پنجاب پبلک سروس کمیشن حاضر ہو!

پنجاب پبلک سروس کمیشن صوبہ پنجاب کے حکومتی اداروں کی ماں ہے۔ ماں اس طرح کہ یہ کم و بیش تمام پبلک اداروں کو قابل افسران کی کھیپ مہیا کرتا ہے۔ صوبائی بیوروکریسی کے بہت سے افسران اسی ادارے کے کوالیفائیڈ ہیں۔ پچھلے کچھ ماہ سے یہ ادارہ دباؤ میں ہے۔ اس دباؤ کا نقطہ آغاز وہ سیاہ سکینڈل ہے جس نے اس عظیم ادارے کے منہ پہ وہ کالک ملی کہ آج تک اترنے کا نام نہیں لیتی۔ امر

Read more

اساتذہ احتجاج کا ممکنہ حل کیا ہے

آج کل ملک پہ تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ تحریک انصاف حکومت کو لانے کا سب سے زیادہ چائو جس طبقے کو چڑھا تھا وہ اساتذہ ہیں۔ بے چاروں نے ایڑھیاں اٹھا اٹھا کر عمران خان کی سپورٹ کی۔ ساتھیوں سے الجھے۔ کچی پکی معلومات کے زور پہ، مناظرے کر کے اپنے حلقہ احباب کو قائل کیا کہ کوئی اور نہیں بس عمران خان! اس طبقے نے اکیڈمیوں سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، میں طلبا کو سبق کم پڑھایا، مگر ایڑھی چوٹی

Read more

اساتذہ حکومت پنجاب کے خلاف سراپا احتجاج کیوں ہیں؟

یہ دسمبر 2020 ہے۔ اسلام آباد کی ایک شام نے دیکھا کہ پولیس جوانوں کے ایک جتھے پہ پل پڑی۔ لتر پولا، لاٹھی چارج، شیلنگ سے بھرپور سواگت کیا گیا۔ یہ جوان بانکے پنجاب بھر سے آئے تھے بنی گالہ دھرنا دینے۔ یہ پنجاب کے سکولوں کے سیکنڈری سکول ٹیچرز اور اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیسرز تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ سات سال ہو گئے سرکار کی نوکری کرتے۔ ہم NTS ٹیسٹ پاس کر کے، محکمانہ انٹرویو دے کر بھرتی ہوئے

Read more

یہ استادوں کا مسئلہ کیا ہے!

ہیلو استاد! آپ کے پاس کچھ وقت ہے۔ اگر ہے تو میں آپ کو استادوں کا مسئلہ سمجھا دوں۔ کون سے استاد! قوم کے وہ استاد جن کی اسلام آباد پولیس نے خوب پھینٹی لگائی۔ بالکل جیسے دھوبی کپڑے پھینٹتا ہے۔ اور ہاں، ساتھ دھوئیں والے بمب مار مار کر ان استادوں اور استانیوں کو ادھ موا کر دیا۔ ہائے یہ میرے بچوں کے استاد! ہائے یہ میری نسلوں کے معمار! ہم استاد ہی تھے جنہیں تبدیلی کا پورا تاپ

Read more

مولانا طارق جمیل کی بہتی گنگا

مولانا طارق جمیل وقت رواں کے ایک معتبر عالم دین ہیں۔ مولانا ڈاکٹر بن رہے تھے مگر خدمت دین کی طرف آگئے اور چہار دانگ عالم میں اپنا لوہا منوایا۔ کیا بریلوی، کیا دیوبندی، کیا اہلحدیث، کیا شیعہ سبھی حلقوں میں مولانا کے قدردان موجود ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ مولانا متشدد خیال نہیں۔ معتدل طبیعت ہیں۔ مسکراتے ہوئے گفتگو کرتے ہیں۔ لہجہ پراثر ہے۔ اور سب سے خوبصورت بات یہ کہ جذبہ اتحاد امت کے تحت مخالف مکتبۂ فکر

Read more

حکمرانو! کچھ کرونا

میں رواں دائرے میں رہ گیا ہوں اس لیے راستے میں رہ گیا ہوں ہر خسارے کو سوچ رکھا تھا میں بہت فائدے میں رہ گیا ہوں مرقومہ بالا شعر بہاولپور کے ایک ذرخیز دماغ اظہر فراغ کا ہے۔ اور حالاتِ حاضرہ کے تناظر میں بار بار گنگنانے کو دل کر رہا ہے۔ کورونا کی وبا پھیل گئی ہے۔ کچھ اور پھیلے گی۔ کچھ کیس ریکارڈ پہ آگئے ہیں۔ کچھ اور آئیں گے۔ اور آتے چلے جائیں گے۔ آخری جُملہ

Read more

جعلی وکیل، اصلی تماشے

ایک تھا کاکا منّا۔ شرارتی سا اتھڑا سا۔ ہر راہگیر سے پنگا لیتا۔ کسی کوچُٹکی کاٹ دیتا، کسی کے کان پہ دھر دیتا، کرتے کرتے ایسی نازیبا حرکات کرنے لگا کہ خُدا کی پناہ! گھر والے تگڑے تھے، لوگ ڈرتے تھے کہ شکایت کرنے پہ بھی سو سو دلائل ملیں گے یا دھمکیاں۔ سو لوگ چُپ کر رہے۔ مُنا ٹُوٹے چھِتر کی طرح بڑھتا چلا گیا۔ اور بات بچوں سے بڑوں تک جاپہنچی۔ ایک بابا جی کو پیچھے سے دوہتڑ

Read more

کونو کارپس بھی نواز شریف ہے

نواز شریف لاہور کے کشمیری بٹوں کا لڑکا ہے۔ تین دفعہ مُلک کا حُکمران رہا۔ تینوں دفعہ مُدت پُوری نہ کر سکا۔ آئین کے دائرے کی رٹ لگاتا ہے۔ سائیں لوگوں نے سمجھایا بھی، دیکھ چھورے ہمیں چوکور، مثلث، دائرے شائرے کا سبق نہ پڑھا۔ مگر چھورا سٹھیا گیا، نہ باز آیا۔ آج کل دائرے سے باہر کوٹ لکھپت جیل میں ہوتا ہے۔ آخری دفعہ 2013 میں حکُومت میں آیا۔ ابھی ہاتھوں کی مہندی خُشک نہ ہوئی تھی کہ اُس

Read more

یہ فائزہ نواز کِدھر سے آ گئی؟

بچے کو نظر لگ جائے تو مائیں مرچیں بچے کے سر سے وار کر آگ میں پھینکتی ہیں۔ اسے کہتے ہیں نظر اُتارنا۔ نظر شدید ہو یا کوئی کالی بلائیں چمٹ جائیں تو کالی مُرغی اور سکت ہو تو کالے رنگ کا بکرا بطورِ صدقہ دِیا جاتا ہے۔ آج کل محکمہ پولیس کو شدید نظر لگی ہوئی ہے۔ یا شاید اس گھر میں شمشان گھاٹ کی بدرُوحوں نے خیمے لگا لیے ہیں۔ ایک مصیبت ٹلتی نہیں کی دُوسری آفت آن

Read more

یہ بھی کولیٹرل ڈیمیج ہے!

سانحہ اے پی ایس پشاور کے بعد قوم کو ایک نئی انگلش ترکیب سے شناسائی ہوئی ہے۔ کولیٹرل ڈیمیج! دُشمن سے جنگ کرتے ہُوئے جب اپنا نُقصان کرنا پر جائے یا ہو جائے تو یہ کولیٹرل ڈیمیج ہے۔ سانحہ ساہیوال کے حوالے سے ایک پولیس افسر سے گفتگو کا موقع مِلا۔ وہ تبدیلی کے حد درجہ شوقین ہیں۔ سانحہ ساہیوال نے ہر شہری کو اشکبار کر دیا تھا۔ ان صاحب نے کہا کہ دیکھ لیجئیے محکمے نے ایکشن لے لیا

Read more

خدا کی بستی، نوشا سے ریحان تک

1957میں شوکت صدیقی نے ایک ناول لکھا ”خدا کی بستی“ بعد ازاں اس کی ڈرامائی تشکیل بھی ہوئی، جس نے خاصی شُہرت پائی۔ کہانی کا زمانہ 1957 کا کراچی ہے۔ سارا کراچی نہیں کراچی کی کچی بستیاں! یہ کراچی کی غریب کلاس پہ لکھا گیاہے۔ فرنٹ لائن پہ موجُود کردارنوشا، انُو اور راجہ ہیں۔ ہیں جو پہلی سطر سے آخری ورق تک ساتھ چلتے ہیں۔ نوشا، انو بھائی ہیں اور یتیم ہیں۔ راجہ لاوارث ہے، کِسی فقیر کی ریڑھی دھکیلتا

Read more