9/ 11 : ہم بھی وہیں موجود تھے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیویارک :

18 سال قبل 2001 ء میں پاکستان سے نیویارک آئے ہوئے مجھے ابھی چند ماہ ہی ہوئے تھے جب گیارہ ستمبر کا سانحہ رونما ہو گیا۔ یہ دینا بھر میں اب تک رونما ہونے والے بڑے واقعات میں سے ایک ایسا واقعہ تھا جس نے دینا بھر کو نہ صرف ہلا کر بلکہ تبدیل کر کے رکھ دیا۔ اس واقعہ کے بعد اس کے نتائج اور اثرات نے دینا بھر کے ہر شخص کو کسی نہ کسی حوالے سے متاثر کیا۔ اب امریکہ کیا پورے عالم میں ہر چیز کا آغاز ”گیارہ ستمبر سے پہلے اور گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد“ سے کی گردان سے شروع ہوتا ہے۔

یہ واقعہ کیوں ہوا؟ کیسے ہوا؟ اور کس نے کیا؟ یا کس نے کروایا؟ سے ہٹ کر اپنے اور اپنے چند دوستوں کے اس واقعہ کے حوالے سے مشاہدات شئر کرنے کی کوشش کروں گا۔

11 ستمبر، 2001 ء کا منگل، جاتے موسم گرما اور شروع ہوتے فال کا ایک عام دنوں کی طرح کا دن تھا۔ ان دنوں میری رہائش نیویارک کے علاقے کوئنیز اور مین ہیٹن کو ملانے والے کوئینز بورو بریج کے پاس سنی سائیڈ میں تھی۔ مجھے اس دن مین ہیٹن میں ایک دوست سے ملنے جانا تھا۔ ابھی اس کے لیے تیاری کے مراحل میں تھا کہ باہر واک کے لیے گئے ہوئے میرے انکل صوفی مشتاق نے گھر آ کر بتایا کہ ”جلدی ٹی وی آن کریں۔ خبریں آ رہی ہیں کہ ایک جہاز ورلڈ ٹریڈ ٹاور سے ٹکرا گیا ہے۔“ ہم سب نے ابتدائی طور پر اسے ایک حادثے سے تعبیر کیا۔ تاہم جونہی ٹی وی آن کیا تو وہاں پر نقشہ ہی اور تھا۔ بہت ہی خوف ناک اور دہشت زدہ کر دینے مناظر چل رہے تھے۔ خوف و ہراس کی فضا ہر طرف چھائی ہوئی تھی۔ کچھ دیر کے بعد میں باہر کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے گھر سے باہر نکل آیا۔

اس دن میں نے دیکھا کہ مین ہیٹن کی جانب سے پیدل چل کر کوئینز بریج کے اوپر سے کوئینز بلیوارڈ کی جانب آنے والے راستوں پر لوگ، خصوصاً خواتین، ”اؤ مائی گاڈ، او مائی گاڈ، اِٹ از سو ٹیریبل“ جیسے الفاظ ادا کرتے ہوئے زاروقطار روتے ہوئے جوق در جوق چلے آ رہے تھے۔ خوف و ہراس ان کے چہروں سے بخوبی عیاں تھا۔ یہ زیادہ تر ایسے لوگ تھے جو ابھی ابھی اپنی ملازمتوں یاتعلیمی اداروں میں ٹرینوں کے ذریعے شہر میں داخل ہوئے تھے۔ بہت بڑی تعداد میں لوگ ایسے بھی تھے جو زیرِ زمین ٹرینوں کے روکے جانے کے باعث انڈر گراونڈ ریلوے اسٹیشنز پر پھنسے ہوئے تھے۔ ان کی حالت انتہائی تشویش ناک تھی۔ ایسی حالت میں وہ کئی گھنٹے محصور رہے۔ ان کی حالت دیکھ کر آگے جانے کی ہمت نہیں ہوئی۔

میرے ایک دوست ایوب جو نیویارک کی ایک کورئیر کمپنی میں ملازم تھے وہ ہر روز نیو جرسی سے بنک آف امریکہ کی ڈاک ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے مین آفس پہنچایا کرتے تھے۔ اس دن وہ ایک گھنٹہ لیٹ پہنچے۔ اور تقریباً سات بجے نشانہ بنائے جانے والے ٹاورز میں قائم آفس میں ڈاک پہنچا کر بروقت نکل آئے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ”وہ خوش قسمت رہے جو تقریباً ایک گھنٹہ کچھ منٹ پہلے ٹاورز سے نکل چکے تھے۔ جب پہلا جہاز ٹاور سے ٹکرایا تو اس وقت میں نیویارک کے علاقے چائنہ ٹاؤن میں تھا۔ اس وقت ہم نے ایک زور دار دھماکے کی آواز سنی۔ اّدھر اُدھر دیکھنے کے بعد جب میں نے اوپر جب نگاہ اٹھائی تو میں نے ایک ٹاور کی طرف سے دھواں نکلتے دیکھا۔ پہلے تو میں یہ سمجھا کہ ٹاور کے ساتھ والی کوئی بلڈنگ ہے۔ جہاں کچھ ہوا ہے۔ فوری طور پر میں نے اپنے کورئیر کے دفتر فون کیا جنھوں نے اصل صورت حال سے مجھے آگاہ کیا۔“

ایک دوسرے دوست ارشد چوہدری نے اسی دن اپنے ساتھ پیش آنے والی صورت حال سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس دن تقریباً 8 اور 9 بجے کے درمیان وہ بروکلین سے اپنے ایک دوست کو ڈراپ کرنے ورلڈ ٹریڈ سنٹر کے پاس جا رہے تھے۔ انہوں نے بروکلین سائیڈ ٹنل میں داخل ہونے سے پہلے ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے گہرے سفید رنگ کے دھوئیں کے بادل آسمان کی جانب اٹھتے ہوئے دیکھے۔ ٹنل سے نکلنے کے بعد جونہی وہ ویسٹ ہائی وے پر آئے اور مزید آگے جانے لگے تو راستے ٹریفک جام ہونے کے باعث بلاک ہو چکے تھے۔ اچانک انہوں نے ایک ٹاور کو زمین بوس ہوتے دیکھا تو ان کے ارد گرد موجود لوگوں میں بھی بھگدڑ مچ گئی۔ وہ اور ان کا دوست اپنی گاڑی کو وہیں چھوڑ کر جان بچانے کی خاطر باقی لوگوں کی طرح پیچھے کی جانب بھاگنے لگے۔ ان کا کہنا تھا کہ ”عجیب دہشت اور خوف کا وہ منظر تھا۔ اٹھارہ سال گزرنے کے باوجود بھی جب وہ منظر آنکھوں کے سامنے آتا ہے تو رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔“

9/ 11 کے واقعے کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ امریکہ بھی، لوگ بھی، اور لوگوں کے روئیے بھی۔ بہت سے لوگ امریکہ بدر ہو گئے یا کر دیے گئے۔ امریکہ اب بدل گیا ہے۔ اس واقعے کے بعد دوسری کمونئٹیز کی طرح پاکستانی کمیونٹی نے بھی بہت سی مشکلات جھلییں۔

آج اٹھارہ سال گزر جانے کے بعد بھی اس واقعہ سے ہم نے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ دوسروں کے مقابلے میں ہماری کمیونٹی اب بھی تتر بتر ہے۔ اتحاد کا مظاہرہ بہت کم کم دیکھنے میں آتا ہے۔ تنظیموں کی تعداد تو بہت ہے، مگر ان کی کارکردگی زیادہ تر ذاتی کارروائیاں ڈالنے اور فوٹو سیشن تک محدود ہوتی ہیں۔ پڑھے لکھے اور سنجیدہ لوگ خصوصاً نوجوان نسل کمیونٹی کے اجتماعی مفاد میں آگے آنے سے کتراتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •