جعلی وکیل، اصلی تماشے

ایک تھا کاکا منّا۔ شرارتی سا اتھڑا سا۔ ہر راہگیر سے پنگا لیتا۔ کسی کوچُٹکی کاٹ دیتا، کسی کے کان پہ دھر دیتا، کرتے کرتے ایسی نازیبا حرکات کرنے لگا کہ خُدا کی پناہ! گھر والے تگڑے تھے، لوگ ڈرتے تھے کہ شکایت کرنے پہ بھی سو سو دلائل ملیں گے یا دھمکیاں۔ سو لوگ…

Read more

کونو کارپس بھی نواز شریف ہے

نواز شریف لاہور کے کشمیری بٹوں کا لڑکا ہے۔ تین دفعہ مُلک کا حُکمران رہا۔ تینوں دفعہ مُدت پُوری نہ کر سکا۔ آئین کے دائرے کی رٹ لگاتا ہے۔ سائیں لوگوں نے سمجھایا بھی، دیکھ چھورے ہمیں چوکور، مثلث، دائرے شائرے کا سبق نہ پڑھا۔ مگر چھورا سٹھیا گیا، نہ باز آیا۔ آج کل دائرے…

Read more

یہ فائزہ نواز کِدھر سے آ گئی؟

بچے کو نظر لگ جائے تو مائیں مرچیں بچے کے سر سے وار کر آگ میں پھینکتی ہیں۔ اسے کہتے ہیں نظر اُتارنا۔ نظر شدید ہو یا کوئی کالی بلائیں چمٹ جائیں تو کالی مُرغی اور سکت ہو تو کالے رنگ کا بکرا بطورِ صدقہ دِیا جاتا ہے۔ آج کل محکمہ پولیس کو شدید نظر…

Read more

یہ بھی کولیٹرل ڈیمیج ہے!

سانحہ اے پی ایس پشاور کے بعد قوم کو ایک نئی انگلش ترکیب سے شناسائی ہوئی ہے۔ کولیٹرل ڈیمیج! دُشمن سے جنگ کرتے ہُوئے جب اپنا نُقصان کرنا پر جائے یا ہو جائے تو یہ کولیٹرل ڈیمیج ہے۔ سانحہ ساہیوال کے حوالے سے ایک پولیس افسر سے گفتگو کا موقع مِلا۔ وہ تبدیلی کے حد…

Read more

خدا کی بستی، نوشا سے ریحان تک

1957میں شوکت صدیقی نے ایک ناول لکھا ”خدا کی بستی“ بعد ازاں اس کی ڈرامائی تشکیل بھی ہوئی، جس نے خاصی شُہرت پائی۔ کہانی کا زمانہ 1957 کا کراچی ہے۔ سارا کراچی نہیں کراچی کی کچی بستیاں! یہ کراچی کی غریب کلاس پہ لکھا گیاہے۔ فرنٹ لائن پہ موجُود کردارنوشا، انُو اور راجہ ہیں۔ ہیں…

Read more