اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔ ۔ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تقریباً 1400 سال قبل آج کے دن سیدنا حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دنیا نے شہید ہوتے ہوئے دیکھا تھا، دیکھنے والوں میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بھی تھے، دیگر مسلمان اور یہودی و نصرانی بھی۔ تب بھی مسلمان مختلف شعوب و قبائل، مسالک و مذاہب میں بٹا ہوا تھا اور آج بھی بٹا ہوا ہے۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ظلم کے خلاف ’بغاوت‘ کا کربلائی استعارہ بن گئے اورمزید ظلم یہ ہوا کہ معاملہ اس سے آگے کبھی بڑھا نہیں۔

ایسا نہیں کہ غم حسین منانے والے ایران میں لوگ ناحق قتل نہیں ہورہے ہیں، ایسا بھی نہیں کہ ماتمیوں نے اپنے ظلم کو ظلم سمجھا ہو، ایسا بھی نہیں کہ ’ظلم کے خلاف بغاوت‘ کی کبھی آزادی دی گئی ہو اور ایسا بھی نہیں کہ فاطمی اور صفوی ادوار حکومت میں سنی علماء کا قتل عام نہ ہوا ہو۔ سب ہوا ہے اور اس یقین کے ساتھ ہوا ہے کہ جو کچھ ہوا ہے وہ درست ہوا ہے۔ مسلم بادشاہ ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہوئے ہیں، کشتوں کے پشتے لگے ہیں۔

ہماری پوری ’اسلامی‘ تاریخ اس قسم کے خونریز معرکوں سے بھری پڑی ہے جس میں مارنے والے مسلمان تھے اور مرنے والے بھی مسلمان ہی تھے بس صرف ایک ہی فرق تھا کہ یہ سب نواسہ رسول نہیں تھے۔ تاریخ نے یہ بھی دیکھا کہ جنہوں نے انہیں بلایا اور بعد ازاں اپنے دروازے بند کرلئے وہی اب سب سے زیادہ ماتم بھی کررہے ہیں۔ لہٰذا تاریخ کو عقیدے سے الگ کردیں کہ جو کچھ تاریخ کے باب میں سیاہ حاشیئے رقم کیے گئے ہیں وہ ہمارے عقیدے کا حصہ نہیں ہیں یہ الگ بات ہے کہ بیشتر مظالم کو عقیدے کا حصہ بنا کر جواز عطا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

کربلا بھی تاریخ کا ایسا ہی ایک سیاہ ترین باب ہے جس کو میں کسی صورت جواز عطا نہیں کرسکتا۔ کربلا ہمارے عقیدے کا حصہ نہیں کہ یہ قیامت خیز واقعہ دین اسلام کے مکمل ہونے کے برسوں بعدرونما ہوا ہے لیکن میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ یزید غلط نہیں تھا اور یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کوئی غلطی نہیں ہوئی۔ صرف انبیاء معصوم عن الخطا ہیں صحابہ نہیں۔ ان کی عظمت و تقدیس اپنی جگہ پر مسلم ہے لیکن وہ بھی انسان تھے، ان سے اجتہادی اور بشری غلطیاں ہوسکتی تھیں اور ہوئی بھی ہیں۔

سیدنا امیرمعاویہ سے بھی ہوئی۔ اجتہادی، بشری اور پدری غلطی۔ یزید کو اپنا جانشین نامزد کرنا یہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قاتلین کا قصاص نہ لینے کے بعد دوسری اور آخری سب سے بڑی غلطی تھی جس نے ایک ایسے سیاسی فتنے کا بند کھول دیا جسے اب قیامت تک باندھا نہیں جاسکتا۔ آپ لاکھ جواز عطا کریں لیکن یہ یزید کی ناقابل معافی غلطی تھی کہ اس نے معاملے کی تفتیش نہیں کی، عبید اللہ بن زیاد کو سزا نہیں دی اور یوں حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل کو درست سمجھا۔

تاریخ اسلام اپنی دو انتہاؤں پر سوار ہوکر ہم تک پہنچی ہے، ایک ماتمی گروپ کا وہ مختصر لیکن شدید انتہا پسند عنصر ہے جو بدعہدی کرتا ہے، ماتم کرتا ہے اور پھر اس یقین اور تواتر کے ساتھ جھوٹ بولتا ہے کہ کذب بیانی اور افتراپردازی اس کے بنیادی عقیدے کا جزلاینفک ہوجاتی ہے اور ایک وہ دوسری انتہا پر پہنچا ہوا قلیل تعداد گروپ ہے جو اجتہادی غلطی کے نام پر سفاکیت کو فروغ دیتے ہوئے خود کو درست قراردے رہا ہے۔ شیعہ اور سنی مسالک کے بیشتر مسلمان آج بھی انہیں دو انتہاپسند گروہوں کے سائے میں جی رہے ہیں۔

اللہ رب العزت کا ارشاد ہے وَمَا أَصَابَکُم مِّن مُّصِیبَةٍ فَبِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیکُمْ وَیَعْفُو عَن کَثِیر (سورہ شوریٰ 30 ) یعنی تمہیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہوتی ہے اور وہ بہت سارے گناہوں کو معاف کردیتا ہے۔ اگر آج ہم پوری دنیا میں ذلیل و خوار ہورہے ہیں تو غم نہ کریں کہ یہ مصیبتیں ہم نے خود کمائی ہیں، ہماری اپنی غلط ترجیحات کی دین ہیں، یہ دو انتہاؤں میں جینے کی منافقت کی اذیت ہے۔

یہ دو انتہائیں ہیں کہ آپ کو کشمیری اور فلسطینی مسلمانوں کا غم سمجھ میں آتا ہے لیکن فوج صرف کشمیر کے لئے بھیج سکتے ہیں مسجد اقصیٰ کے لئے نہیں۔ آپ ہندوستان کو برباد دیکھنا چاہتے ہیں اور اتنا بھی خیال نہیں کہ ہندوستان اگر برباد ہوگا تو اس میں آباد انیس کروڑ مسلمان بھی برباد ہوں گے۔ یہ ہے آپ کا شعور اور لعنت ہے ایسے شعور پرجو دور اوردیر تک دیکھنے کی صلاحیت سلب کرلے۔ آپ کو کاشغر اور چیچنیا کے مسلمان نظرنہیں آرہے ہیں کیوں کہ آپ روس اور چین کے حکمرانوں کے دربار عالیہ میں احتجاج درج نہیں کرواسکتے کیوں کہ آپ اپنے سیاسی مفادات کو قربان نہیں کرسکتے۔

چونکہ ظلم و نا انصافی کا آپ کا بیانیہ بہت ’سلکٹو‘ ہے، اس لئے دنیا بھی اسی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ قرآن کی ایک دوسری آیت کے ساتھ بات ختم کرنا چاہوں گا کہ ’وَإِذَا أَرَدْنَا أَن نُّھْلِکَ قَرْیَةً أَمَرْنَا مُتْرَفِیھَا فَفَسَقُوا فِیھَا فَحَقَّ عَلَیْھَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاھَا تَدْمِیرًا۔ سورہ الاسراء 16 ) یعنی جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرلیتے ہیں تو ہم وہاں کے خوش حال لوگوں کو کوئی حکم دیتے ہیں، تو وہ اس کی نافرمانی کرتے ہیں، پس ہمارا قول سچ ثابت ہوجاتا ہے، سو ہم اس بستی کو تہہ و بالا کردیتے ہیں۔

مفسرین نے اس آیت میں فسق کی تشریح فحش کاری اور عیش پرستی سے کی ہے کہ وہ فحش کاری اور عیش پرستی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ قصہ مختصر اینکہ آپ (مسلمانوں ) کی مصیبتوں کا ذمہ دار، اسرائیل، امریکہ، برطانیہ، کشمیر اور فلسطین نہیں آپ خود ہیں۔ مسلم دنیا کے خوش حال لوگوں کا رہن سہن دیکھ لیں اور ’فدمرناھا تدمیرا‘ کا انتظار کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد ہاشم خان

مصنف افسانہ نگار ناقد اور صحافی ہیں، ممبئی، ہندوستان سے تعلق ہے

hashim-khan-mumbai has 10 posts and counting.See all posts by hashim-khan-mumbai