کربلا۔ سیاسی مزاحمت کی شاندار مثال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اللہ منصفِ کامل ہے، اس کا عہد ہے کہ جو اس کی راہ میں قربانی دے گا وہ عظمت پائے گا۔ حسین اللہ کی راہ پے، اس کے دین کی حفاظت کے لئے اور تمام مسلمانوں کے حق، انصاف کی رسائی اور نفاذِ سنتِ رسول اللہ ( یعنی جو طریقۂ حکومت رسولِ کریم نے سکھایا تھا) اس کی خاطر جد و جہد کر رہے تھے۔

یہ نہیں ہوا کہ ایک صبح حسین نے اچانک فیصلہ کیا ہو کہ سامان باندھو ہم کربلا جا رہے ہیں۔

یزید 26 اپریل 680۔ 61 ہجری کو خلیفہ بنا اور اس نے امتِ اسلامیہ کے تمام با اثر اور مقتدر صاحبان ( صحابی۔ تابعین۔ قبیلوں کے سرداروں ) سے اپنی حمایت میں بیعت لینے کا سلسلہ شروع کیا۔

اسلامی حکومت حجاز۔ طائف۔ مصر۔ شام۔ دمشق۔ ایران عراق تک اس کے گورنر اس کے لئے اپنے اپنے علاقوں میں بیعت لے رہے تھے۔

اہلِ مدینہ بہت مضطرب تھے کیونکہ جب بیس اصحابِ رسول کی جماعت اس کے دربار میں گئی تو یزید شراب پیتے ہوئے اپنے پالتو مرغوب بندر سے کھیل رہا تھا اور اسی عالم میں اس نے نماز کی امامت بھی کی۔ چند روز وہاں ٹھہر کے انہیں اندازہ ہوا کہ یہ خلیفہ حاکم تو ہو سکتا ہے لیکن اسلام کی نمائندگی نہیں کر سکتا۔ دمشق میں رشوت۔ نا انصافی اور اقربا پروری کا بازار گرم تھا۔ یزید نے تمام اہم علاقوں میں اپنے خاندان کے قریبی رشتے داروں کو گورنر بنا دیا تھا۔ اہم ترین عہدے سب صرف اس بنیاد پے نا اہل افراد کو دیے گئے کہ وہ بنی امیہ ہیں۔ اختلاف رائے کی سزا موت تھی۔

ان اصحاب نے مدینہ واپسی پر شدت سے اس بات کی مخالفت کی کہ یزید کی بیعت کی جائے اور تمام حالات بیان کیے جو کہ حضرت معاویہ کے دور سے ہی چرچے میں تھے کہ معاویہ نے اپنے جس بیٹے کو ولی عہدنامزد کیا ہے وہ اہل نہیں ہے۔ معاویہ ( امیرِ شام) نے اپنی موت سے چار سال پہلے یزید کو اپنے بعد خلیفہ بنانے کا حکم جاری کر دیاتھا۔

ولی عہدی کا اعلان۔ صلحِ معاویہ و آمام حسن کی ایک اہم شق کی خلاف ورزی تھی۔ معاویہ نے عہد کیا تھا کہ اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کرے گا بلکہ اس کا فیصلہ خلفا 6 راشدین کے طریقۂ چناؤ پے مجلسِ شوری اور مسلمان خود کریں گے۔

کیونکہ اسلام میں نسلی حکومت کی کوئی جگہ نہیں۔ یہ بادشاھت نہیں ہے۔

یزید کے خلاف کئی علاقوں میں مزاحمت اور نفرت پھیل رہی تھی۔ مسلمانوں کو اپنی قیادت کے لئے چند اہم اور قابل حضرات نظر ارہے تھے لیکن یہ ایک مضبوط اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ تھا۔

جن افراد نے کھل کے یزید کی بیعت سے انکار کیا۔ ان میں حسین ابن علی اور عبداللہ بن زبیر سب سے نمایاں ہیں۔ دونوں مدینے میں تھے۔ مدینہ۔ مکہ اور اطراف کے تمام شہروں جن میں قطیف۔ طائف۔ بکہ اور دیگر شامل تھے کوئی یزید کے حق میں نہ تھا۔

یزید جانتا تھا کہ ان دونوں کی بیعت اس کی خلافت کے لئے لازمی ہے اور ان کی مخالفت اس کی حکومت کا تختہ الٹ سکتی ہے۔

معاویہ کی موت کے مراسلے میں اس نے مدینہ کے گورنر ولید بن عتبہ کو لکھا کہ فورا حسین ابن علی، عبداللہ بن زبیر، عبداللہ بن عمر سے بیعت لو۔

عبداللہ بن عمر پے خاموشی اختیار کی گئی کیونکہ وہ ایک حلیم مزاج انسان تھے، ان سے بڑا خطرہ انہیں حسین اور عبداللہ بن زبیر سے تھا۔ دونوں ہی خلافت کے لئے مسلمانوں کی پسند کے قریب تر تھے۔

حسین بن علی کو ایک فوقیت اور تھی کہ اپ نواسہ رسول تھے، ایک خلیفہ کے بیٹے اور ایک کے بھائی تھے، اس وقت بنی ہاشم کے سردار بھی تھے۔ اپ کی سیاسی، سماجی اور مذہبی حیثیت کا کوئی مقابلہ نہ تھا دوسری جانب مدینہ۔ مکہ سے کوفہ تک سب اپ کے مزاج، اطوار اور تدبر کے گرویدہ تھے۔ اپ کی نجابت ہی محض اپ کی پسندیدگی کی وجہ نہ تھی بلکہ خانوادۂ رسالت ( بنی ہاشم) کی شرافت، راست گوئی، حق پسندی اور عدل اپ کی شخصیت کو حجاز و کوفہ میں ہر دلعزیز بنا چکے تھے۔ مدینہ میں اپ کا بچپن و نوجوانی بلکہ زندگی کے ابتدائی بتیس سال گزرے اور کوفہ میں وہ سال جو حضرت علی کی خلافت کے تھے۔

خط ملتے ہی، ولید نے مروان بن حکم کو مشاورت کے لئے بلایا جو اس سے پہلے مدینے کا گورنر تھا۔ مروان نے مشورہ دیا کہ ان دونوں کو ابھی بلایا جائے، معاویہ کی موت کی خبر نہ دی جائے بلکہ پہلے یزید کی خلافت پے اطاعت کی بیعت لے لی جائے۔

ولید نے امر بن عثمان کو دونوں کو بلانے کے لئے بھیجا۔ جو اسے مسجدِ نبوی میں ملے۔ اس نے پیغام دیا۔ عبداللہ بن زبیر نے امام سے پوچھا کہ کیا کیا جائے؟ اور کیا معاملہ ہو سکتا ہے کہ ہمیں رات میں بلایا ہے؟

امام نے فرمایا، مجھے لگتا ہے کہ امیرِ شام اب زندہ نہیں اور یہ ہم سے یزید کی حمایت چاھیں گے۔

امام اس رات انیس بنی ہاشم کے دستے کے ساتھ ولید سے ملنے گئے۔ لیکن ملاقات میں یہ تین ہی موجود تھے۔ بنی ہاشم کمرے کے باھر منتظر تھے۔

اپ وہاں مروان کو دیکھ کے حیران ہوئے کیونکہ مروان ولید کے گورنر بننے کے بعد سے اس سے ناراض تھا لیکن یہ جان گئے کہ اپ کا اندازہ سو فیصد درست ہے۔

ولید معاویہ کی موت کی خبر نہ چھپا سکا مگر اس نے امام سے بیعت کا اصرار کیا۔

امام نے مصلحت سے کام لیا اور کہا کہ اگر میں یوں رات کی تنہائی میں بیعت کر لیتا ہوں تو کوئی اس بات کو نہیں مانے گا۔ بہتر ہے کہ اگر میں بیعت کروں تو یہ دن میں اہلِ مدینہ سب کے سامنے ہو۔

ولید نے اس بات کو مان لیا۔ امام جانے لگے۔ مروان نے ولید سے کہا کہ یہ حسین ہیں۔ یہ کبھی بیعت نہیں کریں گے۔ اس وقت اگر تم نے انہیں جانے دیا تو سمجھو پھر بات خون خرابے تک جائے گی۔ ان کو رات بھر یہیں محصور رکھو اور صبح بیعت لے کے جانے دو یا پھر ابھی قتل کر دو کہ بیعت نہیں کی۔ ان کا خون میں اپنے ذمے لیتا ہوں۔

مروان کے یہ بات کہتے ہی کہ امام کو زبردستی روک لیا جائے امام کی اواز بلند ہوئی کہ اے ابنِ عتبہ تو سمجھتا ہے کہ مجھے یوں قتل کر سکتا ہے؟

ادھر امام کی اواز سن کے بنی ہاشم کے جانبازوں نے تلواریں کھنیچ لیں جن کی قیادت عباس بن علی کر رہے تھے۔ ولید کو اندازہ تھا کہ یوں حسین کا قتل مدینہ میں جنگ کی دعوت ہے۔ اور جو باھر کھڑے ہیں ہمارے لئے تو یہ ہی کافی ہیں۔ اس نے حسین سے کہا کہ اپ جا سکتے ہیں۔

امام گھر لوٹ ائے اور صبح جب اپ کو اہلِ مدینہ کے سامنے بلایا گیا تو اپ نے واضح کر دیا کہ یہ ممکن نہیں کہ مجھ جیسا اُس جیسے کی بیعت کرے۔

دوسری جانب عبداللہ بن زبیر پے بھی یہی دباؤ تھا۔ لیکن وہ ولید سے ملنے نہیں گے بلکہ خود کو اپنے ہی گھر میں محصور کر لیا۔

یہاں تک کہ ولید کے بھیجے فوجی دستے نے ان کے گھر کا محاصرہ کر لیا، قریب تھا کہ ان کے گھر میں داخل ہو کے انہیں قتل یا بیعت پے مجبور کیا جاتا۔ ان کے بھائی جعفر بن زبیر ولید کے پاس گئے اور مذاکر ات کے بعد طے ہوا کہ عبداللہ کو سوچنے کا کچھ وقت دیا جائے اور محاصرہ ختم کر دیا جائے۔

ولید خود اس محاصرے پے مدینہ میں اپنی مخالفت اور یزید سے بڑھتی نفرت سے پریشان تھا، اس نے بات مان لی اور محاصرہ ختم کردیا۔ اسی رات عبداللہ بن زبیر اور ان کے بھائی جعفر بن زبیر مدینہ چھوڑ کے اکیلے مکہ کی جانب فرار ہوئے۔

ولید نے خبر ملتے ہی اسی فوجیوں کا دستہ ان کے تعاقب میں بھیجا لیکن وہ ناکام لوٹا۔ عبداللہ بن زبیر شہر الحرام تک آچُکے تھے جہاں قتل حرام ہے۔ دوسرے یہاں دیگر عالمِ اسلام سے لوگوں کی آمد و رفت کا سلسلہ رہتا تھا۔

اب تمام نظریں حسین پے تھیں اور یزید اس بات سے ناخوش تھا کہ مروان کے کہنے کے باوجود کہ اسی رات حسین کو قتل کر دو اور اس کا خون میں اپنے سر لیتا ہوں۔ ولید نے امام کو جانے دیا۔ اس کی پاداش میں ولید کو معطل کر کے دوبارہ مروان کو گورنر بنا دیا گیا۔

اب حسین کے پاس کوئی راہ نہ تھی۔ سوائے بیعت یا پھر جنگی بغاوت۔ اپنے رفقاء اور بھائیوں سے مشورے کے بعد امام اپنے بھائی محمد ابو حنفیہ کے کہنے پے مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔

لیکن اپنے تمام خانوادے، اپنے بھائیوں اور چند انصار کے ساتھ۔ یہ ایک سیاسی جلاوطنی تھی۔ مروان ان تمام کو قتل نہیں کر سکتا تھا کیونکہ اس میں بنی ہاشم، بنی امیہ، بنی عدی، بنی اوس اور بنی خزرج کے افراد بمعہ اپنے کنبوں کے شامل تھے اور عرب کے رواج میں عورتوں اور بچوں کے ساتھ جانے والے قافلوں پے حملہ نہایت قبیح سمجھا جاتا تھا اور اس قافلے پے حملہ حجاز میں خانہ جنگی کا سبب بن جاتا۔

امام کے گھر میں ان کی بیمار بیٹی فاطمہ صغرٰی۔ حضرت عباس کی والدہ ام النبین فاطمہ بنت اسد، ام المومنین حضرت ام سلمہ، عبداللہ بن جعفرِ طیار ( جناب زینب بنت علی کے شوھر) رہ گئے۔ امام گھر اپنے سوتیلے بھائی محمد ابو حنفیہ ابن علی کے حوالے کر کے ائے۔

اٹھایئس رجب 60 ہجری کو حسین مدینہ سے مکہ کی جانب روانہ ہوئے۔ مکہ آکے اپ نے حالات کے بارے میں جاننے اور دیگر سرداروں سے ملاقات کا سلسلہ شروع کیا۔ کوفہ سے امام کو ایک وفد ملنے آیا جس نے امام سے درخواست کی کہ اب اپ مخالفت کا اعلان کیجئے ہم اور پوری امت اپ کے ساتھ ہے۔ عام رعایا بنی امیہ کی ظالمانہ اور جبری حکومت سے عاجز ہو چکی ہے۔ غریب کی کوئی شنوائی نہیں۔ انصاف صرف امیروں کی لونڈی بن چکا ہے۔ حکمران کو محض اپنا تخت اور عیاشی مطلوب ہے۔

خلیفہ اور اس کے وزراء اور گورنروں کا بیت المال ( محصول و جزیہ کے لاکھوں درہم ) کو اپنی ذات پے بے تحاشا اور ناجائز استعمال، غرباء اور مستحقین کے وظائف کا بند کیا جانا سب سے تکلیف دہ تھا، عام انسان کی انصاف تک رسائی ناممکن تھی۔ کیونکہ ہر شکایت کو حکومت کے خلاف بغاوت سمجھا جا رہا تھا اور کڑی سزائیں دی جارہی تھیں۔

امام نے اپنے بھائی محمد ابو حنفیہ کو ایک خط لکھا جس کا متن اس بات کو رد کرنے کو کافی ہے کہ حسین نے مخالفت اس لئے کی تھی کہ وہ رسول کے نواسے تھے اور اس لئے اپنی خلافت چاھتے تھے۔ ( معاذ اللہ۔ یہ تو خود ملوکیت ہے ) ۔ حسین کا مقصد خلافت کا حصول نہیں بلکہ یزید کو ہٹا کے دوبارہ اسی انداز میں مجلس شوری اور مسلمانوں کی مرضی سے نیا خلیفہ نامزد کرنا تھا اور وہ کوئی بھی ہو سکتا تھا۔

امام لکھتے ہیں کہ ان حالات میں جو مجھے اب معلوم ہو رہے ہیں۔ میرا ضمیر اور ایمان گوارا نہیں کرتا کہ یوں خاموشی اختیار کی جائے جبکہ خلقِ خدا بے کس اور لاچار کر دی گئی ہے۔ کیا غضب ہے کہ وہ کسان جو سارا سال محنت کر کے ہمارے لئے اناج اگاتا ہے جب کسی معاملے میں انصاف کے لئے شہر ائے تو اس کی کہیں شنوائی نہ ہو اسے شہر میں غریب مسافر جان کے بے توقیر کیا جائے۔

عدل تک رسائی محض با ثروت اور بارسوخ کے لئے ممکن ہو۔ حکمران غیر شرع کو حلال کرنے پے آمادہ ہیں اور آصراف کو شرافت کا معیار اور باعث عزت گمان کر لیا گیا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ ایسے حاکم کے خلاف محض خاموش رہنا مجھے روزِ محشر میرے اللہ کے سامنے جواب دہ اور شرمسار کرے گا۔

مکہ مکرمہ سے حسین نے اپنے چچازاد اور بہنوئی مسلم بن عقیل کو کوفہ روانہ کیا تاکہ حالات کا جائزہ لیا جائے اور اگر ناگزیر ہے تو جنگ کی تیاری کی جائے۔

مسلم بن عقیل 5 شوال 60 ہجری کو کوفہ پہنچے اور امیر مختار ثقفی کے گھر قیام کیا۔ قاصد اور امام کے نمائندہ کو اہلِ کوفہ نے خوش آمدید کہا اور امام حسین کا ساتھ دینے کا عزم کیا۔ مسلم کے ہاتھ پے تیس ہزار کوفیوں نے نصرتِ حسین ( ساتھ دینے ) کی بیعت کی۔ مسلم بن عقیل کی کوفہ میں سیاسی سرگرمیوں کی خبر یزید تک پہنچی اور اس نے نعمان بن بشیر کو حکم دیا کہ مسلم کو قتل کر کے بغاوت کا سر کچل دیا جائے۔

نعمان خانوادہ نبوت کے کسی فرد کے خلاف قتل یا کوئی اور سخت کارروائی سے گریز کر رہا تھا۔ لہذا یزید نے اپنا سب سے کائیاں اور سخت گیر سالار عبید اللہ ابن زیاد گورنر بنا کے کوفہ بھیجا اور نعمان کو معزول کر دیا۔

دو ذوالحج 60 ہجری کو ابن زیاد اہنی آمد کو خفیہ رکھتے ہوئے کوفہ پہنچا۔

ابنِ زیاد جنگ سے زیادہ سازش کا ماہر تھا۔ اس نے اپنے ایک غلام ماقل کو پہلے ہی تین ہزار درہم کے ساتھ جناب مسلم کے پاس بھیج دیا تھا جس نے یہ رقم امام کے مقصد کے لئے نزرانہ کے طور پے پیش کرتے ہوئے خود کو آزاد کردہ شامی غلام ظاھر کیا جو امیرِ شام اور یزید کے خلاف ہے اور اس جد و جہد میں شامل ہونا چاھتا ہے۔

مسلم بن عقیل اور اس کے رفقاء نے اس شخص کی چرب زبانی پے اعتبار کر لیا اور اس نے نصرتِ امام حسین کی بیعت بھی کرلی۔اب یہ دن میں کوفہ کی جامع مسجد میں ان اصحاب کے ساتھ رہتا اور رات کو چھپ کے ابن زیاد تک ساری تفصیل پہنچا دیتا۔

قریب تھا کہ تیاری مکمل ہو جاتی۔ اہل کوفہ۔ سردارانِ کوفہ امام کے منتظر تھے۔ مسلم بن عقیل نے امام کو خط بھیجا کہ اب اپ تشریف لے آئیں کیونکہ یہاں لوگ اپ کی قیادت کے منتظر ہیں۔

ماقل کی زبانی یہ خبر ملتے ہی ابن زیاد نے اعلان کروا دیا تھا کہ امیر المومنین یزید کے خلاف کسی باغی کو پناہ دینے والے کی سزا موت ہے دوسرے کوئی ایسی کسی سرگرمی میں ملوث ہوا تو بھی دردناک موت کے لئے تیار رہے۔

اپنا دعوی اور رعب دلوں میں بٹھانے کے لئے اس نے کئی بار ایسی ظالمانہ سزائیں سرعام دیں کہ کوفہ میں اس کا خوف قائم ہو گیا۔مسلم بن عقیل کو اپنا ٹھکانہ بدل کے روپوش ہونا پڑا۔ ( جسے جدید دور میں انڈر گراؤنڈ ہونا کہتے ہیں )

اپ اب ہانی بن عروہ کے گھر قیام پزیر ہوئے، جس کی اطلاع چند قریبی انصار کے سوا کسی کو نہ تھی۔

پبلک میٹنگز اب ناممکن تھیں۔ کوفہ کی ہر گلی کے کونے پے ایک سپاھی تعینات تھا۔ شہر میں بھیس بدلے نجانے کتنے جاسوس موجود تھے۔ شہر کے ہر داخلی دروازے یا راستے پر فوجی دستے کڑی تلاشی کے بعد آنے اور جانے کی اجازت دیتے تھے۔ مقصد، کوئی مراسلہ یا قاصد امام تک یا ان کا یہاں تک نہ آنے پائے۔

لوگوں میں شدید ہراس تھا۔ جس کے بارے میں مخبری ہو جاتی۔ اسے گرفتار یا قتل کر دیا جاتا۔ قتل کا طریقہ اتنا دردناک ہوتا کہ کلیجہ منہ کو آجائے۔ اعضاء کاٹ کے مرنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا۔ دھکتی سلاخیں کانوں کے آر پار کر دی جاتیں۔

یزید کو یہ اطلاع ملتے ہی کہ حسین کوفہ آ سکتے ہیں، طے یہ ہوا کہ حاجیوں کے بھیس میں مشاق قاتل بھیجے جائیں جن میں سے کوئی بھی طواف کے دوران حسین کو قتل کر دے۔

خبریں دونوں جانب سے کسی نہ کسی طرح مخالف تک پہنچ رہی تھیں۔ امام کو بھی یہ اطلاع مل گئی کہ حج پے کیا منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ دوسری جانب کوفہ سے اصرار کے خط حاجیوں کے ہاتھ پہنچ رہے تھے۔ جو ابنِ زیاد کے آنے سے پہلے وہاں سے نکلے تھے۔

امام نے کوفہ کا قصد کیا، حج کو عمرے سے بدل کے حرم اللہ کی عظمت سلامت رکھتے ہوئے احرام کھول دیا اور مکہ سے کوفہ کی جانب روانہ ہوئے۔

مکہ سے کوفہ تک ایک مہینے کا سفر تھا۔ امام سفر میں تھے۔ وہاں ابنِ زیاد کو ماقل سے خبر مل چکی تھی کہ مسلم بن عقیل ہانی بن عروہ کے گھر مقیم ہیں۔

یہاں یہ جان لیجیے کہ مختارِ ثقفی قبیلہ بنو ثقیف کے اور ہانی بن عروہ قبیلہ بنو مزحج کے سردار تھے۔ اپنے قبیلوں اور کوفہ میں ان دونوں کی بہت عزت و توقیر تھی۔

ابنِ زیاد نے اب دیگر سرداروں سے بار بار پوچھنا شروع کیا کہ ہانی مجھ سے ملنے کیوں نہیں آتے؟

ھانی کے کچھ خیر خواہوں نے عذر پیش کیا کہ وہ بیمار ہیں۔ ابنِ زیاد نے کہا کہ ان سے کہہ دو کہ یا تو وہ اجائیں اور اگر وہ نہیں آسکتے تو میں ان کی عیادت کو چلا جاؤں گا۔

ھانی کو ڈر تھا کہ ابن زیاد کا انا جناب مسلم کے لئے خطرہ ہو سکتا ہے۔

اپ خود قصر عمارہ ابن زیاد کے محل چلے گئے۔ ابن زیاد نے سوال کیا کہ کیا مسلم اپ کی پناہ میں ہیں؟

ھانی نے انکار کیا تو ابن زیاد نے ماقل کو سامنے کر کے پوچھا، اسے پہچانتے ہو؟

ہانی نے اب اعتماد سے جواب دیا کہ ہاں۔

وہ سمجھ چکے تھے کہ ماقل نے مخبری کر دی ہے۔

ابنِ زیاد نے کہا کہ مسلم کو میرے حوالے کر دو۔

ہانی نے صاف انکار کر دیا کہ جب تک میں زندہ ہوں میں یہ نہیں کر سکتا بلکہ میں اور میرا قبیلہ ان کے لئے آخری سانس تک مزاحمت کریں گے۔

ابن زیاد نے ہانی پے لوھے کی موٹھ لگی چھڑی سے چہرے پے اتنے وار کیے کہ اپ کی ناک ٹوٹ گئی اور تمام داڑھی خون اور کوشت کے ٹکڑوں سے تر ہو گئی۔ اپ کو قید کر دیا گیا۔

ہانی کے قبیلے کو یہ علم ہوا کہ انہیں قید کر لیا گیا ہے تو انہوں نے عمرو ابن حجاج کی قیادت میں قصر عمارہ پے چڑھائی کی اور ہانی کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ انہیں ڈر تھا کہ ہانی قتل کر دیے گئے ہیں۔

ابنِ زیاد نے کوفہ کے قاضی شریح کو بلایا اور ہانی سے ملوایا کہ جا کے ان کے قبیلے کو بتا دو کہ ہانی زندہ ہیں اور قید میں ہیں۔

شریح نے بری طرح زخمی ہانی کو دیکھا، وہ ان کے قبیلے کو ان کا حال بتانا چاھتا تھا لیکن قتل کی دھمکی دے کے ابن زیاد نے اسے بس یہ بتانے کا کہا کہ ہانی زندہ ہیں اور اگر ان کا قبیلہ اس وقت واپس چلا جائے تو صبح ہانی رہا کر دیے جائیں گے۔

شریح نے یہی کیا اور ان کا قبیلہ منتشر ہو گیا۔ لیکن اگلی صبح 8 ذوالحج 60 ہجری کو ہانی کو بازار میں لا کر سر تن سے جدا کر دیا گیا افسوس کہ اس وقت بنو مزحج کا کوئی وہاں موجود نہ تھا یوں ہانی بن عروہ مہم کربلا کے پہلے شہید ہیں۔

فوج ہانی کے گھر کی جانب ارہی تھی اور ایسے میں مسلم بن عقیل کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہاں سے چلے جائیں۔

اب مسلم بن عقیل ایک ایسے شہر میں بے یارو مدد گار ہو گئے جہاں قدم قدم پے ان کے خون کے پیاسے موجود تھے۔ مسلم کے دو کم سن بیٹے ان کے ساتھ کوفہ ائے تھے۔ ان بچوں کو ایک معتمد قاضی شورایب کے حوالے کیا، جس نے پناہ دی اور کچھ دن بعد کوفہ سے باھر مدینہ جانے والے کسی قافلے پے سوار کرانے کی ذمہ داری لی۔

مسلم نے خود ارادہ کیا کہ اب کوفہ سے نکلیں اور امام کو خود کوفہ آنے سے روک دیں، اپ نے تمام دن کوفہ کے ہر دروازے سے باھر جانے کی کوشش کی لیکن ہر جگہ شدید پہرا تھا۔

یہاں تک کہ رات ہو گئی۔ اپ نے شہر کے آخری جصے میں ایک چھوٹے سے محلے کے مکان پے دستک دے کے پانی طلب کیا۔ یہاں ایک نیک بی بی ”طوع“ نے اپ کو پانی پلایا اور یہ جان کے کہ اپ مسلم بن عقیل ہیں اپ کو رات میں طعام و قیام کے لئے پناہ دی۔ ماں تو یقینا نیک بی بی تھی لیکن اس کے بیٹے کو جب رات گئے آکے یہ خبر ہوئی تو انعام کے لالچ میں اس نے ابن زیاد کے ایک سالار ( کپتان ) کو خبر دے دی۔

الصبح پانچ سو کے دستے نے گھر کو گھیر لیا۔

مسلم بن عقیل جن کی شجاعت عرب میں مثال تھی۔ تلوار لئے باھر ائے۔ جنگ کی اور تاریخ میں درج تعداد کے مطابق ڈیڑھ سو کو قتل کیا۔ گھیرا توڑ کے کوفے کی گلیوں میں نکل گئے۔ ان کا بار بار تعاقب ہوا۔ اور ابنِ زیاد کو دو بار مزید کمک بھیجنی پڑی۔

ان سے گلیوں میں لڑائی ہونے لگی۔ مسلم وہ بہادر ہیں جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر چار کربلا میں ساتھ ہوتے تو جنگ کا نقشہ کچھ اور ہوتا۔ عباس ابنِ علی، ابو حنفیہ ابن علی، مسلم بن عقیل اور عبد اللہ بن جعفر طیار جو شدید بیماری کے باعث امام کے ساتھ نہیں جا سکے تھے۔

جب ابنِ زیاد کو اس عالم شجاعت کا علم ہوا تو اس کے سازشی دماغ نے پھر ایک ترکیب سوچی کہ ایک گلی میں گڑھا کھود اور اس پے کمزور لکڑیاں اور چٹائی بچھا کے مٹی بچھا دو اور مسلم کو لڑتے ہوئے اس گلی میں لے جاؤ ورنہ یہ کئی دن قابو میں نہیں آئیں گے اور ان کی شاندار لڑائی دیکھ کے کوفی بھی ان کے ساتھ آ گئے تو اکیلے کا معرکہ باقاعدہ جنگ میں بدل جائے گا۔

یہی کیا گیا اور یوں زخموں سے چور مسلم کو زنجیروں میں باندھ کے ابن زیاد کے دربار میں لایا گیا۔

تاریخ لکھتی ہے کہ مسلم زخمی تھے۔ کئی کاری زخم تھے۔ دانت ٹوٹنے کی وجہ سے چہرا خون سے تر تھا لیکن اپ ایک شیر کی طرح دربار میں داخل ہوئے۔ کسی نے کہا کہ ابن زیاد کو سلام کرو یہ امیرِ کوفہ ہے۔

مسلم نے بے خوفی سے کہا کہ میرے امیر صرف حسین ہیں۔

اور سلام نہیں کیا۔

ابنِ زیاد نے پوچھا کہ کوئی وصیت؟

مسلم نے تین وصیتیں کیں۔

پہلی : مجھ پے کچھ قرض ہے وہ میری تلوار اور زرہ بیچ کے ادا کر دیا جائے۔

دوسری : مجھے ایک عزت دار مسلمان کی طرح غسل و کفن اور دفن کیا جائے۔

تیسری : حسین ابن علی کو یہ پیغام بھیج دیا جائے کہ وہ کوفہ نہ آئیں۔

ابنِ زیاد نے صرف پہلی پوری کرنے کی حامی بھری اور باقی دو رد کر دیں اور حکم دیا کہ انہیں قصرِ عمارہ کی چھت پے لے جا کے سب کو دکھا کے قتل کیا جائے۔

معتبر روایات کے مطابق، مسلم بہت مطمئن اور اعتماد سے کھڑے رہے اور پھر انہیں سیڑھیوں پے کھینچ کے اوپر لے جاتے ہوئے بھی وہ خود جمے ہوئے قدموں کے ساتھ چھت پے گئے اور با اوازِ بلند اللہ اکبر پڑھتے رہے۔

یہاں تک کہ اپ کو قتل کر کے پہلے سر اور پھر دھڑ وہاں سے نیچے پھینک دیا گیا۔

مسلم اور ہانی کی لاشوں کو کوفہ کی گلیوں میں پیر میں رسی باندھ کے گھسیٹنے کا حکم بھی ابنِ زیاد کا تھا۔ یہ عرب روایت میں دشمن کی سب سے بڑی توہین ہے۔

اس حال پے بنو مزحج نے شدید لڑائی کے بعد لاشیں چھین لیں اور ان کی باقاعدہ تدفین کی۔ سر دمشق بھیج دیے گئے۔ مسلم کے دو کمسن بچے بھی بازیاب کر کے قتل کر دیے گئے۔

کربلا کی سیاسی جد وجہد کا سب سے اہم باب نو ذوالحج 60 ہجری کو یہاں ختم ہوا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •