دنیا کا طاقتور ترین مرد بننے کا کیا طریقہ ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مائیک لین روزانہ 8500 کیلوریز کھاتا ہے اور ہفتے میں پانچ دن تک سخت مشقت والی ٹریننگ کرتا ہے تاکہ وہ دنیا کا طاقتور ترین شخص بن سکے۔

پینتیس برس کا مائیک اپنی ٹریننگ کے اصول کے طور پر ہفتے بھر میں سات مرغ، بڑے سائز کے چھ پیٹزا کھاتا ہے۔

برطانیہ کے شہر برمنگھم کے قریب ننیٹن کے اس طاقتور شخص نے اپنے گزشتہ نو برس اس مقصد کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں کہ وہ دنیا کا طاقتور ترین مرد بننے کا خواب پورا کر سکے۔

اس نے اپنی زندگی کے سفر میں قومی اور پھر بین الاقوامی سطح پر مقابلوں میں حصہ لیا ہے تاکہ وہ اپنی حتمی منزل یعنی دنیا کے طاقتور ترین مردوں کے مقابلے میں حصہ لے سکے۔

مائیک کی ویٹ لفٹنگ میں دلچسپی اس وقت بنی تھی جب وہ سکول کا طالبِ علم تھا۔ پہلے وہ فٹ بال کھیلتا تھا لیکن اسے وہ کھیل زیادہ اچھا نہیں لگا۔ وہ روزانہ اپنے گھر سے قریب دس میل کے فاصلے پر جم میں ٹریننگ کرنے کے لیے سائیکلنگ کرتا ہے۔

وہ کہتا ہے کہ ’میں ہر برس کرسمس کے دنوں میں دنیا کے طاقتور ترین مردوں کے مقابلوں کو بچپن سے دیکھتا آرہا تھا، اس لیے میں ان سے بہت مرعوب تھا۔‘

جب وہ اپنے ایک عزیز کے ساتھ وارکشائیر میں طاقتور مردوں کے مقابلے کی تیاریوں میں اس کا ساتھ دے رہا تھا تب اسے احساس ہوا کہ اس میں بھی طاقتور مردوں کے مقابلے میں حصہ لینے کی صلاحیت ہے۔

’میں مقابلے کے شرکا کے لیے ویٹ لفٹنگ اور اس مقابلے سے منسلک سامان کو اٹھا اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھ رہا تھا جب مجھے احساس ہوا کہ میں اس بھاری سامان کو دیگر پیشہ ورانہ اتھلیٹس کی نسبت آسانی سے اٹھا سکتا ہوں۔

مائیک ایک عام کمرشل جِم میں ٹریننگ لیتا تھا، لیکن اسے جلد ہی احساس ہوا کہ اس جم کے ویٹ اور سامان چھوٹے پڑ گئے ہیں۔

تین برس قبل اس نے فیصلہ کیا کہ اسے اپنے مشن کو ایک نئی سطح تک لے جانا ہے۔ جس کے لیے اُسے اپنا ایک نیا جم بنانا ہے۔ اس مقصد کے لیے اس نے اپنے گھر سے چند میل کے فاصلے پر مِڈلینڈز میں ایک فارم ہاؤس کی بلڈنگ کرائے پر حاصل کی۔

وہ اپنی دھات سازی کے کام کی صلاحیت کی بدولت اپنی مرضی کا ایک جِم تعمیر کرسکتا تھا جس میں اس کی ضرورت کی تمام سہولتیں موجود ہوں۔

مائیک نے اس جم کا نام ایپ جم رکھا کیونکہ بقول اُس کے ’میرے بہت لمبے ہاتھ ہیں اور شاید، جیسا کے دوسرے لوگ کہتے ہیں، میں ایک دن ایک گوریلے کی صورت اختیار کر لوں۔‘

اس کے اپنے جم میں مائیک کو اس بات کی فکر نہیں ہوتی ہے کہ اسے دوسروں جم میں جانے والوں کا خیال رکھنا ہو گا کہ کہیں کوئی ویٹ نہ گر پڑے اور کسی کو چوٹ نہ لگ جائے۔

