وزیر خارجہ کی ’’زبان کی لغزش‘‘ سے چسکہ فروشی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

معاملہ وہی اندھی نفرت وعقیدت پر مبنی تقسیم کا ہے اور سوشل میڈیا کے ذریعے فریقین کے دلوں میں پہلے سے موجود تعصبات کو مزید بھڑکانے کیلئے ’’ثبوتوں‘‘ کی فراہمی۔

مخدوم شاہ محمود قریشی صاحب سے طویل شناسائی کے باوجود ذاتی تعلق نہیں بن پایا۔ سرِراہے ملاقات ہوجائے تو بہت احترام وتپاک سے ملتے ہیں۔ اسی حقیقت کو قطعاََ نظرانداز کرتے ہوئے کہ ا کثر میری بے رحم تنقید کا نشانہ بنے رہتے ہیں۔ ان کے اندازِ سیاست سے میں اکثر تلملا جاتا ہوں۔ ریمنڈ ڈیوس والے واقعہ کو ا نہوں نے زرداری- گیلانی حکومت کا ’’معاہدہ تاشقند‘‘ بنانے کی کوشش کی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو مگر بن نہ پائے۔ بالآخر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنا پڑی۔ ان دنوں ہمارے وزیرخارجہ ہیں مگر اپنے منصب کے تقاضوں کو کماحقہ نبھا نہیں پارہے۔

یہ سب لکھنے کے بعد بھی یہ اصرار کرنا ضروری ہے کہ منگل کی سہ پہر سے ان کی ایک وڈیوکلپ کو سوشل میڈیا پر پھیلاتے ہوئے جو داستان بنانے کی کوشش ہورہی ہے فقط بہتان طرازی ہے۔یہ بات درست کہ جنیوا میں غیر ملکی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے جموں وکشمیر کو ’’مقبوضہ‘‘ کے بجائے’’ بھارتی ریاست جموں وکشمیر ‘‘کہا۔ یہ مگر خطابت کی روانی میں ہوئی Slip to Tongue تھی۔اصل پیغام ان کی گفتگو کا یہ تھا کہ اگر بھارتی حکومت کے دعوئوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 کے بعد بھی زندگی ’’معمول کے مطابق‘‘ ہے تو غیر ملکی صحافیوں کو وہاں سے ابلاغ کے جدید ترین ذرائع استعمال کرتے ہوئے ہر پل کی خبر بھیجنے کی اجازت کیوں نہیں دی جارہی۔ پانچ ہفتے گزرجانے کے باوجود 80 لاکھ کشمیریوں کے موبائل فونز کیوں نہیں کھولے جارہے ہیں۔انٹرنیٹ تک رسائی کوناممکن کیوں بنادیا گیا ہے۔

ان کے ریمارکس کو سیاق وسباق کے تناظر میں زیربحث لانا ضروری ہے۔یہ فرض کرلینا قطعاََ نامناسب ہے کہ انہوں نے ’’دانستہ‘‘ طورپر ’’بھارتی ریاست جموں وکشمیر‘‘ کہتے ہوئے درحقیقت حکومتِ وقت کی ’’حقیقی سوچ‘‘ آشکار کردی۔ مودی سرکار کی جانب سے 5اگست کو لئے اقدام کی گویا ’’توثیق‘‘ کردی۔

کئی بار اس کالم میں بہت ُدکھ سے بیان کرچکا ہوں کہ ہمارے حکومت مخالف صحافیوں اور سیاست دانوں کی اکثریت بضد ہے کہ

پاکستان کے وزیر اعظم کے حالیہ دورئہ امریکہ کے دوران ٹرمپ انتظامیہ نے ہمارے حکمرانوں کو ’’بتا‘‘ دیا تھا کہ مودی سرکار اپنے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرنے جارہی ہے۔ اس کے بعد حکومتِ پاکستان کو مسئلہ کشمیر ایک ’’نئے زاویے‘‘ سے دیکھنے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ ’’مک مکا‘‘ کیلئے ذہن سازی۔’’نئے حقائق‘‘ کو تسلیم کرنے پر آمادگی۔عمران حکومت سے ہزار ہا اختلافات کے باوجود میں نے اس سوچ کو ہرگز تسلیم نہیں کیا۔صحافیانہ جستجو کے تحت ہوئی تحقیق کے بعد آج بھی یہ بات دہرانے کو بضد ہوں کہ امریکی حکومت کو ہرگز اندازہ نہیں تھا کہ نریندرمودی 5 اگست کو کیا کرنے جارہا ہے۔

آرٹیکل 370 کا خاتمہ یقینا مودی کی BJP کی دیرینہ خواہش تھی۔حالیہ بھارتی انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے اس کے خاتمے کو انتخابی منشور کا حصہ بھی بنایا گیا تھا۔ ’’مناسب‘‘ وقت کا مگر انتظار ہورہا تھا۔مجھے شبہ ہے کہ وائٹ ہائوس میں عمران خان صاحب کو اپنے دائیں ہاتھ بٹھاکر 22 جولائی کے دن ٹرمپ نے مسئلہ کشمیرپر ثالثی کی پیش کش کرتے ہوئے مودی کو اس ضمن میں عجلت دکھانے پر مجبور کردیا۔ اس نے بہت مکاری سے امریکی صدر کے اس دعویٰ کی تردید نہیں کی کہ اوساکا میں ٹرمپ سے ہوئی ایک ملاقات کے دوران مودی نے مسئلہ کشمیر کے دائمی حل کے لئے اس سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی درخواست کی تھی۔

ٹرمپ کے مذکورہ دعویٰ نے مودی کو بلکہ دیوار سے لگادیا۔ وہ اپنی زبان سے دُنیا کی واحد سپرطاقت شمار ہوتے امریکہ کے صدر کوجھوٹا پکار نہیں سکتا تھا۔اپنی وزارتِ خارجہ سے سفارتی زبان میں ثالثی کے دعویٰ کی تردید کروانے کے بعد مگر نہایت خاموشی سے سازشی انداز میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کی تیاری میں مصروف ہوگیا اور 5اگست کو وہ کردیا جس کا بہت عرصے سے منصوبہ بنایا جارہا تھا۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ عمران حکومت اپنے رویے سے اپنے مخالفین کے دلوں میں وزیر اعظم کے دورئہ امریکہ کی وجہ سے پیدا ہوئے شکوک وشبہات کی سنگینی کا ادراک نہ کرپائی۔ 5اگست 2019کے بعد ہوئے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کے دوران حکومتی صفوں سے نئی صورت حال سے نبردآزما ہونے کے لئے کوئی ٹھوس حکمت عملی ہمارے سامنے نہ آپائی۔ پیغام ہمیں یہ بھی ملا کہ نام نہاد ’’اُمہ‘‘ مشکل کی اس گھڑی میں ہمارا ساتھ نہیں دے رہی۔ دو ’’برادر‘‘ ممالک نے بلکہ مودی کو اپنے ہاں بلاکر اعلیٰ ترین اعزازت سے نوازا ہے۔

فقط چین نے واضح الفاظ میں آرٹیکل 370کے خاتمے کی مذمت کی۔اسی کی کاوشوں کی بدولت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل مقبوضہ کشمیر کو طویل عرصے کے بعد ایک ’’قضیہ‘‘ کی حیثیت میں زیر بحث لانے کو مجبور ہوئی۔یہ الگ بات ہے کہ سلامتی کونسل کا اجلاس بند کمرے میں ہوا۔اس کے اختتام پر کوئی اعلامیہ بھی جاری نہ ہوا۔

اہم ترین پہلو مگر یہ بھی ہے کہ چین نے فقط پاکستان کی محبت ہی میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کو قبول نہیں کیا۔اس کی خفگی کا اصل سبب لداخ کو جموں وکشمیر سے کاٹ کر نئی دہلی کے زیرنگران Union Territory بنانا تھا۔ لداخ تبت کا ہمسایہ ہے۔ تبت میں بدھ مت کے ماننے والے اکثریت میں ہیں۔ ان کا ’’روحانی رہ نما‘‘-دلائی لامہ- کئی برسوں سے بھارت میں پناہ گزین ہے۔لداخ میں کارگل بھی ہے جو ہمارے سکردو کا ہمسایہ ہے اور گلگت بلتستان کو چین One Belt One Road والے منصوبے کے تحت گوادر کی بندرگاہ سے Connectکرنا چاہ رہا ہے۔

چین کا ذکر چھڑا ہے تو یہ حقیقت بھی ذہن میں رکھیں کہ آئندہ ماہ چینی صدر نے بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ ’’غیر رسمی‘‘ ملاقات کے لئے اس کے ملک جانا ہے۔پہلا پڑائو چینی صدر کا بھارت کے ہندوازم کے حوالے سے ’’مقدس‘‘ شمار ہوتے شہر بنارس میں ہوگا۔ نریندرمودی حالیہ بھارتی انتخابات کے دوران ’’لوک سبھا‘‘ تک پہنچنے کے لئے وہاں کی ایک نشست سے کامیاب ہوا تھا۔بنارس سے منتخب ہوا ’’گجراتی‘‘ چینی صدر کو اس شہر سے تامل ناڈ صوبے کے ایک شہر لے جائے گا۔چینی اور بھارتی سربراہان دوروز تک ’’غیر رسمی‘‘ انداز میں ایک ساتھ رہیں گے۔ ان دونوں کے مابین بیشتر گفتگو معاونین کے بغیر ہوگی۔طویل المدتی معاہدوں کے لئے تیاری ’’آف دی ریکارڈ‘‘ معاملہ فہمی کے ذریعے ہوگی۔

مجھے خدشہ ہے کہ بھارتی وزیر اعظم ’’غیر رسمی‘‘ ملاقات کے دودِنوں میں چین کیساتھ اپنے سرحدی تنازعات کو ’’ہمیشہ کے لئے ‘‘ ختم کرنے کی راہ نکالنے پر زور دے گا۔آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد لداخ کے ’’نئے Status‘‘ پر میرے خدشے کے تناظر میں غور کرنا ضروری ہے۔لداخ کی ’’نئی حقیقت‘‘ کو تسلیم کرنے کے عوض چین کو جنوبی بھارت کی بندرگاہوں تک رسائی کی اُمید بھی دلائی جاسکتی ہے۔

ہمارے ہاں مگر ان امکانات پر گفتگو ہی نہیں ہورہی۔ یہ طے کرلیا گیا ہے کہ چین اور بھارت کے مابین تعلقات میں تلخی ہمیشہ برقرار رہے گی۔اس حقیقت کو نظرانداز کرتے ہوئے کہ چین اور بھارت کے درمیان ان دنوں جو تجارت ہورہی ہے وہ بھارت کیلئے بھاری خسارے کا باعث ہے۔چینی اشیاء خریدنے کیلئے بھارتی خزانے کو سالانہ 60ارب ڈالر کی خطیر رقم کا ’’گھاٹا‘‘ برداشت کرنا پڑتا ہے۔

شاہ محمود قریشی کی ’’زبان کی لغزش‘‘ سے چسکہ فروشی کے بجائے سوال یہ بھی اٹھانا ہوگا کہ امریکی صدر نے پیر کے روز وائٹ ہائوس میں کھڑے ہوکر ایک بار پھر پاک-بھارت تعلقات میں بہتری لانے کے لئے ثالثی کی پیش کش کیوں کی۔ یہ کہتے ہوئے اس نے دعویٰ یہ بھی کیا کہ ’’حالیہ دو ہفتوں میں‘‘ پاک -بھارت کشیدگی میں کمی آئی ہے۔ کیا واقعتا کشیدگی کم ہوئی؟ اگر ہوئی تو کب، کہاں اور کس انداز میں؟

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •