درندگی کے موسم میں مرتی کلثوم نواز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وہ نمود و نمائش اور تکبر سے بہت دور ایک پڑھی لکھی (حتٰی کہ صاحب کتاب) خاتون تھیں لیکن ان لوگوں نے تو وہی کہنا تھا جو انھیں سمجھایا گیا تھا یا جس طرح ان کی تربیت کی گئی ہے۔

لیکن ٹھہریے پہلے ہمیں یہ بات پوری طرح سمجھ لینی چاہیے کہ بے شک اس ملک میں سمجھ اور شعور سیاسی سوجھ بوجھ اور احترام جمہوریت کا علم ایک جذبے کے ساتھ یقینًا اٹھایا گیا ہے اور خلقت کا ایک توانا ریلا اسے تھامے ہوئے ہے لیکن حقیقت کی اس تلخی کو بھی تسلیم کرنا ہی پڑے گا کہ دوسری سمت سمجھ بوجھ سے عاری جذباتی ابھار بھی موجود ہے۔

جن کے رُخ کا تعین سفاک طبقے کے ہاتھ میں ہے تبھی تو ایک بے رحم ظالمانہ اور تہذیب سے دور سیاسی رویے نے گزشتہ ماہ و سال میں جنم لیا اس طرح کی ذھن سازی کے لئے میڈیا اور سیاست میں ایسے ایسے لوگوں کو سامنے لایا گیا کہ مستقبل میں ان کا ذکر آتے ہی تاریخ منہ چپھاتی پھرے گی، اور یہی وہ رویہ تھا جس نے بے رحم بیماری سے لڑتے ہوئے ایک غیر سیاسی اور گھریلو خاتون کلثوم نوازکو بھی نہیں بخشا کیونکہ وہ نواز شریف کی بیوی تھی۔

عاصمہ جہانگیرنے ایک بار کہا تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ ایسے بے حس اور بے حیا لوگ ہی کیوں ان کے ہمیشہ منظورِ نظر ہوتے ہیں۔ لیکن المیہ تو یہ ہے کہ وہی بے حسی اور بے حیائی ایک مخصوص طریقے سے عوامی سطح پر بھی منتقل کر دی گئی جس نے ایک نسل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تاہم یہ نسل خود بھی نہیں جانتی کہ ان کے ساتھ کیا ھوا اور کیسے ہوا؟

دراصل یہ ”وبا“ کچے ذھنوں پر ھی حملہ آور ہوتی ہے اور اس سے بچنے کے لئے جس پختگی اور شعور کی ضرورت ہوتی ہے وہ اس عمر میں بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔

سو یہی ہونا تھا جو ہوتا رھا.

ایک خاتون کینسر کے جان لیوا مرض سے لڑ رہی تھی شوہر اور بیٹی جمہوریت کے جرم کے سبب اس سے ہزاروں میل دور اپنے وطن کے کسی عقوبت خانے میں اسیری کے دن کاٹ رہے تھے۔ ( باپ بیٹی کا جرم ہی ایسا ہے جو کسی طور قابل معافی نہیں ورنہ اس مملکت خداداد میں تو قانون بہت فرینڈلی اور مہربان ہے حتٰی کہ احسان اللہ احسان سے راؤ انوار تک کو ریلیف دیتا ہے۔ بابر اعوان سے جہانگیر ترین تک کو آزاد اور معزز شہری بناتا ہے۔

لیکن ادھر پورے خاندان پر ابتلا اور آزمائش کے پہاڑ ٹوٹ پڑے تھے وطن اور خاندان سے بہت دور اور موت سے حد درجہ قریب اس نفیس خاتون کو لمحہ بھر کو ہوش آتا تو شوہر اور بیٹی کا پوچھتی لیکن اسے نہیں بتایا جاتا کہ وہ کس حال میں ہیں؟

ڈاکڑوں کی باتوں سے مایوسی ٹپکنے لگی تھی۔ آخری بار شوہر اور بیٹی نے ایک اذیت ناک لیکن تاریخی فیصلہ کر کے جیل جانے کا انتخاب کیا اور تقریبًا نصف صدی ساتھ بتانے والی نفیس اور کم گو بیوی کے چہرے پر وہ جھکا اور آواز دیتا رہا۔ کلثوم آنکھیں کھولو، لیکن آنکھیں نہیں کھلیں۔ اس کے سینے پر چند آنسو ٹپکے۔ ایک دل چیر دینے والی خاموشی چھا گئی اور دونوں باپ بیٹی نے الوداعی نظرسے مڑ کر اسے دیکھا کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ آخری ملاقات ہے۔ بقول منیر نیازی ‘

اس کے بعد اک لمبی چپ اور تیز ھوا کا شور

آخری ملاقات کا جملہ تو پھانسی گھاٹ سے ھی ہمیشہ وابستہ رہا، کسی ہسپتال سے نہیں لیکن جس منظر نامے کا ہمیں سامنا ہے وہ شاید کسی پھانسی گھاٹ سے کم بھی تو نہیں۔

اور پھر کلثوم نواز مر بھی گئی جبکہ اس کا شوہر اور بیٹی پنڈی کے قریب اڈیالہ جیل میں اس جرم کی سزا کاٹ رھے تھے جس جرم نے اس ملک کے ایک امیر اور با اثر خاندان پر غریب الوطنی سے عقوبت خانوں تک ھر جبر ناروا کے دروازے کھول کر انہیں تاریخ کا مظلوم ترین خاندان بنا دیا تھا۔

کبھی اس مملکت خداد میں جمہوریت اور انصاف کا بول بالا ھوا اور وقت کا مورخ اپنے قلم کی طرف پلٹا تو دشت بے وطنی میں کلثوم نواز کی آخری ھچکی تک وہ دل تھام کر جیسے تیسے قلم بند تو کر لے گا لیکن اس سفاک بے حسی اور درندگی کو کیسے لکھے گا جو ذاتی فوائد یا ایک خوفناک حماقت کے بطن سے پھوٹی تھی۔

اور جس نے ایک بے ضرر خاتون کلثوم نواز کو اس وقت بھی نہیں بخشا جب اس کا خاندان عقوبت خانوں میں تھا اور وہ دشت بے وطنی میں آخری ھچکیاں لے رھی تھیں.

ایسی بے رحمی اور درندگی کو ضبط تحریر میں لانا بھی کسی لکھاری کے لئے اتنا آسان نہیں ہوتا۔ کمال تو یہ ھے کہ کلثوم نواز اور اس کا خاندان اسے سہہ بھی گیا تھا۔

تو دشتِ بے وطنی میں لہولہان ہوا

ہم اپنے دیس میں سینہ فگار پھرتے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •