آنسوؤں سے دُھلنے والا شہر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”وہ کہنے لگیں، اس شہر کو ہم نے اپنے آنسوؤں سے دھویا ہے۔ “

میں نے یہ جُملہ سنا اور میں دنگ رہ گیا۔ جیسے کسی نیزے کی انی میرے سینے پر چُبھ گئی۔ محفل کا لحاظ کیے بغیر میری آنکھوں سے آنسو ٹپکنے لگے۔

ہاں، یہ جُملہ قرۃ العین حیدر نے کہا تھا، میرے اسی شہر کے بارے میں اور اب اتنے برس بعد میرے سامنے دہرایا جا رہا تھا۔ افسانوں کے ششدر کر جانے والے انکشاف کی طرح۔

قصّہ یہ تھا کہ عامر حسین ایک دن پہلے کراچی پہنچے تھے اور میں ان سے ملنے کے کراچی جیم خانہ گیا۔ جہاں آج بھی قرۃ العین حیدر کو یاد کرنا عین مناسب معلوم ہوتا ہے۔ میرے بھی جیم خانے، محمد خالد اختر نے ان کی پیروڈی کرتے ہوئے لکھا تھا۔ عامر حسین اپنی ادبی مصروفیات اور دیگر ادبی معاملات کی بات کرنے لگے مگریہ ناممکن تھا کہ ان سے میری ملاقات ہو اور اس میں قرۃ العین حیدر کا ذکر نہ آئے۔ عامر حسین یہ ذکر کر کے ہنسنے لگے کہ قرۃ العین حیدر نے کسی موقع پر ان سے کہہ دیا کہ میاں، میں نے تمہیں گودوں میں کھلایا ہے۔

ان کے خیال میں ایسا ہونا ممکن نہیں تھا۔ اس مرتبہ عامر حسین کو میری یونیورسٹی میں کراچی اور اس کے ادبی اظہار پر بات کرنا ہے۔ ”آگ کا دریا“ اور ”ہاؤسنگ سوسائٹی“ اور پھر ”کارجہاں دراز ہے“ کی دوسری جلد۔ کراچی کی عکاسی انہوں نے تیز مشاہدے اور بے لاگ تبصرے کے ساتھ کی ہے۔ یہ کراچی ان کے دل و دماغ میں بسا رہا۔ عامر حسین نے بتایا کہ ان کے گھر آئی ہوئی تھیں اور صوفے پر نیم دراز اونگھنے کے بعد انہوں نے دہلی کے بجائے کراچی کہہ دیا کہ وہ یہاں سے آرہی ہیں۔ انہوں نے ذکر کیا کہ تقسیم سے پہلے کراچی کی سڑکیں روزانہ دھوئی جاتی تھیں۔ پھر وہ کہنے لگیں ”اس شہر کو ہم نے اپنے آنسوؤں سے دھویا ہے۔ “

وہ تو اپنی کہہ گئیں مگر یہ بات میرے دل کو لگ گئی۔ ادھر میں کراچی کے شب و روز کے بارے میں جو محسوس کر رہا تھا، وہ نیم شکل ہیولے، باتیں جو ادھر ادھر سُنی تھیں ایک ترتیب سے ذہن میں آنے لگیں۔ ان کو ایک نام مل گیا۔ قرۃ العین حیدر کا دیا ہوا نام۔

قرۃ العین حیدر کے زمانے میں نو عمر رہے ہوں گے امر جلیل۔ اسی لیے وہ اپنے آپ کو بوڑھا بہت کہنے اور لکھنے لگے ہیں۔ جو کچھ بھی ہو وہ میرے انتہائی پسندیدہ لکھنے والے ہیں کہ ان کا کالم نظر آجائے تو مجھ سے چھوڑا نہیں جاتا۔ پھر ماضی قریب کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کا تازہ ترین کالم اسی طرح میرے ذہن میں اس دن سے چپک کر رہ گیا ہے جب شائع ہوا اور میں نے پڑھ لیا۔ کھن کھجورے کی طرح میرے دماغ میں پنجے گاڑ دیے اس نے۔ اب اس سے الگ کیسے ہوسکتا ہوں؟ اپنے جیسے لوگوں کو ”آخر شب کے ہم سفر“ قرار دینے کے بعد امر جلیل نے لکھا:

”تقسیم ہند دیکھنے والی نسل کے ہم آخری گنے چُنے لوگ جو رخت سفر باندھ کر بیٹھے ہوئے ہیں، اپنے شہر کا تماشہ بنتا ہوا دیکھ رہے ہیں، ہم کچھ نہیں کر سکتے۔ ہم اب بڈھے کھوسٹ ہوچکے ہیں۔ کچھ کچھ پگلے، کچھ کچھ باؤلے، کچھ کچھ حیران، کچھ کچھ پریشان رہنے لگے ہیں۔ “

ان کا سوال یہ نہیں ہے کہ کراچی پر حاکمیت کس کی ہے اور اس پر قبضہ کون جمانا چاہتا ہے۔ ان کو فکر یہ ہے کہ کراچی کو اجاڑنے کے درپے کون ہے۔ انہوں نے صاف صاف لکھ دیا کہ آپ سرکاری، غیر سرکاری سطح پر کچھ بھی کر ڈالیں، کراچی صاف نہیں ہوگا۔

”کراچی کو تقسیم ہند سے پہلے جیسا بنانے کے لیے آپ کو کراچی میں رہنے والوں کی تربیت کرنا ہوگی۔ ان کے روّیوں اور عادات سے گند کچرا نکالنا ہوگا۔ ان کو ایک ترقی یافتہ شہر میں رہنے کے آداب سکھاتا ہوں گے۔ “

اس کو پڑھ کر ایک تازیانہ سا لگا۔ تاریخی، سیاسی مُضمرات تو دور کی بات ہیں، مجھے سب سے پہلے بقر عید یاد آگئی جس کو زیادہ دن نہیں گزرے۔ گلی محلّے باڑوں میں تبدیل ہوگئے جہاں ہر وضع قطع کے جانور بندھے ہوئے ہیں۔ راستہ بند ہوگیا ہے اور گزرنا مشکل ہے تو آپ کسی سے شکایت نہیں کر سکتے۔ دیکھتے ہی دیکھتے خون کی ندیاں بہنے لگتی ہیں۔ ہر سڑک مقتل بن جاتی ہے۔ خون کے تالاب بن جاتے ہیں۔ ذبح کرنے کے بعد جو آلائش رہ جاتی ہے، اسے بھی سڑک پر سجا دیا جاتا ہے۔

حکومت اور شہری انتظامیہ کو برا بھلا کہنا کراچی والوں کا مرغوب مشغلہ ہے مگر سڑک پر مذبح خانے کھول دینے کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں، کراچی کے شہریوں پر عائد ہوتی ہے۔ کئی دن تک یہ آلائش، انتڑیوں میں ہمہ تن مشغول انگمار برگ مین کی فلم ”سیونتھ سیل“ کا منظر معلوم ہوتا ہے جہاں موت کا راج ہے۔ اس شہر کے لوگوں کو یہ شعور حکومت تو فراہم کرنے سے رہی۔ امر جلیل نے ٹھیک ہی تو لکھا ہے، اس شہر کے لوگوں کو اس شہر میں رہنے کی تربیت دینا ہوگی۔

گلشن اقبال سے فیڈرل بی ایریا اور نارتھ ناظم آباد سے لے کر ملیر تک خون کی اس یورش کا منظر مجھے جابجا دکھائی دیا۔ ناممکن تھا کہ اس سے بچ کر نکل سکیں۔ یہ تو رہائشی علاقے ہیں، اگلے دن میں نے دیکھا کہ صدر میں پینوراما سینٹر کے سامنے اور ریگل چوک پر بکرے پچھاڑے جارہے ہیں اور قربانی کی نیت کرنے والے ان پر چھرے تان رہے ہیں، اس سہولت کے ساتھ کہ خون، کھال، فالتو چربی سب کا ٹھکانا سڑک پر ہے۔ یہ بات بھی قابل غور تھی کہ اگر کسی سے کچھ کہو تو اچھے خاصے پڑھے لکھے نظر آنے والے لوگ مرنے مارنے پر تل جاتے۔ خون کے تالاب سے بچ کر نکلو تو فساد موجود ہے۔

غلاظت کو فروغ دینے کے علاوہ کراچی کے شہری خود بھی تو دیکھیں کہ شہر میں کیا حشر برپا ہے۔ قرۃ العین حیدرکے جُملے نے خیالات کا سلسلہ باندھا تو ایک اور حالیہ کالم یاد آگیا جو میرے ذہن میں حاوی تھا۔ یہ مقالہ جناب عارف حسن نے لکھا ہے اور انگریزی روزنامے ”ڈان“ میں شائع ہوا ہے مگر جہاں تک مجھے معلوم ہے، ایسے کانٹے کے مضمون کا نہ تو اردو میں ترجمہ ہوا ہے اور نہ اس حوالے سے بحث ہوئی ہے۔ عارف حسن شہری منصوبہ سازی اور شہری امور کے مطالعات کے ماہر ہیں اور کراچی کے حوالے سے ایک سے ایک فکر انگیز تحریر کرتے رہے ہیں، اور اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ نئے منصوبوں کو اچانک اوپر سے مسلّط کر دینے کے بجائے شہر کی ثقافتی تاریخ اور جگہوں کے عوامی استعمال کو مدنظر رکھا جائے۔

کراچی میں عوامی جگہوں (پبلک اسپیس) کے بدلتے ہوئے رجحانات اور مخدوش مستقبل کے بارے میں اس بار بھی انہوں نے خبردار کیا ہے کہ آہستہ آہستہ شہر میں ایک سلسلہ چل رہا ہے جس کے تحت عوامی استعمال کی جگہوں کے کردار کو تبدیل کیا جارہا ہے۔ شہر میں ”اشرافیا نے“ (gentrification) کا کام بے دھڑک ہو رہا ہے۔ عارف حسن صاحب نے کئی مثالیں پیش کی ہیں۔ عبداللہ شاہ غازی کے مزار سے آگے کلفٹن تک اب بحریہ ٹاور کا راج ہے اور ایک عوامی بازار جس میں ہر وقت میلے کا سا سماں رہتا تھا، غائب ہوتا جا رہا ہے۔ ڈیفنس اتھارٹی نے سی ویو کا سہارا لے کر ان ٹھیلے والوں اور سستا سودا بیچنے والوں کو ہٹا دیا ہے جو وہاں آنے والوں کی ضرورت پوری کرتے تھے۔ اگر آپ کو بھوک لگے تو مہنگی طعام گاہیں تعمیر کر دی گئی ہیں، یعنی آپ کی جیب میں دام نہیں ہیں تو آپ یہاں کا رخ نہ کریں۔

مہنگے دام بھی کوئی ضمانت نہیں ہیں۔ دو دریا کے نام سے بہت سے ہوٹل اور ریستوران کھلے ہوئے تھے جن کو آئے دن گرایا یا دھمکایا جاتا رہا ہے۔ اسی طرح ایک غیر ملکی نام والی کمپنی کا ریستوراں علی الاعلان سمندر میں اپنا کوڑا کرکٹ اور گندگی خارج کر رہا ہے، اس پر کوئی روک ٹوک نہیں۔ یہ جو چاہتے ہیں کر گزرتے ہیں اور ان سے پوچھنے والا کوئی مائی کا لال نہیں جو سامنے آئے۔

کراچی شہر کو غریب پرور اور غریبوں کی پناہ گاہ قرار دیا جاتا رہا، دیکھتے ہی دیکھتے اس کے عوامی مقامات سے غریبوں کو دور کیا جارہا ہے اور اجارہ داری قائم کی جارہی ہے، جس سے شہر والوں کا نہیں، محض چند افراد کا مفاد وابستہ ہے۔ ظاہرہے کہ کراچی کے اس نئے نقشے میں چند افراد کو عوام پر فوقیت حاصل ہے۔

جناب عارف حسن نے فریئر ہال کی مثال دی ہے جہاں ہر اتوار کو لگنے والے پرانی کتابوں کے بازار کو آہستہ آہستہ سمیٹا اور باہر دھکیلا جاتا رہا ہے۔ پرانی کتابوں سے ہمارے منصوبہ ساز اداروں کو ویسے بھی خاص دشمنی ہے۔ حسن اسکوائر سے بے دخل کرکے پرانی کتابوں کے ٹھیلے بیت المکرم مسجد کے سامنے بھیج دیے گئے۔ پھر ان کو اور بھی پیچھے ہٹا کر ایک غیر رسمی سی حد بندی کے پیچھے کر دیا گیا ہے۔ لیکن حسن اسکرائر پر مچھلی اور چاٹ بیچنے والے اپنا کاروبار اس طرح جمائے ہوئے ہیں اور مسجد بیت المکرم کے سامنے جو حد بندی ہے اس پر ایک سیاسی جماعت کا نام بڑے بڑے حروف میں لکھا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی باتوں پر کوئی شرمندہ نہیں ہوتا۔ کراچی کے بیش تر شہری ان باتوں کے عادی ہو جاتے ہیں، روز وہاں سے گزرتے ہیں اور دیکھتے ہوئے بھی نہیں دیکھتے۔

قرۃ العین حیدر نے کہا کہ اس شہر ہم نے اپنے آنسوؤں سے دھویا ہے۔ اس کے بعد آنے والے لوگوں نے شہر کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا ہے اور جی بھر کے برباد کیا ہے۔ قرۃ العین حیدر کا اس شہر سے گزر ہوتا تو ان کے آنسو نہ تھمتے لیکن ان کے آنسو اس شہر کو دھونے کے لیے کافی نہ ہوتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •