نیو لاہور سٹی کے متاثرین کا کوئی پرسان حال نہیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں نے اس سے پہلے ایک مضمون میں حکومت کی اس موضوع پر توجہ دلانے کی کوشش کی تھی کہ کیسے ہاؤسنگ سوسائٹیز کے مالکان، ریگولیٹری باڈیز کے ساتھ مل کر دن دیہاڑے لوگوں کو لوٹ رہے ہیں اور کوئی انہیں پوچھنے والا نہیں۔ اگر حکومت کی لگائی گئی اس رٹ کو مان بھی لیا جائے کہ سارا قصور پچھلی حکومتوں کا ہے اور چیزوں کو ٹھیک کرتے وقت لگے گا، تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہوتی دیکھ کر بھی آنکھیں بند کر لی جائیں؟ لوگ دہائیاں دے رہے ہوں اور حکومت ایک خاموش تماشائی بنی رہے؟ کیا ریاست اتنی بے بس ہوتی ہے کہ ان معمولی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے مالکان پر بھی ہاتھ نہیں ڈال سکتی؟

میں آج یہاں ”نیو لاہور سٹی“ کے فراڈ کی تفصیلات سامنے رکھنا چاہتا ہوں کیونکہ جس طریقے سے اس سوسائٹی نے قانون کا مذاق اڑایا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ نیب ہو، ایل ڈی اے، لینڈ ریونیو یہاں تک کہ اسسٹنٹ کمشنر رائیونڈ، یہ تمام ادارے یا تو اس سوسائٹی کے سامنے بالکل بے بس ہیں یا سب کے سب اس کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ اس لیے کہ پچھلے چھ، سات سال سے متاثرین مسلسل ان اداروں کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں، متعدد بار سڑکوں پر احتجاج بھی کر چکے ہیں اور اس کے باوجود ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔

نیو لاہور سٹی زیتون گروپ کا پروجیکٹ ہے، جو کہ بحریہ ٹاؤن لاہور کی بیک سائیڈ پر کینال روڈ پر واقع ہے۔ اس کا احاطہ سندرروڈ تک پھیلا ہوا ہے جبکہ سندر روڈ کی پرلی طرف زرعی زمینیں شروع ہو جاتی ہیں۔ بحریہ ٹاؤن سے ملحق ہونے کی وجہ سے لوگوں کو ایک نقشے پر یہ خواب دکھایا جاتا تھا کہ مستقبل میں بحریہ ٹاؤن اور نیو لاہور سٹی کے درمیان راستہ کھول دیا جائے گا جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ بحریہ ٹاؤن میں ہی پلاٹ خرید رہے ہیں۔ ظاہر ہے یہ جھوٹ بھی بولا جاتا تھا کہ سوسائٹی کی ساری چیزیں کلئیر ہیں اور آپ کی انویسٹمنٹ ہر لحاظ سے محفوظ ہے۔

اس کے علاوہ 2010 ء میں جب سوسائٹی اناونس کی گئی تو اس وقت اس کی قیمت ایک لاکھ روپے فی مرلہ رکھی گئی تھی جو کہ بحریہ ٹاؤن کے مقابلے میں ایک مناسب قیمت تھی۔ سو لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے، جن کے پاس بحریہ ٹاؤن میں پلاٹ خریدنے کا بجٹ نہیں تھا، نیو لاہورسٹی میں پلاٹ بک کرنا شروع کر دیے۔ بکنگ کا سلسلہ 2015 ء تک جاری رہا اور ساتھ میں سوسائٹی بکنگ پرائز بھی بڑھاتی رہی جو کہ 2015 ء میں دو لاکھ پچیس ہزار فی مرلہ پر پہنچ گئی۔ اس سے وہ لوگ جو پہلے بکنگ کروا چکے تھے ان کو یہ دھوکا بھی دیا جاتا رہا کہ شاید ان کے پلاٹ کی قیمت بڑھ رہی ہے حالانکہ مارکیٹ میں پرانی فائلیں اپنی اصل قیمت سے بھی نیچے دستیاب تھیں۔ بہرحال اس کے ساتھ ساتھ ڈویلپمنٹ کا کام بھی چل رہا تھا جس سے لوگ مطمئن تھے کہ انہیں پلاٹ ملیں گے۔

لوگوں کو پہلا دھچکا تب لگا جب چار سالہ پیمنٹ پلان مکمل ہونے پر انہیں ڈویلپمنٹ پلان تھمایا گیا جو کہ اصل قیمت کا سو فیصد یعنی ایک لاکھ فی مرلہ رکھا گیا۔ یہ اپنی نوعیت کی شاید پہلی سوسائٹی تھی جس نے ایک ہی رات میں پلاٹ کی قیمت دگنی کر دی تھی اور یہ کس قانون کے تحت کیا گیا؟ کوئی نہیں جانتا تھا اور کوئی پوچھنے والا بھی نہیں تھا۔ لوگوں نے تھوڑا شور مچایا لیکن اتنے عرصے سے پلاٹ کا انتظار کرتے ان مجبور لوگوں نے چارو ناچار یہ ڈویلپمنٹ چارجز بھی ادا کرنا شروع کردیے۔ اس لئے کہ مارکیٹ میں فائل مائنس میں تھی۔ پھربھی لوگوں کو ایک امید تھی کہ شاید اس کے بعد انہیں پلاٹ مل جائے گا۔ سوسائٹی کی جرات مزید بڑھ گئی اور بعد میں بیچی گئی فائلوں پر اس نے ڈیڑھ سو فیصد تک چارجز لگا دیے اور بدقسمتی کے ساتھ ان کا حال بھی وہی تھا جو پہلوں کا تھا۔

سوسائٹی کا بیشتر حصہ 2016 ء میں ڈویلپ ہو چکا تھا، یہ وقت تھا ان لوگوں کو ڈلیور کرنے کا جو آنکھوں میں خواب سجائے بڑے صبر سے اس دن کا انتظار کر رہے تھے۔ لیکن سوسائٹی جو کرنے جارہی تھی وہ شاید کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا۔ 2016 ء میں جب بیلٹنگ ہوئی تو اس میں گنتی کی چند فائلوں کو ہی شامل کیا گیا، یہ شاید بہت قریبی یا وہ ڈیلرز حضرات تھے جو اس فراڈ میں معاون رہے تھے۔

اور پھر سوسائٹی کی دیدہ دلیری ملاحظہ فرمائیے وہ تمام زمین جو پرانے فائل ہولڈرز کے پیسوں سے ڈویلپ کی گئی تھی، یہ سوسائٹی نے مزید مہنگی قیمت میں نئے پراجیکٹ کے نام سے اور کہیں اس سے بھی زیادہ قیمت میں آن گراؤنڈ پلاٹ کی صورت میں بیچنا شروع کر دی۔ لوگوں کو اندازہ ہوا کہ ان سے دھوکہ ہوا ہے، احتجاجوں کا سلسلہ شروع ہو گیا لیکن نیو لاہور سٹی انہیں یقین دلاتی رہی کہ ان کی جگہ کسی کو نہیں بیچی جارہی اور سوسائٹی جلد ہی ان کی بیلٹنگ کر دے گی۔

اسی دوران نیو لاہور سٹی نے سندر روڈ کے پرلی طرف جو زرعی زمینیں تھی وہاں کچھ رقبہ خریدا، جو شاید اپنے فراڈ کو صرف قانونی شکل دینے کے لئے تھا، اور ان تمام پرانے فائل ہولڈرز کو وہاں پھیکنے کی تیاریاں شروع کردیں۔ لوگوں کو اس بات کا علم ہوگیا اور ساتھ میں یہ یقین بھی کہ نیو لاہور سٹی ان سے جھوٹ بول رہی ہے اور ان سے دھوکہ ہو چکا ہے کیونکہ ان کی زمین ان کی آنکھوں کے سامنے کسی اور کو بیچی جا رہی تھی اور لوگ بے بسی کے ساتھ یہ سب دیکھنے کے سوا کچھ نہیں کر پا رہے تھے۔ اس لیے کہ کوئی ادارہ ان کی فریاد سننے کے لیے تیار ہی نہ تھا۔

چند لوگوں نے کوششوں سے متاثرین کو اکٹھا کیا، نیب میں درخواستیں جمع کروائیں کہ خدارا نیو لاہور سٹی کو اس فراڈ سے روکا جائے لیکن نیب پہلے یہ کہہ کے ٹالتا رہا کہ مزید لوگوں کو درخواست کے لئے لائیں ہم پھر کوئی ایکشن لیں گے۔ کچھ عرصے بعد لوگوں نے نیب کے دفتر ٹھوکر نیاز بیگ کے سامنے احتجاج کرنے شروع کیے تو نیب نے یہ معاملہ اٹھا کر ایل ڈی اے کو بھیج دیا۔ لیکن سوال یہ تھا کہ اگر ایل ڈی اے نے کچھ کرنا ہوتا تو معاملہ یہاں تک پہنچتا ہی کیوں؟ اس لئے وہاں بھی داد رسی نہ ہو سکی۔

کچھ لوگوں نے سی ایم شکایت سیل میں بھی درخواست جمع کروائی جہاں سے بہرحال جواب آیا اور معاملہ اسسٹنٹ کمشنررائیونڈ، جناب شاہد محبوب کے حوالے کر دیا گیا۔ اے سی صاحب نے پہلے تو خوب پھرتی دکھائی، متاثرین کو انصاف کی یقین دہانی کرائی اور نیو لاہور سٹی کو نوٹس کے ذریعے بلا کر متاثرین کے سامنے بٹھایا۔ لوگوں کو کچھ امید ہوئی کہ شاید یہاں انہیں انصاف ملے گا لیکن ایک دو پیشیوں کے بعد یہ امید بھی مایوسی میں بدل گئی کیونکہ اس کے بعد انہیں کبھی کوئی نئی تاریخ نہیں ملی اور ساتھ میں لوگوں کو یہ اندازہ بھی ہوگیا کہ اے سی صاحب کی ساری پھرتیاں اپنا بھاؤ بڑھانے کے لئے تھیں نہ کہ لوگوں کو انصاف دلانے کے لئے۔ ہاں یہ انکشاف ضرور ہوا کہ نیو لاہور سٹی کے پاس ابھی تک اصل سائیٹ کی بھی فل پرمیشن نہیں تھی یعنی وہ تمام فائلیں اور پلاٹ غیر قانونی طور پر لوگوں کو بیچے گئے تھے۔

لوگوں کو مشتعل ہوتا دیکھ کر، 2018 کے آخر میں نیو لاہور سٹی نے اپنے فائل ہولڈرز کو ایک بار پھر الو بنایا اور انہیں لیٹر بھیجے گئے کہ آپ کو یہ خوشخبری دی جارہی ہے کہ سوسائٹی جون 2019 ء میں بیلٹنگ کرے گی، اس لئے آپ سب اپنے اپنے واجبات جمع کروائیں بصورتِ دیگر آپ کو بیلٹنگ میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ یہ نیو لاہور سٹی کا آخری دھوکہ تھا لیکن اداروں سے مایوسی کے بعد متاثرین کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ سوسائٹی کے اس آخری دھوکے پر بھی اعتبار کرلے، اور یوں سوسائٹی نے لوگوں سے یہ آخری جمع پونجی بھی ہتھیا لی۔

جون میں بیلٹنگ ضرور ہوئی لیکن یہ ایک جعلی بیلٹنگ تھی۔ سوسائٹی نے وہی کیا جس سے وہ ہمیشہ انکار کرتی آئی تھی، بلکہ یوں کہیں کہ بلی تھیلے سے باہر آچکی ہے اور اب نیو لاہور سٹی کا یہ کہنا ہے کہ اس نے کبھی سوسائٹی کی موجودہ ڈویلپڈ سائیٹ پر پلاٹ کا وعدہ کیا ہی نہیں تھا۔ ان تمام پرانے فائل ہولڈرز کو سندر روڈ کے پار خریدی گئی زرعی زمین پر پھینک دیا گیا ہے جہاں آج بھی کھیت لہلہاتے نظر آتے ہیں۔ اور اس زرعی زمین کی کسی ہاؤسنگ سوسائٹی کے لئے منظوری تھی اور نہ شاید کبھی ہوگی۔

اس جعلی بیلٹنگ میں بغیر کسی نقشے کے ایک کاغذ کے ٹکڑے پر پلاٹ نمبر لکھ کر تھما دیا گیا ہے اور آج دس سال گزرنے کے بعد بھی لوگوں کو نہیں پتا کہ ان کے پلاٹ کدھر ہیں؟ اور اس کاغذ کے ٹکڑے کو ہاتھ میں لئے متاثرین کی حالت یہ ہے کہ ان کی زبان بھی جیسے حلق میں اٹک گئی ہو اور وہ نہیں جانتے کہ اس گونگے، بہرے نظام میں کوئی فریاد کریں تو کریں کس سے؟

اس سٹوری کے بعد کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ ہم ایک ایسی ریاست میں رہتے ہیں جو کسی آئین یا قانون کے تحت چل رہی ہے؟ آج بھی نیو لاہور سٹی بغیر کسی ڈر اور خوف کے اپنے آفس میں بیٹھ کر آن گراؤنڈ پلاٹ بیچ رہی ہے اور اگر کوئی متاثرین میں سے اپنے پلاٹ کا مطالبہ کرنے پہنچ جائے تو آفس میں موجود گارڈز اسے اٹھا کر باہر پھینکتے ہیں اور صاف کہتے ہیں ”آپ سے جو بنتی ہے آپ کرلیں۔“

میں پی ٹی آئی کی حکومت کو یہ بتانا چاہتا ہوں، لوگ سب جانتے ہیں کہ پچھلی حکومتوں کا قصور کتنا تھا اور آپ کی کیا ذمہ داریاں ہیں۔ اس لئے برائے مہربانی چاہے ووٹ ہی کے لئے سہی لیکن نیو لاہور سٹی کے متاثرین کو انصاف دلوایا جائے۔ انہیں خوف ہے کہ سوسائٹی کا مالک میاں ایاز انور جلد اس ملک سے فرار ہو جائے گا کیونکہ وہ لوگوں سے پلاٹ کی پوری قیمت وصول کر کے اسے آگے کسی اور کو بیچ چکا ہے۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ میاں ایاز انور کا نام فوری ای سی ایل میں ڈالا جائے اور معاملے کی تحقیقات کروائی جائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •