نیاقومی ہیرو:صلاح الدین

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پہلے میں آپ کو صلاح الدین کی کہانی سناتا ہوں :

صلاح الدین گوجرانوالہ کا رہائشی تھا۔ یہ پچھلے دس سال سے خود کو گونگا ’بہرہ اور ابنارمل بنا کر پیش کر رہا ہے۔ اس کے ثبوت کے لیے اس نے خود اپنے ہاتھ پہ اپنا نام بھی کھدوایا تاکہ جب جب پکڑا جائے وہ خود کو بے گناہ پاگل ثابت کر سکے۔ مختلف ذرائع سے معلوم ہوا کہ صلاح الدین کا تعلق مکمل مذہبی گھرانے سے تھا‘ اس کے دو بھائی جہادی سرگرمیوں میں بھی شامل تھے اور مختلف واقعات میں مارے گئے۔ صلاح الدین کا تازہ ترین یہ واقعہ وائرل ہونے کے بعد ایک ہفتے میں تقریبا دس کے قریب ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں جو مختلف شہروں کی تھیں ’جہاں اس نے مختلف بینکوں کی اے ٹی ایم مشین سے پیسے چرائے اور پکڑے جانے پر پاگل پن کا ڈھونگ رچا کر بچ نکلتا رہا۔

2018 ء میں اسلام آباد میں دو مقدمات میں اس کے خلاف چالان ہوا اور وہاں بھی یہ پاگل بنا اور رہا ہو گیا۔ اسلام آباد کے سیکٹر آئی نائن سے بھی ایک شخص کو جمع پونجی سے محروم کیا ’پکڑا گیا تو اہلِ خانہ نے پاگل کہہ کر مقدمہ خارج کروایا۔ اس کے بعد فیصل آباد کی ویڈیو وائرل ہوئی اور اس کی شہرت کو چار چاند گئے۔ اسی نام نہاد پاگل نے جولائی میں صادق آباد میں بھی ایک وارادت میں نظر آتا ہے جہاں یہ اے ٹی ایم سے بیس ہزار نکالتا ہوا کیمرے کا رخ بھی بدل دیتا ہے۔

صادق آباد میں ہی دوسری واردات کی ویڈیو بھی نظر آتی ہے۔ آخرکا ر 30 اگست کو یہ پاگل رحیم یار خان کی اے ٹی ایم پر واردات کرتا شہریوں کے ہتھے چڑھ گیا۔ میڈیا رپوٹنگ کی وجہ سے شناخت ہوئی تو مشتعل عوام نے اسے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور اسے پولیس کے حوالے کر دیا۔ یہاں سے وہ کہانی شروع ہوتی ہے جو آج ہر پاکستانی کے پاس ہے کہ پولیس نے روایتی تفتیش کی۔ مگر معاملہ یہاں بھی الٹا نظر آتا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق جب صلاح الدین کو پولیس نے جیل میں بند کیا تو یہ خود ہی اپنے جسم پر زخموں کے نشانات لگانے لگا ’باقی قیدیوں سے لرائی جھگڑا کرنے لگا اور اسی دوران زخمی ہو گیا۔ کچھ تفتیش کے زخم اور کچھ اس کے اپنے ڈرامے کے زخم۔ اس حالت میں ہسپتال پہنچا اور دم توڑ گیا۔

میں پچھلے ایک ہفتے سے میں اس عجیب ترین واقعے کو سمجھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ پچھلے دس سال سے یہ شخص ابنارمل ’گونگا اور بہرہ بن کر اے ٹی ایم مشین سے پیسے نکال رہا ہے۔ آج جب پکڑاب گیا ہے توپولیس کے رویے نے اسے حد سے زیادہ گلیمرائز بنا دیا۔ ایک ہفتے میں یہ معاملہ اتنی شہرت اختیار کر گیا کہ یہ ٹویٹر‘ انسٹاگرام اور فیس بک کا ٹاپ ٹرینڈ بنتے بنتے رہ گیا۔ میں نے بہت دن سوچا کہ مجھے اس موضو ع پر کالم لکھنا چاہیے یا نہیں کیونکہ اب یہ موضوع انتہائی حساس بن گیا ہے۔

عوام نے صلا ح الدین کی خدمات کو چند دنوں میں جس ذبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے ایسے میں اس طرح کے موضوع پر بات کرنا ”موت کو ماسی“ کہنے کے مترادف ہے۔ لیکن پھر بھی لکھ رہا ہوں کیونکہ میرا خیال ہے کہ ہمیں تصویر کے دونوں رخ کو دیکھنا ہوگا۔ جہاں ہمیں ایک طرف پولیس کے اس وحشیانہ رویے پر بھرپور مزاحمت کرنی چاہیے وہاں ہمیں دوسری طرف صلاح الدین کے کردار کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔ کیونکہ ہم صرف ایک طرف کے ظلم اور زیادتی کو سامنے رکھ کے معاملے کو بالکل بھی نظر انداز نہیں کر سکتے اور نہ ہی ایسا کرنا چاہیے۔

وہ شخص جودس سال سے قوم کو بیوقوف بنا رہا تھا ’پنجاب پولیس کی ”پولیس گردی“ نے اس کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ وہ شخص جو کچھ دیر قبل گونگا اور ابنارمل تھا وہ پولیس کی حراست میں فرفر بولنے لگا‘ سوالات کے جوابات بھی دینے اور جرم بھی تسلیم کر لیا۔ اب سوال یہ ہے کہ فرض کریں اگر وہ نہ پکڑا جاتا ’فرض کریں اس کا یہ ڈرامہ مزید اسی طرح جاری رہتا تو کیا قوم اسے پکڑ پاتی؟ کبھی نہیں کیونکہ ایسے لوگ کبھی بھی قابو میں نہیں آتے۔

دکھ تو یہ ہے کہ ہم ہمیشہ سے ڈکٹیٹروں ’آمروں اور بدمعاشوں کے ہاتھوں بے وقوف بنتے رہے۔ یہ قوم ہمیشہ ان لوگوں کو سر پہ بٹھاتی رہی جس نے اس سادہ لوح قوم کو سب سے زیادہ دھوکا دیا یا لوٹا۔ ہم بہت عجیب لوگ ہیں، جس نے بھی ہمیں جی بھر کے چونا نہ لگایا ہم نے اسے اپنا ہیرو تسلیم کر لیا یہی وجہ ہے کہ اس قوم نے آج تک نہ بھٹو کو مرنے دیا اور نہ ہی شریف برادران کی ”خدمت کی سیاست“ کو ختم ہونے دی۔ بس یہی وجہ ہے کہ پچھلے ستر سالوں میں یہ ملک اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہو سکا۔ یہاں کبھی بھٹو خاندان اپنی جاگیرداری چمکاتا رہا تو کبھی میاں برادران اس ملک کو اپنی ملکیت اور اس قوم کو اپنی رعایا سمجھتے رہے۔

میرے اس کالم کو قطعاً پولیس کی حمایت نہ سمجھا جائے اور نہ ہی صلاح الدین سے ہونے والی زیادتی کی حمایت سمجھا جائے بلکہ اسے نیوٹرل ذہن کے ساتھ پڑھا جائے۔ میں ذاتی طور سمجھتا ہوں کہ پنجاب پولیس کایہ وحشیانہ رویہ حد سے زیادہ قابلِ افسوس اور قابلِ مذمت ہے کیونکہ عمران خان کا پولیس ڈیپارٹمنٹ میں اصلاحات لانے والا دعوی بھی باقی درجنوں دعووں کی طرح کھوکھلا نکلا۔ پچھلے دس ماہ میں پولیس کی حراست میں مرنے والے ملزموں کی تعداد تقریبا دو درجن ہے اور ہر ہلاکت کے بعد یا تو معاملہ ملزم پہ ڈالا جاتا رہا ’یا دوسرے فریق سے صلح ہو تی رہی یا پھر مقدمہ درج کر کے معاملہ لٹکا دیا جاتا ہے۔

کیا یہ ملک اسی طرح پولیس گردی میں مارا جاتا رہے گا یا اس میں بہتری بھی آئے گی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب اب ہمارے چہیتے وزیر اعظم عمران خان کے پاس بھی نہیں کیونکہ سب سے زیادہ ”پولیس گردی“ کے خلاف عمران خان بولے اور جب حکومت آئی تو سب کچھ بھول گئے۔ عوام کو تو ایک ”ہارٹ اسٹوری“ چاہیے لہٰذا اسے کوئی نہ کوئی نیا واقعہ اور اسکینڈل مل جاتا ہے اور یہ ایک دو ہفتے اس کے ساتھ گزارتی ہے۔ جب وہ ختم ہوتا ہے تو کوئی نیا ایشو یا اسکینڈل تیار ہوتا ہے۔

اس قوم کو کبھی سنجیدہ مسائل کے سوچنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ یہ ہر اس شخص کی حمایت کرے گی ’اس کے حق میں احتجاج کرے گی جس نے کوئی جرم کیا اور معصومی کا لبادہ اوڑھ کر خود کے بے گناہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ بس ایسے لوگ اس قوم کے ہیروز ہیں اور لیجنڈ بھی۔ یقین جانیں اس قوم کا بس نہیں چل رہا ورنہ یہ راتوں رات صلاح الدین کو نوبل پرائز دلوا دے اور اس کا نام ”گینیز بک آف دی ورلڈ ریکارڈ“ میں بھی شامل کروا دے کیونکہ صلاح الدین کا کارنامہ ہی اتنا بڑا ہے کہ اسے بھولا نہیں جا سکتا۔

مجھے سمجھ نہیں آ رہی کیا ہم محض اس لیے صلاح الدین کو ہیرو بنانے پہ تل گئے ہیں کہ اس نے پولیس کی حراست میں جان دی یا صرف پولیس سے نفرت کے باعث ہم اصل معاملے کو دانستہ طور پرپس پشت ڈال رہے ہیں۔ مجھے یہ سوچنے میں وقت لگے گا کیونکہ معاملہ کافی گھمبیر ہے۔ میں جاتے جاتے صلاح الدین کے ”حلقہ مریدین“ سے معافی بھی مانگتا جاتا ہوں کیونکہ کہیں ایسا نہ ہو یہ قوم میرے خلاف بھی محاظ کھڑا کر دے کہ میں نے صلاح الدین کی دانائی اور بہادری کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔

مجھے تو اب یہ خوف شدید گھیرے ہوئے ہے کہ کہیں ہم صلاح الدین کی قبر کو مزارنہ بنا دیں ’اس پہ چڑھاوے اور چادریں نہ چڑھنا شروع ہو جائیں کیونکہ اس قوم سے کسی بھی وقت کچھ بھی توقع ہے۔ یہ قوم ہمیشہ ایسے لوگوں کے مزارات بناتی آئی ہے جس نے اس قانون کے ہاتھ میں لیا اور اسے پاؤں کی جوتی پہ رکھا۔ مجھے ڈر ہے کہیں اب بھی ایسا نہ ہو جائے۔

خدارا تصویر کے دونوں رخ کو دیکھنے کی کوشش کریں اور ہر کام میں اتنا جذباتی مت ہوں۔ اے ٹی ایم مشینوں میں تصویریں بنوانے کی بجائے اس سسٹم کے خلاف بات کریں اور صلاح الدین جیسے مجرموں کا ساتھ دینے کی بجائے اسے بے نقاب کریں۔ صلاح الدین سے بطور مجرم ہمدردی نہ کریں بلکہ بطور مقتول ہمدردی کریں تاکہ پولیس گردی کا خاتمہ ہو اور صلاح الدین جیسے لوگ پکڑے جاتے رہیں۔ (قارئین کالم ”معاہدہ عمرانی“ کا تیسرا اور آخری حصہ اس اگلے ہفتے آئے گا)

۔ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •