سو بادشاہ کو بحران چاہیے

یہ تقریباً بیس سال پہلے کی بات ہے لیکن لگتا ہے کہ جیسے ابھی کل کی بات ہے، یوں لگتا ہے کہ وقت بہت تیزی سے گزرنے کے بعد بھی ایک جگہ ٹھہرا ہوا ہے اور کہہ رہا ہے کہ ’اب تو ہر چیز بدل گئی ہے، تم بھی کبھی بدلو گے یا نہیں، اگر…

Read more

اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں۔ ۔ ۔

تقریباً 1400 سال قبل آج کے دن سیدنا حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دنیا نے شہید ہوتے ہوئے دیکھا تھا، دیکھنے والوں میں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین بھی تھے، دیگر مسلمان اور یہودی و نصرانی بھی۔ تب بھی مسلمان مختلف شعوب و قبائل، مسالک و مذاہب میں بٹا ہوا تھا اور آج بھی بٹا ہوا ہے۔ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ ظلم کے خلاف ’بغاوت‘ کا کربلائی استعارہ بن گئے اورمزید ظلم یہ ہوا کہ معاملہ اس سے آگے کبھی بڑھا نہیں۔

Read more

ایران توران والوں سے ایک گزارش

اپنے گزشتہ مضمون میں راقم نے لکھا تھا کہ ٹھیک ہے آپ ہمیں ڈرانے میں کامیاب ہوگئے ہیں سو اب آگے کیا؟ جس پر مختلف اقسام کے متضاد و مخلوط ردعمل سامنے آئے۔ ہندوستانی قارئین نے مضمون کو اس طور پسند فرمایا کہ یہ مشکل گھڑی میں ہندوستانی مسلمانوں کو مثبت طرزعمل کی دعوت دیتی ہوئی ایک فکر انگیز تحریر ہے جب کہ اکثر پاکستانی قارئین نے اسے دو قومی نظریے کے جواز کے طور پر دیکھا۔ پاکستانی قارئین کے ردعمل کے بارے میں میں کچھ نہیں کہنا چاہوں گا، ایسا نہیں کہ میرے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے، بس سیدھی سی بات یہ ہے کہ یہ وقت کا زیاں ہے اور میرا اپنا خیال ہے کہ آدمی کو اپنے گھر کی فکر کرنی چاہیے۔

Read more

یقین کر لیں کہ ہندوستانی مسلمان ڈر گئے ہیں

آپ ہمیں ڈرانا چاہتے تھے سو بالآخر ہم ڈر گئے۔ یقین کرلیں کہ ہم ڈر گئے ہیں۔ یقین کرلیں کہ اب ہم اپنے سائے سے خوف کھانے لگے ہیں۔ سائے جو پہلے ہمارے اپنے ہوتے تھے۔ ہم ہر اس لفظ سے خوف کھانے لگے ہیں جو ہمیں یقین دلانے کے لیے وضع کیے گئے تھے۔ یقین کرلیں کہ جمہوریت، درخشاں جمہوریت، جمہوری اشتراکیت، قانون کی حرمت، مساوات، اخوت و محبت، مشترکہ ثقافت و وراثت اور ’کثرت میں وحدت‘ پر سے یقین اٹھ چکا ہے۔ یقین اٹھ چکا ہے، کوئی گمان بھی باقی نہیں رہا سو اب خوف ہے اور اس کے مہیب سائے ہیں جس میں کئی سوراخ ہیں اور کسی ایک سوراخ سے ’بِگ بردر دیکھ رہا ہے‘ ۔

Read more

واجپئی جی سنگھی تھے، صرف سنگھی

اٹل بہاری واجپئی ”بہت اچھے آدمی“ تھے، کیسے تھے، کیوں تھے یہ آج تک سمجھ میں نہیں آسکا۔ اگر ملکی سیاست میں ان کے کردار کو ذہن میں رکھ کر بات کریں تو یقیناً وہ ایک اچھے سیاست داں تھے جو حزب اختلاف اور برسراقتدار دونوں جماعتوں میں یکساں مقبول تھے اور صحیح معنوں میں…

Read more

چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

باشندگان وطن عزیز کو وطن کا 72 ویں یوم آزادی مبارک ہو، آج سے 72 سال قبل ایک خون آشام آفتاب غروب ہوا تھا، ہمیشہ ہمیش کے لئے، انگریزوں کی نوآبادیات وسامراجیت کا آفتاب غروب ہوا تھا۔ غلامی، محکومی اور جبرو قہر کا آفتاب غروب ہوا تھا اورافتاں و خیزاں آزادی کی شب گزیدہ سحرطلوع…

Read more

مودی جی کے گرو جی آزاد کیوں گھوم رہے ہیں؟

ہمارے لوک پریہ وزیراعظم نریندر مودی جی کے ایک گرو ہیں سنبھا جی بھیڑے عرف گروجی۔ ویرپن کی طرح گھنی مونچھیں رکھنے والے یہ مہاراج کئی ’کرامات‘ کے مالک ہیں۔ ان کی پہلی کرامت تو یہ ہے کہ یہ پولیس کو نظر نہیں آتے ہرچند کہ سامنے ہی ہوتے ہیں۔ ان کی دوسری کرامت یہ…

Read more

قاتل ٹرول اور خوفزدہ صحافی

‘ٹرول‘ ایک ایسامہیب لفظ ہے جو ’ڈیئرپرائم منسٹرنریندرموی جی‘ کی معرفت ہم تک پہنچا اور اس کے اصل مفہوم اوررموزومضمرات سے واقف ہوئے۔ مودی جی نے ہندوستان کوبہت سے ’کاسمیٹک آئیڈیاز‘ دیے ہیں جو زمینی سطح پر ناقابل تنفیذ تھے ماسوائے ‘ ٹرول‘ کے جو اپنی تمام تر حشر سامانیوں اور سفاکیوں کے ساتھ صرف…

Read more

اگر عمران خان بھی مودی کی طرح کارکردگی دکھانے میں ناکام ہوتے ہیں تو؟

پاکستان کے ممکنہ وزیر اعظم عمران خان کی متوقع اور قدرے متنازع ’شان دار کام یابی‘ پر ہندوستانی حکومت کی طرف سے ابھی تک ایسا کوئی خوش کن رد عمل نہیں آیا ہے لیکن پاکستان کی شکست خوردہ سیاسی جماعتوں اور ہندوستانی لے پالک میڈیا دونوں کا رد عمل سامنے آ چکا ہے اور ایک…

Read more