اس کے جم میں ایک سٹینڈ پانچ پانچ کلو سے لے کر ایک سو پانچ کلو وزن کے ڈمبلز سے بھرا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں اطلس سٹون یعنی 60 کلو گرام سے لے کر 200 کلو گرام کے ویٹ موجود ہیں۔

دنیا کے طاقتور ترین مردوں کے مقابلوں میں پانچ اطلس سٹون کا وزن اٹھا کر کسی اونچی جگہ پر رکھنا ہوتا ہے۔ یہ عموماً مقابلے کا آخری حصہ ہوتا ہے اور اس سے جیتنے والے کا تعین ہوتا ہے۔

مائیک کی گرل فرینڈ اس کی مدد کرتی ہے جو اس کی مینیجر کا کردار بھی ادا کرتی ہے، کبھی اس کی فزیوتھیریپسٹ بن جاتی ہے اور کبھی اس کا کھانا بھی تیار کرتی ہے۔

اس سے پہلے نینا نے طاقتور ترین عورتوں کے مقابلے میں حصہ لیا تھا۔ اور اس میں وہ کامیاب بھی ہوئی تھی۔ بھاری وزن اٹھایا تھا، اور بھاری وزن اٹھا کر چلی تھی۔

اوپر والی تصویر میں نینا مائیک کے پشت کے پٹھوں کا کار کو پالش کرنے والی مشین سے مساج کر رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس سے اس کے پٹھوں کو راحت ملتی ہے، تکلیف کم ہوتی ہے اور حرکت میں مدد ملتی ہے۔

وہ کہتا ہے کہ ’میں کسی اور کو کبھی نہیں کہوں گا کہ کار پالش کرنے والی مشین لے اور معلومات کے بغیر اسے استعمال کرے۔ کسی سیانے کو ڈھونڈو اور اس سے بہت سارے سوالات کرو۔‘

مائیک کی روزانہ کی خوراک پیٹزا ہے۔ ’یہ کوئی آئیڈیل قسم کی خوراک نہیں ہے۔ لیکن اگر دن ڈھلنے تک آپ کو اپنی ضرورت کے مطابق کی کیلوریز نہیں ملیں ہیں تو پیٹزا اس مقدار کو حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔‘

اپنی 8500 کیلوریز کی ضرورت اور 130 کلو گرام وزن کو برقرار رکھنے کے لیے مائیک گوشت، بریڈ رول، سؤر کا گوشت، بھنا گوشت، مرغ، گائے کا گوشت، سبزیاں کھانے کے علاوہ مختلف اجناس، چاکلیٹ اور بکسٹس کے ساتھ ملا کر پھلوں کا جوس بھی پیتا ہے۔

مائیک کے پاس دوسرے طاقتور مرد اور عورتیں دونوں آتے رہتے ہیں اور یہ ایک دوسرے سے کچھ سیکھتے رہتے ہیں۔ ’یہ سپورٹس کی ایک بہترین بات ہے، دوستی اور مدد جو اس سے حاصل ہوتی ہے۔‘

’ہم شاید ایک دوسرے سے مقابلہ کرتے رہتے ہیں، لیکن ہم ایک دوسرے کی مدد کے لیے بھی پہنچ جاتے ہیں۔‘

اوپر والی تصویر میں مائیک ایک بھاری وزن کا لوہے کا فریم اٹھائے چل رہا ہے۔ اسے پھندا کہا جاتا ہے۔ اس لوہے کے پھندے کے ساتھ دوڑنا کسی بھی طاقتور ترین مردوں کے مقابلوں کا حصہ ہوتا ہے۔

نیچے والی تصویر میں اس کی جرمن نسل کی کتیا مازیکین بھی موجود ہے۔ یہ کتیا اس کے ساتھ اس وقت سے ہے جب یہ آٹھ ہفتوں کی تھی۔

ہر مقابلے کے لیے مائیک کی مشق میں مختلف قسم کے ویٹس اٹھانا ہوتا ہے تاکہ تمام مسلز ایک وقت میں استعمال ہوسکیں۔

وہ مشق کے دوران معاونت بھی حاصل کرتا ہے جس کی بدولت وہ زیادہ سے زیادہ وزن اٹھا پاتا ہے اور اس کے جسم کی نمو بھی ہوتی ہے۔

مائیک لچک اور حرکت دونوں پر نظر رکھتا ہے۔ ’میں مسلز کو راحت پہنچانے کے لیے ایک منصوبے پر عمل کرتا ہوں،میں ایک ٹریننگ سیشن میں مسلز کو راحت کے ساتھ اس پر زور نہیں لگاتا ہوں۔ میں فوم رولر کے استعمال سے بغیر زور لگائے مسلز کے ٹشوز کو راحت پہنچاتا ہوں۔

ایک طاقتور مرد بننے کی ایک قیمت بھی ہوتی ہے، بعض اوقات جوڑوں میں درد ہوتا اور کبھی کبھار مسلز کے ٹشوز میں بھی درد محسوس ہوتا ہے۔

اس ٹریننگ سیشن کے علاوہ فٹ اور فعال رہنے کے لیے اسے فزیوتھراپسٹ، کیروپریکٹر، اور دوسرے ماہرین کی مدد حاصل رہتی ہے۔

حال ہی میں مائیک نے امریکی شہر اوتھا میں ایک مقابلے میں حصہ لیا تھا جہاں اس نے 362 کلو گرام وزن اٹھانے کا مقابلہ جیتا تھا۔ لیکن وہ تیسری پوزیشن حاصل کرنے میں آدھے نمبر سے رہ گیا تھا۔

اس کا اگلا مقابلہ 15 ستمبر کو ہوگا جہاں وہ اپنی کھوئی ہوئی ’بلنگھم چیمپیئنشپ‘ دوبارہ سے جیتنے کی کوشش کرے گا۔

مائیک کے سنہ 2019 میں جسمانی طاقت اور مردانگی کے بارے میں کیا خیالات ہیں؟ ’میں تو یہ کہوں گا کہ کوئی بھی چاہے وہ مرد ہو یا عورت ہو اس دباؤ کو اپنی اندرونی طات سے برداشت کر سکتا ہے، نہ کہ کسی مصنوعات کی اشتہاری مہم کے ذریعے، یا جسمانی ساخت سے جو کہ فیشن انڈسٹری استعمال کرتی ہے۔

’میرے خیل میں مردانگی ایک بہت ہی معروضی بات ہے۔ آج کل کی ڈیجیٹل ایج میں رہتے ہوئے یہ پرانے طرز کے مرد کے تصور سے بنیادی طور پر بدل رہی ہے جو بہت بڑا نظر آتا ہے، جو طاقتور ہوتا ہے، اور جو کاروں کی مرمت کا کام کرتا ہے۔‘

’مجھے فخر ہے کہ میں وہ کام کرسکتا ہوں، لیکن میں یہ اپنی صنف کی وجہ سے نہیں کرتا ہوں بلکہ سمجھتا ہوں کہ یہ میری صلاحیت ہے کہ میں ایسے کام کرسکتا ہوں۔‘

مائیک مرد و عورت جو بھی طاقتور بننا چاہتا ہے ان کو مشورہ دیتا ہے کہ ’ایک جم یا ہیلتھ کلب تلاش کریں، جہاں تجربہ کار لوگ موجود ہوں جو یہ جانتے ہوں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ ان سے بہت سارے سوالات کریں، آغاز میں سخت کام نہ کریں۔ بنیاد بنائیں۔‘

’لیکن اصل میں مزا لیں۔ جتنا مزا لیں گے اتنا ہی زیادہ آپ محنت کرنے کی خواہش کریں گے، اور اتنا ہی زیادہ آپ ترقی کریں۔‘

تصویروں کے لیے رچرڈ ہینکاکس کا شکریہ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 11163 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp