کپتان جہاز کی طرح معیشت چلا رہا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب لوگ معیشت کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کر رہے ہیں۔ حالانکہ کپتان نے حکومت میں آتے ہی قوم کو کہہ دیا تھا کہ گھبرانا نہیں، کچھ عرصے مشکل ہو گی، پھر سب ٹھیک ہو جائے گا اور ملک کی ترقی کا سفر تیز رفتاری سے شروع ہو جائے گا۔

جہاں تک ترقی کے تیز تر سفر کی بات ہے تو اس طریقۂ سفر کی مثال ہم جہاز سے دیتے ہیں۔ آپ نے جہاز میں سفر کیا ہو تو آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ مسافر بٹھا کر جہاز آہستہ آہستہ رن وے کی طرف جاتا ہے۔ پھر جہاز اپنے متعین کردہ مقام پر جا کر رکتا ہے، انجن مدھم پڑ جاتے ہیں، کپتان فل بریک لگاتا ہے اور پھر جہاز کو خوب ریس دیتا ہے اور جب انجنوں کی چیخیں نکلنے لگتی ہیں تو کپتان بریک سے پاؤں اٹھا لیتا ہے اور یکلخت ایک زوردار جھٹکے سے جہاز آگے بڑھتا ہے اور ٹیک آف کر جاتا ہے۔

اس وقت یہی ہو رہا ہے۔ ملکی قرضوں میں ایک سال میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کے 71 سال میں مجموعی قرضہ جات 30 ہزار ارب روپے تھے لیکن تحریک انصاف کی حکومت کے صرف ایک سال میں ان میں ایک تہائی تک کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ حکومت کو دفاعی، ترقیاتی اور سرکاری اخراجات کے لئے قرض لینا پڑا۔ جی ڈی پی میں ترقی کی شرح 2018 میں 5.8 فیصد تھی لیکن معیشت کی سست روی کی وجہ سے یہ شرح 2019 میں 3 فیصد یا اس سے بھی کم ہو سکتی ہے۔ 8.9 فیصد مالی خسارہ گزشتہ 30 سال میں سب سے زیادہ ہے۔

فیصلہ کیا گیا کہ جاری کھاتوں کا خسارہ کم کیا جائے۔ اس کا ایک طریقہ تو یہ تھا کہ برآمدات بڑھا دی جاتیں تاہم حکومت نے زرمبادلہ کا تفاوت کم کرنے کی خاطر چار ارب ڈالرز کی درآمدات کم کی ہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ 2018 ء میں جی ڈی پی 313 ارب ڈالرز تھی جبکہ اب 33 ارب ڈالرز کی کمی کے ساتھ جی ڈی پی 280 ارب ڈالرز کی سطح پر نیچے آگئی ہے۔

ان سب معاشی اشاریوں سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ کپتان نے منصوبے کے مطابق بہت کامیابی سے معیشت کے جہاز کو بریک لگا دی ہے اور جہاز ایک جگہ رک گیا ہے، معیشت کے انجن یعنی عوام کی حسب وعدہ حکومت چیخیں نکلوا رہی ہے، اور اب وہ وقت دور نہیں جب کپتان اس جہاز کی بریک سے پیر اٹھائے گا اور معیشت کا جہاز یکلخت گولی کی طرح آگے لپک کر ہوا میں اڑ جائے گا اور حکومت کے دوست دشمن بٹر بٹر اسے تکتے رہ جائیں گے۔

اسی معاشی انجن یعنی عوام کو اور گرم کرنے کی خاطر مزید اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ گزشتہ ایک سال میں 45 لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں جبکہ 15 لاکھ لوگ بیروزگار ہو چکے ہیں۔ رواں مالی سال کے دوران مزید 50 لاکھ لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے۔

اس بیروزگاری کو دیکھ کر ناسمجھ افراد تو کہیں گے کہ کپتان نے تو کہا تھا پانچ سال میں ایک کروڑ لوگوں کو نوکریاں دیں گے، لیکن یہ تو الٹا نوکریاں کم ہو رہی ہیں۔ انہیں سمجھنا چاہیے کہ کپتان اس وقت نوکریوں کی گنجائش پیدا کر رہا ہے۔ جب معیشت میں ایک کروڑ لوگوں کی جگہ خالی ہو جائے گی تو پھر ہی کپتان اپنے وعدے کے مطابق ادھر ایک کروڑ لوگوں کو نوکریاں دے سکتا ہے۔

اب آپ یہ تو سمجھ گئے ہیں کہ کپتان حکومت کو بالکل جہاز کی طرح چلا رہا ہے۔ اس لئے گھبرانا بالکل نہیں۔ اب جہاز ہی اگر بوئنگ 787 میکس نکلے جو اڑتے ہی کریش کر جائے تو پھر کپتان کا کیا قصور، یہ تو پھر نصیب کی بات ہے۔ جہاز کو ماڈل بنایا جائے تو حکومت پھر ایسے ہی چلتی ہے۔

اسی بارے میں: گھبرانا مت پاکستانیو، کپتان پنکچر لگا رہا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1205 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar