ محترمہ بے نظیر بھٹو سے تھا۔ پرویز مشرف محترمہ بے نظیر بھٹو کو روکتے رہے لیکن محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا۔ شدید خطرات اور دھمکیوں کے باوجود محترمہ بے نظیر بھٹو نے کراچی ایئرپورٹ پر اترنے کا فیصلہ کیا، جب محترمہ بے نظیر بھٹو بہت بڑے قافلے کے ساتھ کارسازکے قریب پہنچی تو ان کے جلوس پر دہشت گردانہ حملہ کیاگیا۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا حملہ تھا، جیالے جو محترمہ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی پر خوشی میں نعرے لگاتے جارہے تھے اگلے ہی لمحے وہ خون میں لت پت تھے، سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن گئے اور سینکڑوں زخمی ہوگئے، خوش قسمتی سے محترمہ بے نظیر بھٹو کی جان بچ گئی۔

اس کے بعد انہیں مشورے دیے گئے کہ وہ بیرون ملک واپس چلی جائیں کہ ان کی جان کو خطرہ ہے لیکن وہ ان خطرات سے بے نیاز ہوکر اگلے ہی دن اپنے زخمی کارکنان کو دیکھنے ہسپتال پہنچ گئیں۔ اس کے بعد عوامی جلسوں اور جلوسوں میں شرکت کرتی رہیں۔ آخرکار 27 دسمبر 2007 ءکو راولپنڈی کے جلسے سے خطاب کے بعد واپسی پر وہ دہشتگرد حملے میں شہید ہوگئیں۔ اس طرح پاکستان ایک ذہین اور تعلیم یافتہ اور زیرک خاتون سیاستدان سے محروم ہوگیا۔ بلا شبہ ان کی شہادت سے پاکستان کی سیاسی قیادت میں جو خلا پیدا ہوا ہے وہ اب تک پر نہیں ہوسکا ہے۔

شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد آصف علی زرداری نے پیپلزپارٹی کو سنبھالا، بلکہ یوں کہیے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ملک انارکی کا شکار تھا اور جب لاڑکانہ میں ”نہ کھپے نہ کھپے پاکستان نہ کھپے“ (پاکستان نہیں چاہیے ) جیسے نعرے لگ رہے تھے اس وقت آصف علی زرداری نے پاکستان کو بچایا تھا۔ پاکستان میں پہلی بار ایک منتخب صدر اور ایک پارلیمان نے اپنا ٹینیور مکمل کیا۔ دوسرا ٹینیور نواز شریف نے بھی مکمل کیا۔

مسلسل دو بار پارلیمنٹ نے تو اپنا ٹینیور مکمل کیا لیکن بدقسمتی سے کسی منتخب وزیراعظم نے آج تک اپنا ٹینیور مکمل نہیں کیا۔

آج کل ایک بار پھر ملک میں 1980 کی دہائی والی سیاست، الزامات در الزامات، اپوزیشن جماعتوں کو برا بھلا کہنے اور اپوزیشن جماعتوں کے لیڈران کو پابند سلاسل کرنے کا دور جیسے واپس آگیا ہے۔

ملک کی خواتین کو بلاوجہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنی پڑرہی ہیں کیونکہ وہ اپنی جماعتوں میں اپنا ایک مقام رکھتی ہیں۔ جلسہ جلوس میں عوام کو نکالنے کی پاداش میں مریم نواز شریف کو اپنے والد کے سامنے گرفتار کیا گیا۔ اسی طرح عید کی رات 11 بجے محترمہ فریال تالپور کو ہسپتال سے زبردستی ڈسچارج کرکے جیل بھیجنا حالانکہ عید کے دن چئیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے مظفرآباد عید منانے گئے تھے۔

کشمیر میں بدتر حالات کے باعث ایک طرف حکومت وقت قومی یکجہتی برقرار رکھنا چاہتی ہے تو دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں کی خواتین کو محظ الزامات کی بنیاد پر پابند سلاسل کررہی ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا کہ جرم ایک صوبے میں ہوا اور کیس دوسرے صوبے میں چل رہا ہے۔ یہ سطور لکھنے تک جرم ثابت نہیں ہوا، محض سیاسی انتقام کے تحت ایک خاتون کو، جو صوبائی اسمبلی کی منتخب رکن ہیں،جیل میں قید کردیا گیا ہے۔ اسمبلی کے جانب سے پروڈکشن آرڈر کے باوجود اسے اسمبلی اجلاس میں نہیں لایا جارہا۔

بلا شبہ فریال تالپور ایک بہادر خاتون ہیں جو کہ اپنے بھائی اورسابق صدر پاکستان آصف علی زرداری کی بہن ہونے کے ناتے سے حکمرانوں کی انتقامی سیاست کا دلیری اور جرات کے ساتھ مقابلہ کررہی ہیں، بے شک اس وقت پاکستان میں جو سیاسی تاریخ لکھی جارہی ہے اس میں سیاسی انتقام کا نشانہ بننے والی خواتین مریم نواز شریف ہو یا فریال تالپور ان کا تذکرہ لازمی کیا جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •