خوبصورت وادیوں سے سیاحوں کا پھیلایا کچرا صاف کرنے والا ایک شخص

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے دوست تیری عظمت کو سلام!
تن تنہا سر سبز و شاداب پاکستان کا مشن لئے سماہنی سے روانہ ہوا۔

سطح سمندر سے 13400 میٹر بلند رتی گلی جھیل پہ سیاحوں کے پھیلائے ہوئے کچرے کے انبار اپنے ہاتھوں سے چن کر اس خوب صورت جھیل کو اس کا قدرتی حسن لوٹانے کا یہ عمل ایک منفرد اور اچھوتا قدم یے۔ جس پر میں اہل گجرات کی جانب سے تجھے سلام پیش کرتا ہوں۔
اور ہاں یہ کام ہم ہوش والوں کے بس کا کام نہیں۔ یہ تو تجھ سا کوئی دیوانہ ہی سر انجام دے سکتا ہے۔

مجھے یاد ہے کچھ دن قبل میرا یہ دوست اپنی موٹر بائیک پر سر سبز و شاداب پاکستان کے مشن پر روانہ ہوا۔ تو کھاریاں میں ”میرا اپنا کھاریاں“ کی ٹیم نے اس کا پرتپاک استقبال کیا۔ شجر کاری کا افتتاح کرایا۔ اور پھر سید ضیا ءاللہ شاہ ایڈوکیٹ امیر جماعت اسلامی ضلع گجرات نے اہنے ریسٹورنٹ پر پر تکلف عصرانے کا اہتمام کر کے اسے کھاریاں سے رخصت کیا۔

اور مجھے یہ بھی یاد یے کہ بہت سے دانشوروں نے حسب عادت اس کا مذاق اڑایا۔ مقدور بھر پھبتیاں کسیں کہ اس کے پلے کچھ بھی نہیں۔ لیکن آج اس منظر نے چونکا دیا کہ دنیا لاکھ ہنسے ٹھٹھا اڑائے۔ مگر جن کی لگن سچی ہو راہ کی دشواریاں ان کے قدم نہیں روک پاتیں۔ منزل ان کے قدم چومنے کو بے تاب ہوئے پھرتی یے۔

سیالکوٹ کا یہ مرد درویش سیف اللہ جس نے کاروبار کی غرض سے وادی سماہنی آزاد کشمیر کا رخ کیا تو اس کے فطری حسن کا ایسا اسیر ہوا کہ وہیں کا ہو کے رہ گیا۔ اور اب اس کا نام سیف اللہ کشمیری ہو گیا۔

اپنی مدد آپ کے تحت وادی سماہنی میں آج تک نظروں سے اوجھل دلکش مقامات جھیلیں آبشاریں دریافت کیں۔ ان تک راستے ہموار کیے ۔ لوگوں کو سیاحت کے لئے مائل کیا۔ موٹر بائیک ریلی کا اہتمام کیا۔ ایشیا ٹورازم کے نام پر ادارے کی بنیاد رکھ کر سماہنی کو ایک بڑے سیاحتی مرکز میں ڈھالنے کی خاطر ہر شب روز ایک کر دیے۔ سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کیا۔

زیر زمین پانی کے کم ہوتے ذخائر بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی اور گلوبل وارمنگ کی خطرناک حدوں کو چھوتی صورتحال کو بھانپتے ہوئے سیف اللہ کشمیری نے شجر کاری کی مہم کو جہاد سمجھ کر شروع کیا۔

پاکستان کے تمام اہم سیاحتی مراکز خاص طور پر شمالی علاقہ جات کی جھیلیں سیاحوں کی مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی سے کچرے کے ڈھیر میں بدلتی جا رہی ہیں۔ ان کا ملکوتی حسن ماند پڑتا جا رہا ہے۔ اس درد کو بھی فطرت کے اس عاشق نے اپنا حرز جاں بنا لیا۔ اور پچھلے سال ایک اچھوتے سفر کا قصد کر لیا۔ خنجراب سے گوادر تک کا سفر تن تنہا اپنی بائیک پر طے کیا۔ ہر ایک سیاحتی مقام تک پہنچا۔ فطرت کے چہرے پر سے وہ کالک صاف کی جو انسانوں نے مل رکھی تھی۔

سیف اللہ کشمیری اس برس بھی اپنے اس مشن پر روانہ ہو چکا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں رتی گلی جھیل کا منظر اس کے ہاتھ میں کچرے سے بھرے شاپر اور آنکھوں سے جھلکتا عزم و حوصلہ۔ سوہنی دھرتی کو اس کا اصل چہرہ لوٹانے کے اس کٹھن سفر میں اس کا زاد راہ محض اس کا جنون یے۔ وسائل میسر ہیں نہ ہی کسی سرکاری یا نجی شعبے کی سرپرستی۔

کیا کسی وزیر با تدبیر کی نظر پڑے گی اس نابغے کی جانب؟ ٹورازم والی سرکار، ماحولیاتی تبدیلی کے منتری جی، فارسٹ منسٹری کے کار پرداز، کوئی یے جو اس اکیلے شخص کو اپنی سرپرستی میں قبول کر لے۔ اس کے خوبصورت مشن سے متاثر ہو کر اسے حکومتی سطح پر پزیرائی بخش دے۔ سر سبز و شاداب پاکستان کا سفیر ہی مقرر کر دیا جائے۔ حکومت کو توفیق نہ ہو تو نجی شعبہ اس ہیرے کی قدر شناسی کرتے ہوئے اسے کسی نگینے میں جڑ دے۔
کہ منزل نہ دے چراغ نہ دے حوصلہ تو دے

سیف اللہ کشمیری!
میرے دوست تم نے کتنی ہی وزارتوں کا بوجھ اپنے ناتواں کندھوں پر لے رکھا ہے۔
اس سفر سے واپس لوٹو تو میری خوش بختی ہو گی میں ان ہاتھوں کو بوسہ دوں۔ جو میری دھرتی کے ماتھے سے کالک صاف کرنے والے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •