یہ فائزہ نواز کِدھر سے آ گئی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچے کو نظر لگ جائے تو مائیں مرچیں بچے کے سر سے وار کر آگ میں پھینکتی ہیں۔ اسے کہتے ہیں نظر اُتارنا۔ نظر شدید ہو یا کوئی کالی بلائیں چمٹ جائیں تو کالی مُرغی اور سکت ہو تو کالے رنگ کا بکرا بطورِ صدقہ دِیا جاتا ہے۔

آج کل محکمہ پولیس کو شدید نظر لگی ہوئی ہے۔ یا شاید اس گھر میں شمشان گھاٹ کی بدرُوحوں نے خیمے لگا لیے ہیں۔

ایک مصیبت ٹلتی نہیں کی دُوسری آفت آن پڑتی ہے۔ ابھی ”صلاح ُالدین قتل“ کا شوروغوغا مدہم نہ پڑا تھا کہ بُورے والا پولیس کے اتھرے سورماؤں نے نیا چند چڑھا دیا۔

محمکہ بیچارہ پانی پانی ہوُا جاتاہے۔ سر جُھکائے، پشیماں پشیماں۔

ابھی پولیس کے رویہ پہ ماتم جاری تھا کہ وُکلاء برادری کے شیخوپُوری شہزادے نے انٹری ماری اور ایک لیڈی کانسٹیبل کا منہ رنگ دیا۔ فائزہ نواز نامی کانسٹیبل پہ ہاتھ اُٹھانے والے احمد مختار نامی معصُوم وکیل پہ شیخوپورہ پولیس نے پرچہ درج کیا۔ ہتھکڑی لگا، لڑکی کے ہاتھوں پکڑا، عدالت بھیج دیا۔

تصویر وائرل ہُوئی۔ اور اہلِ قال نے نعرہ مستانہ لگایا۔ حق ہُو۔ ! واہ واہ، انصاف کر دیا ڈی پی او شیخُوپُورہ نے! سُبحان اللہ! کیا کہنے!

وُکلاء برادری کی تعریف ہونے لگی۔ دیکھو جی وکیل سیانے ہو گئے۔ عورت کی عزت کی خاطر، قانُون کا عَلم بلند کرنے کے لیے چُپ سادھ لی ہے وُکلاء نے۔

مگر، ”حسرت اُن غُنچوں پہ جو بن کھلے مرجھا گئے“ ”

وکیل اگلے ہی دن میدان میں آگئے۔ اور لگے سینہ کُوبی کرنے۔ ظُلم ہو گیا ہمارے پیٹی بھائی پہ۔ ہتھکڑی لگادی۔ اور تو اور ایک لیڈی کانسٹیبل کو پکڑا دی۔ یہ تو انصاف لہو لہو ہو گیاجی۔

ظُلم کے یہ ضابطے ہم نہیں مانتے!

نہیں چلے گی، نہیں چلی گی

پولیس گردی نہیں چلے گی!

زندہ ہیں وُکلاء زندہ ہیں!

اُدھر فائزہ نواز ہتھکڑی لگائے پھُولے نہ سما رہی تھی۔ اُسے یقین تھا کہ یہ وکیل تو گیا کام سے۔

لائسنس بھی منسُوخ ہوگا۔ سزا بھی ملے گی۔ فائزہ نواز یقین کر بیٹھی تھی کہ جج حق نواز ہوگا اور وہ فائز المرام!

مگر پہلی پیشی پہ ہی جج صاحب ملزم پہ مائل پہ کرم ہوئے، اور ضمانت لے لی۔

وُکلاء نوازی نے انصاف کا گاٹا ہہلے جھٹکے میں ہی اُتار پھینکا۔

گویا طفل قبل از پیدائش ہی دایہ کے ہاتھوں مارا گیا۔

فائزہ نواز انگُشتِ بدنداں ہے۔ وہ شکوہ کُناں ہے اربابِ عدل سے اور سب سے بڑھ کر قانُون کے رکھوالے اپنے بھائی بندوں سے جنہوں نے ملزم کا نام ہی غلط درج کیا اور حقوق نسواں سے متعلق دفعات ہی نہیں لگائیں۔

وہ دلبرداشتہ ہے اس نظام سے،

اتنی دلبرداشتہ کہ ہواؤں کے بدوش خبر مِلی ہے کہ اُس نے استعفی دے دیا ہے۔ تف ایسے ہتھیار پہ جو اپنا ہی دفاع نہ کر سکے۔ خس کم جہاں پاک۔

وہ خوفزدہ ہے وکیلوں سے، جو اُسے دھمکیاں دے رہے ہیں۔

کہاں رہتی ہے یہ فائزہ نواز۔ !

کیا یہ عدالت کے اُس جج سے زیادہ معتبر ہے جس کا سر ایک وکیل نے کُرسی مار کے پھوڑ دیا تھا۔ !

یہ اُس پولیس انسپکٹر سے زیادہ طاقتور ہے جس کو تھانے کے اندر وُکلاء نے مار مار کر چمپُو بنا دیا تھا!

یہ اُس خاتُون جج کو نہیں جانتی جسے بار کے صدر نے کہا تھا کہ میرے آنے پہ لیٹ جایا کرو۔ اسے شاید اُس شہری کا نہیں پتہ جِس کی کھُتی ایک محترم وکیل نے اُس کی بچیوں کے سامنے تھپڑ مار کر اس لیے لال کردی تھی کہ وہ اس کے روکنے پہ سڑک پہ رُکا کیوں نہیں۔ بی بی فائزہ انجان بن رہی ہے۔ یہاں تو وکیل پولیس سے مُلزم تک چھین لیتے ہیں۔ یہ ٹُول پلازے پہ دس، بیس رُوپے ٹیکس سے بچنے کے لیے جنگ کاماحول بناتے نہیں دیکھے بی بی نے۔

کتنے دن ہوئے ہیں جب وکیلوں نے ملتان ہائیکورٹ کی عمارت کو تہہ وبالا کر کے رکھ دیا، قائد اعظم کی تصویر پاؤں میں ں روند ڈالی، جج کی تختی اُکھاڑ ڈالی۔ پھر لاہور ہائیکورٹ پہ دھاوا بولا، اور بے زُبان عمارت کا گیٹ اکھاڑ پھینکا۔

عدالت بنام وکیل مقدمہ چلا

آوازیں لگتی رہیں۔ خُرم شیر زمان حاضر ہو۔ !

معزز جسٹس منصور علی شاہ توہینِ عدالت کے نوٹس نکالتا رہا

اور می لارڈ یہ قانُون، می لارڈ فلاں دفعہ، کے حوالے دینے والے نوٹس کا بھونپو بنا کر بجاتے رہے۔ حکومتی مشینری لرزاں و ترساں یا اللہ مدد کا وِرد کرتی رہی۔ نتیجہ کیا ہُوا؟

ڈھاک کے تین پات! وکیل جیت گئے، عدالت ہار گئی۔

بی بی فائزہ غُصہ تُھوک دے۔

اُن کے پاس ہڑتالوں کا ہتھیار ہے۔ تیرے پاس کیا ہے؟ جب مذکُورہ بالا متاثرین کو انصاف مِل جائے گا تو انصاف ڈبہ پیک آپ کے دروازے پہ پہنچ جائے گا۔

وُکلاء ریاست ماں کے وہ شرارتی بچے ہیں جو کبھی غلط نہیں ہو سکتے،

یہ باقی بچوں کی کاپیاں پھاڑ دیں، یا پنسل چھین لیں

ٹِفن سے روٹی نکال کے کھا جائیں

چپت رسید کردیں یا تھپڑ

بال کھنچیں، گھونسہ ماریں

یا آنکھوں میں دُھول جھونک دیں۔

ماں کچھ نہیں کر سکتی

وہ تو ان کے سامنے ڈری ڈری، سہمی سہمی رہتی ہے!

بے چاری ماں۔ !

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •