مادر جمہوریت بیگم کلثوم نواز کی پہلی برسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک وقت تھا کہ جب لاہور کو مسلم لیگ ن کا قلعہ سمجھا جاتا تھا لیکن کئی دہائیاں گزر جانے کے باوجود شریف فیملی کی کسی خاتون نے انتخابی سیاست میں حصہ نہیں لیا۔ بیگم کلثوم نواز شریف فیملی کی واحد خاتون ہیں جو اسمبلی کی رکنیت حاصل کرنے کے لئے انتخابی عمل سے گزر یں۔ بیگم کلثوم نواز مشہور زمانہ گاما پہلوان کی پوتی ہیں ’بیگم کلثوم نواز نے یکم جولائی 1950 کو اندورن لاہور کے کشمیری گھرانے میں حفیظ بٹ کے ہاں آنکھ کھولی۔

ابتدائی تعلیم مدرستہ البنات سے حاصل کی، جبکہ میٹرک لیڈی گریفن اسکول سے کیا۔ انہوں نے ایف ایس سی اسلامیہ کالج سے کیا اور اسلامیہ کالج سے ہی 1970 ئی میں بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی۔ ادب سے گہرا لگاؤ ہونے کے باعث انہوں نے 1972  میں فارمین کالج سے اردو لٹریچر میں بی اے کی ڈگری بھی حاصل کی۔ انہوں نے اردو شاعری میں جامعہ پنجاب سے ایم اے کیا۔  ’تعلیم کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف سے ان کی منگنی ہوگئی۔

یگم کلثوم نواز کے بھائی عبدالطیف کی شادی بھی شریف خاندان میں ہوئی اور یہی رشتہ داری دو اپریل 1971 میں نواز شریف سے ان کی شادی کا سبب بنی۔ اور بیگم کلثوم کے ہاتھوں میں مہندی اور نواز شریف کے ماتھے پر سہرا سجا اور دونوں نے زندگی کے نئے سفر کا آغاز کیا ’نواز شریف اور بیگم کلثوم نواز کے دو بیٹے حسن اور حسین نواز، جبکہ دو بیٹیاں مریم نواز اور اسما نواز ہیں‘ کلثوم نواز کو عملی سیاست سے دلچسپی نہیں تھی اور وہ خاتون خانہ ہونے کو ترجیح دیتی رہیں، بیگم کلثوم نواز اپنے شوہر نواز شریف سے ایک سال چھوٹی تھیں، نواز شریف کے پہلی مرتبہ 6 نومبر 1990  کو وزیراعظم کا منصب سنبھالنے پر بیگم کلثوم نواز کو خاتون اول بننے کا اعزاز حاصل ہوا جو 18 جولائی 1993  تک برقرار رہا۔ وہ 17 فروری 1997 ئی کو دوسری مرتبہ خاتون اول بنیں ’12 اکتوبر 1999 ئی کو جنرل پرویز مشرف نے وزیر اعظم نواز شریف کا تختہ الٹ دیا‘ نواز شریف سے عہدہ چھینا تو جانثار فصلی بٹیروں نے بھی آشیانے بدل لیے۔ امور خانہ داری نمٹانے والی خاتون بیگم کلثوم نواز کو تنہا اپنے شوہر کے حق میں آواز اٹھانا پڑی۔

انہوں نے نہ صرف شوہر کی رہائی کے لئے عدالت سے رجوع کیا بلکہ مسلم لیگ (ن) کی ڈوبتی کشتی کو بھی سہارا دیا۔ انہوں 1999 ئی میں مسلم لیگ ن کی پارٹی کی قیادت سنبھالی، لیگی کارکنوں کو متحرک کیا اور آمر کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن گئیں، نواز شریف کی گرفتاری کے خلاف انہوں نے کاروان تحفظ پاکستان ریلی نکالنے کا فیصلہ کیا، جس کی بناء پر انہیں 8 جولائی 2000 کو نظر بند کر دیا گیا۔

بیگم کلثوم نواز لیگی کارکنوں کے ہمراہ جیل روڈ انڈر پاس پہنچ گئیں جہاں سے پولیس ان کی گاڑی کو کرین کے ذریعے جی او آر لے گئی اور وہاں انہیں گرفتار کیا گیا، وہ 2002  میں پارٹی قیادت سے الگ ہو گئیں ’جون 2013 ئی میں انہیں تیسری مرتبہ خاتون اول ہونے کا اعزاز حاصل ہوا جو صرف 28 جولائی 2017  تک ہی رہ سکا۔ پانامہ سکینڈل میں سپریم کورٹ کے حکم پر نواز شریف کو نہ صرف وزارت عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑا بلکہ انہیں این اے 120 سے ڈی سیٹ کردیا گیا۔

ضمنی الیکشن کا شیڈول جاری ہوا تو مسلم لیگ ن نے نواز شریف کی اہلیہ کو میدان میں اتار دیا۔ بیگم کلثوم نواز علیل ہونے کے باعث 17 اگست کو لندن روانہ ہوئیں جس کے باعث این اے 120 سے انتخابی مہم چلانے کا بیڑہ بیٹی مریم نواز نے اٹھایا اور وہ کامیاب بھی ہوئیں مگرقومی اسمبلی کی رکنیت کا حلف لینے سے قاصر رہیں۔ اس کے بعد پانامہ اسکینڈل میں نواز شریف اور ان کے داماد کیپٹن صفدر اور بیٹی مریم نواز کو اڈیالہ جیل بھیج دیا گیا اورلندن میں ڈاکٹرز نے 22 اگست 2017 کو انہیں کیسنر کی تشخیص کی جس کے بعد ان کی متعدد سرجریز اور کیموتھراپیز ہوئیں۔ اس دوران کئی مرتبہ ان کی طبیعت سنبھل کر پھر خراب ہوئی۔

بیگم کلثوم نواز سے جب ان کے بیٹے حسین نواز کی آخر ی ملاقات ہوئی تو حسین نواز کا کہنا تھا کہ جب سے ان کو ہوش آیا تھا اور اشاروں سے بات کرنے کے قابل ہوئی تھیں، وہ اکثر مریم نواز اور نواز شریف کے بارے میں پوچھتی تھیں اور کافی فکرمند تھیں، جب ان سے آخری ملاقات ہوئی تو انہوں نے نواز شریف اور مریم نواز شریف کے بارے میں پوچھا تھا۔

حسین نواز نے کہا کہ انہیں اس بات کا بھی صدمہ تھا کہ ان کے شوہر نواز شریف اور بیٹی مریم نواز ان کے ساتھ نہیں ہیں اور انہیں یہ بھی نہیں بتایا گیا تھا کہ وہ دونوں جیل میں ہیں جبکہ جیل میں ہونے کے بعد دونوں کی ان کے ساتھ زیادہ بات چیت بھی نہیں ہوتی تھی، بیگم کلثوم نواز دوران علاج ہی 11 ستمبر 2018 کو ہارلے سٹریٹ کلینک میں انتقال کر گئی تھیں ان کی میت وطن واپس لائی گئی اور رائیونڈ لاہور میں ان کی نماز جنازہ معروف عالمی مبلغ مولانا طارق جمیل کی اقتدإ میں ادا کرنے کے بعد سسر مرحوم میاں محمد شریف کے پہلو میں سپردخاک کردیا گیا،

ملکی جمہوریت کے لئے ان کی جدوجہد ہمیشہ تاریخ میں یاد رکھی جائے گی،آج 11 ستمبر کو ان کی پہلی برسی منائی جارہی ہے اللّٰہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرما کر جنّت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سردار شعیب کی دیگر تحریریں
سردار شعیب کی دیگر تحریریں