لائن آف کنٹرول پر اچانک حملے کا اندیشہ اور ٹھوس حکمت عملی کی ضرورت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بگڑتی اور تکلیف دہ صورت حال پر اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے تشویش کا اظہار کیا ہے اور بھارت کی حکومت پر زوور دیا ہے کہ وہاں لاک ڈاؤن میں نرمی لائی جائے اور لوگوں کو مواصلت اور معمولات زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کی جائیں۔ تاہم اس بیان یا کسی دوسرے فورم پر مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر ہونے والی گفتگو کو پاکستان کی سفارتی کامیابی شمار کرنا ممکن نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق مشل بیچلٹ نے مقبوضہ کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت دونوں سے کہا ہے کہ انسانی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔

پاکستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کو عالمی ایجنڈا پر لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اس مقصد کے لئے وزیر اعظم عمران خان تسلسل سے ٹوئٹ پیغامات جاری کرتے ہیں اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی بیان دیتے رہتے ہیں۔ اس دوران پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور بھی مقدور بھر حصہ ڈالتے رہے ہیں۔ تاہم حالات کا مطالعہ کرنے سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں۔ ایک تو اقوام متحدہ ہو یا دنیا کا کوئی دوسرا ادارہ یا ملک، کشمیر یوں کی صورت حال پر بیان دیتے ہوئے، کرفیو اٹھانے اور شہریوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کرنے کی بات تو کی جاتی ہے لیکن ان بیانات یا تشویش میں کشمیریوں کے حق خود اختیاری کامطالبہ شامل نہیں ہوتا۔

بلکہ عام طور سے اسے پاکستان اور بھارت کا باہمی معاملہ قرار دے کر مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ پاکستان بھارتی اقدامات پر احتجاج کرنے اور کشمیر میں لاک ڈاؤن کو مسترد کرنے کے باوجود کشمیر کے مسئلہ کو حل کرنے کے لئے متبادل تجاویز پیش کرنے یا حکمت عملی اختیار کرنے میں ناکام ہے۔

اسلام آباد کی طرف سے بدستور اقوام متحدہ کی ستّر برس پرانی قراردادوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا جاتا ہے جس میں کشمیریوں کا حق خود اختیاری ثانوی حیثیت اختیار کرجاتا ہے، کیوں کہ اس میں دونوں ملکوں کے درمیان مسئلہ کو حل ہونا ہے۔ یا کشمیریوں کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن گزشتہ سات دہائیوں کے دوران نہ صرف علاقائی صورت حال و جغرافیہ تبدیل ہؤا ہے اور عالمی سطح پر گروہ بندیوں میں ڈرامائی تبدیلیاں آئی ہیں بلکہ کشمیریوں کی چوتھی نسل جوان ہوکر حالات کو اپنے ہاتھ میں لے رہی ہے۔

اس لئے یہ توقع کرنا سادہ لوحی ہوگی کہ وہ آج بھی وہی سوچتے اور مسئلہ کا اسی طرح حل چاہتے ہیں جیسا ان کے آبا و اجداد کے خیال میں مناسب تھا۔ پاکستان اس تبدیل شدہ صورت حال کے مطابق اپنی پالیسی لائن تبدیل کرنے اور کشمیریوں کے جذبات کی حقیقی ترجمانی کرنے میں ناکام ہورہا ہے۔ اس کی کشمیر پالیسی پاکستان کے قومی اسٹریجک مفادات سے جڑی ہوئی ہے اور اس میں تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔

خارجہ پالیسی کے حوالے سے پاکستان اپنی کمزور سفارتی پوزیشن کا ادراک کرنے سے بھی قاصر دکھائی دیتا ہے۔ یا کم از کم سرکاری بیانات اور نقظہ نظر میں اس کا عام ابلاغ نہیں ہوتا۔ جیسے اقوام متحدہ کی کمشنر برائے انسانی حقوق کشمیر کی بات کرتے ہوئے گو کہ مقبوضہ کشمیر میں عائد پابندیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر ہی تشویش ظاہر کرنا چاہتی تھیں لیکن انہوں نے لائن آف کنٹرول کے دونوں طرف سے موصول ہونے والی رپورٹوں کا ذکر کیا اور بھارت کے ساتھ پاکستان کو بھی انسانی حقوق کا خیال رکھنے کی تاکید کرنا ضروری سمجھا۔

حالانکہ اسلام آباد تو گزشتہ پانچ ہفتوں سے مسلسل یہ چلاّ رہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 80 لاکھ لوگوں کو گھروں میں بند کرکے نئی دہلی من مانی کررہا ہے۔ اقوام عالم اس کا نوٹس لیں۔ اسے بھارتی حکومت کی ’سفارتی مہارت‘ سمجھا جائے یا اس کے حجم کا بوجھ کہ کوئی بھی عالمی ادارہ بھارت کا ظلم روکنے یا اسے عوام کے ایک بڑے گروہ کے حقوق سلب کرنے کا ذمہ دار قرار دینے کا حوصلہ نہیں کرتا۔ بین السطور بات کرتے ہوئے، دونوں ملکوں سے مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کے لئے کہا جاتا ہے یا مشل بیچلٹ کی طرح بھارت کے ساتھ پاکستان کو بھی خبردار کیا جاتا ہے۔

صدر ٹرمپ کی طرف سے افغان امن مذاکرات معطل کرنے اور طالبان لیڈروں سے ملاقات منسوخ کرنے کا اچانک اعلان بھی پاکستان کی خارجہ اور سیکورٹی پالیسی کے لئے زبردست چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستانی حکام محض اس امید پر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے نہیں رہ سکتے کہ امریکہ ایک بار پھر اپنا ارادہ تبدیل کرلے گا اور پھر سے طالبان پر اثر و رسوخ کے لئے پاکستان کی ضرورت محسوس کی جائے گی۔ ہوسکتا ہے صدر ٹرمپ طالبان پر دباؤ کا ہتھکنڈا استعمال کرنے کے بعد ایک بار پھر مذاکرات کا سلسلہ شروع کرنے کی منظوری دے دیں لیکن پاکستان کو گزشتہ روز امریکہ کی افغان پالیسی میں سامنے آنے والی اچانک تبدیلی سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں امریکہ یا کسی دوسری طرف سے آنے والا کوئی اچانک اعلان اسلام آباد کے پالیسی سازوں کے لئے حیرت و استعجاب اور مشکل کا سبب نہ بنے۔

پاکستان نے یہ بات تسلیم کرنے میں دو سے تین دہائیاں صرف کی ہیں کہ کابل میں اسلام آباد کی من پسند حکومت کا قیام آسان ہدف نہیں ہے۔ یہ اصول طویل عرصہ تک پاکستان کی دفاعی اسٹریجک حکمت عملی کی بنیاد رہا ہے۔ اب بھی یقین سے یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں نے افغانستان کو پاکستان کے دفاع کے لئے اسٹریٹیجک ڈیپتھ سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔ کسی بھی ملک کو اپنے دفاع کے لئے اپنے علاقے اور صلاحیت پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ اس کے لئے کسی ہمسایہ ملک کے نظم پر کنٹرول کا خواب کانٹوں کی سیج ہی ثابت ہوتا ہے۔ اس راستے کے بہت سے کانٹے ہٹانے کے لئے ہزاروں پاکستانیوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی ہے۔

اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں مسلح جد و جہد کی سرپرستی اور حمایت کی پالیسی تبدیل کرنے اور اس کا اقرار کرنے میں تیس برس صرف کردیے گئے۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ذریعے دباؤ کے بعد ہی پاکستان نے جہادی گروہوں پر پابندی لگائی اور عالمی طور سے دہشت گرد قرار دیے گئے رہنماؤں کو منظر نامہ سے غائب کرنے کا اہتمام کیا گیا۔ ورنہ چار پانچ برس پہلے تک یہ سارے لیڈر دفاع پاکستان کونسل کے پلیٹ فارم سے کشمیر کی آزادی اور پاک فوج کی سربلندی کے لئے سروں پر کفن باندھ کر میدان میں نکلنے کے لئے بے تاب دکھائی دیتے تھے۔ حکمران جماعت تحریک انصاف بھی اس تنظیم سے اظہار یک جہتی کے لئے ان کے جلسوں میں اپنے وفود بھیجتی تھی اور وفاقی وزیر شیخ رشید تو ان کے مستقل مہمان مقررین میں شامل تھے۔

امریکہ کی تبدیل شدہ افغان حکمت عملی میں پاکستان کو افغانستان کے علاوہ علاقے میں نئی گروہ بندی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ضروری ہے کہ پاکستان، افغانستان میں بھارتی اثر و رسوخ میں اضافہ اور طالبان سے نمٹنے کے لئے تیارکیے جانے والے کسی ممکنہ نئے اتحاد کے بارے میں چوکنا رہے۔ طالبان کے بارے میں صدر ٹرمپ نے جس بدگمانی کا اظہار کیا ہے، وہ پاکستان کے لئے بھی خطرے کی گھنٹی ہے۔ اسے نظر انداز کرنا قومی مفاد سے رو گردانی کے مترادف ہوگا۔

کشمیر کی صورت حال اور افغانستان میں تبدیل شدہ امریکی حکمت عملی کے تناظر میں بھارتی جارحیت کے اندیشے کو نطر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان نے گزشتہ چند ہفتوں میں اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کا اعلان تواتر سے کیا ہے لیکن بیان دینے اور عملی صورت حال کا مقابلہ کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ بھارت نے کبھی اس بات سے انکار نہیں کیا کہ اس نے پاکستان کے خلاف اچانک سرجیکل اسٹرائیک یا کسی دوسری قسم کی جارحیت کا آپشن کھلا رکھا ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں پابندیاں ہٹنے کے بعد اٹھنے والا عوامی احتجاج اگر بغاوت کی صورت اختیار کرنے لگا یا بھارت کو کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال کے حوالے سے کسی بڑے عالمی دباؤ کا سامنا ہؤا تو اس امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ وہ لائن آف کنٹرول پر اچانک اور بڑا حملہ کرکے پاکستان کو دفاعی پوزیشن پر لانے اور دنیا کی توجہ کشمیر سے ہٹانے کی کوشش کرے۔

پاکستانی لیڈر اپنے بیانات میں اس اندیشے کا ذکر کرتے رہے ہیں لیکن اسے روکنے یا اس سے نمٹنے کے لئے کوئی حکمت عملی دیکھنے میں نہیں آئی۔ امریکہ نے اگر افغانستان میں اپنی موجودہ پالیسی میں تبدیلی کا فیصلہ کیا تو اس کا اثر پاک بھارت تعلقات اور پاکستان کی سلامتی پر بھی مرتب ہوسکتا ہے۔ یہ صورت حال نعروں اور غصیلے بیانات کی بجائے، ٹھوس حکمت عملی سامنے لانے کا تقاضہ کرتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 1262 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali