کپتان کیوں ناکام ہوا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہر ذی شعور شخص کی امیدیں کپتان سے وابستہ تھیں کہ نا اہل سیاست دانوں کی کرپشن سے وہ نجات دلائے گا۔ سب پر واضح تھا کہ اوپر اگر اچھا حکمران ہو تو نیچے ماتحت خود بخود ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اسے ٹاپ ڈاؤن ماڈل کہتے ہیں۔ آکسفورڈ کا پڑھا کپتان جو ساری زندگی برطانوی اشرافیہ میں گزار چکا ہے، بارہا بتا چکا ہے کہ برطانیہ میں ایسا ہی ہوتا ہے۔

لیکن کپتان جیسے صاف ستھرے، اولوالعزم، صاحب بصیرت وژنری لیڈر کی حکومت میں صورت حال بہتر ہونے کی بجائے کرپٹ حکمرانوں کے دور سے بھی بدتر ہو گئی۔ کاروبار تباہ ہوئے گئے، ملازمتیں چلی گئیں، بجلی گیس کے بل دگنے مہنگے ہو گئے، گاڑیوں کی صنعت برباد ہو گئی، رئیل اسٹیٹ اور تعمیرات کا شعبہ مٹی میں مل گیا۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ وقت آ گیا ہے کہ یہ راز کھول دیا جائے کہ اس کی وجہ ایک بھیانک سازش ہے۔

جب نواز شریف، آصف زرداری، چوہدری پرویز الہی اور سراج الحق نے دیکھا کہ قوم ان سے تنگ آ چکی ہے اور کپتان کا وزیراعظم بننا یقینی تو انہوں نے ایک بھیانک سازش کی۔ انہوں نے اپنی اپنی جماعتوں کے نا اہل ترین لوگوں کو تحریک انصاف میں شامل کروا دیا۔ ان کی اپنی پارٹیاں بھی صاف ہو گئیں اور تمام گند بھی کپتان کی پارٹی میں چلا گیا۔ ان پرانے لیڈروں کا مقصد یہ تھا کہ اپنی اپنی پارٹیوں کے ناکارہ ترین لوگوں کو تحریک انصاف کی متوقع حکومت میں اہم پوزیشنیں دلوا دیں تاکہ جو تباہی ان کی حکومتوں نے تیس برس میں کی، وہ تحریک انصاف کی حکومت کے ایک برس میں ہی ہو جائے۔ یوں عوام تبدیلی سے بیزار ہو کر کہیں کہ پرانی پارٹیاں ہی بہتر تھیں، نواز شریف اور زرداری ملک کو بہتر چلا رہے تھے۔

کپتان دل کا کھرا ہے اور وہ یہ سمجھتا ہے کہ جیسا وہ نان کرپٹ ہے، اس کی جماعت میں بھی ویسے ہی لوگ آئیں گے۔ اس بہلاوے میں آ گیا کہ یہ سب نا اہل لوگ گناہوں کی زندگی سے تائب ہو گئے ہیں اس لئے تحریک انصاف میں شامل ہونے لگے ہیں۔

کپتان نے ان نئے آنے والوں کی تالیف قلب پر بھرپور توجہ دی۔ ان کی ایسی آؤ بھگت کی کہ برسوں سے تحریک انصاف میں شامل لوگوں جیسے اکبر ایس بابر اور جسٹس وجیہہ الدین کو ایک طرف دھکیل کر ان نوواردوں کو ان کی جگہ پر لا بٹھایا۔

کپتان کی پہلی کابینہ پر نظر ڈالتے ہیں۔ اس میں جنرل مشرف کی حکومت سے آنے والوں میں فروغ نسیم، طارق بشیر چیمہ، غلام سرور خان، زبیدہ جلال، فواد چوہدری، شیخ رشید، خالد مقبول صدیقی، شفقت محمود، مخدوم خسرو بختیار، عبدالرزاق داؤد، ڈاکٹر عشرت حسین اور امین اسلم شامل تھے۔

پیپلز پارٹی کے وزیروں میں سے پرویز خٹک، بابر اعوان، شاہ محمود قریشی، فہمیدہ مرزا اور (دوبارہ) فواد چوہدری شامل ہیں۔ قاف لیگ سے امین اسلم کو لیا گیا۔

تحریک انصاف کے اپنے لیڈروں میں سے صرف اسد عمر، شیریں مزاری اور عامر کیانی کو لیا گیا تھا۔ ان میں سے بھی دو کو رخصت کر دیا گیا اور اسد عمر کی جگہ پیپلز پارٹی کے حفیظ شیخ کو دی گئی۔

کپتان کا دو نمبر پیپلز پارٹی کے شاہ محمود قریشی بنے، گزشتہ دور میں پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کا اپوزیشن لیڈر جماعت اسلامی کے میاں محمود الرشید کو بنایا گیا، قبضہ گروپ کے نام سے بدنام علیم خان کو پنجاب کا کرتا دھرتا بنایا گیا، پختونخوا میں پیپلز پارٹی کے پرویز خٹک مدار المہام بنے، سیالکوٹ سے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا انتخاب ہوا، جہلم سے فواد چوہدری آئے۔ پنڈی سے شیخ رشید کو کپتان نے اپنے ساتھ کھڑا کیا جو تحریک انصاف کے ممبر تک نہیں ہیں اور اپنی ڈیڑھ اینٹ کی پارٹی بنائے کھڑے ہیں۔

تحریک انصاف کے مخلص اور نظریاتی کارکن باہر نکال دیے گئے۔ اس سلسلے میں آخری رکاوٹ اسد عمر تھے جنہیں شنٹنگ کر کے کھڈے لائن لگا دیا گیا اور پیپلز پارٹی کے وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو ان کی جگہ دی گئی۔

ان سب نووارد وزرا کی کارکردگی اس سے بھی کہیں بدتر رہی جیسی ان کی سابقہ پارٹیوں کی حکومت میں ہوا کرتی تھی۔ تمام پرانی پارٹیوں کی سازش کامیاب رہی۔ تحریک انصاف کے اندھے حامی بھی سوچنے لگے ہیں کہ کپتان ناکام ہوا ہے۔

کپتان ناکام ضرور ہوا ہے، اس کے دور میں عوام کی زندگی زیادہ مشکل ہوئی ہے، افسران کام کرنے سے انکاری ہو گئے ہیں، سرمایہ داروں نے مارکیٹ سے پیسہ نکال کر چھپا لیا ہے، عوام کو بجلی، گیس، پیٹرول وغیرہ کی قیمت پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ دینی پڑ رہی ہے، کاروبار ختم ہونے سے ملازمتیں جا رہی ہیں، عوام کے لئے اپنے بچوں کے سکول کی فیسیں دینا مشکل ہو رہا ہے۔ لیکن اس کا ذمہ دار کپتان نہیں ہے۔

کپتان کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ دل کا بہت اچھا ہے اور ہر شخص کو اپنے جیسا اجلا سمجھ کر اس پر اعتبار کر لیتا ہے۔ کپتان کی یہی کمزوری اسے لے ڈوبی ہے اور اب سیاسی نجومی کہہ رہے ہیں کہ وہ اب گیا کہ تب گیا۔

جب ٹیم ایسی نکمی ہو تو کپتان کیا کرے؟ اس کا کیا قصور؟ سازش کے تحت فراہم کردہ ٹیم ہی نا اہل نکلی تو پھر کپتان ناکام نہ ہوتا تو کیا ہوا؟ قصور کپتان کا نہیں بلکہ گزشتہ حکومتوں اور پرانی پارٹیوں کا ہے۔ کپتان کی حکومت کی ناکامی کے ذمہ دار نواز شریف، آصف زرداری، سراج الحق اور چوہدری پرویز الہی ہیں جنہوں نے ایسی نکمی ٹیم کپتان کے حوالے کی۔ ایسی بہترین سازش نواز شریف اور زرداری جیسے بے وقوف لیڈر نہیں کر سکتے کہ وہ کپتان کو یوں اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے پر مجبور کر دیں۔ ہماری رائے میں یہ ضرور ایلومیناٹی کا کام ہے جو پرانے پاکستان کی واپسی چاہتی ہے۔ اب ایلومیناٹی کی یہ سازش کامیاب ہونے پر یہ پرانے لیڈر دوبارہ اپنی حکومت بنا لیں گے اور لوگ انہیں اپنا نجات دہندہ سمجھیں گے۔ ہم ان سب کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1209 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar