الطاف اور مشرف کا وکیل فروغ نسیم: ایک اور سازش کی تیاری میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تحریک انصاف کے ناعاقبت اندیش وزراء اور نسل پرست انتہا پسند جماعت ایم کیو ایم کی جانب سے پچھلے کچھ عرصے سے حکومت سندھ کو مطیع کرنے کے جتن جاری تھے، کبھی فارورڈ بلاک بنوانے کی کوششیں کی گئیں تو کبھی سندھ میں گورنر راج نافذ کرکے پیپلز پارٹی کی منتخب صوبائی حکومت کو انڈرپریشر لانے کی کوشش کی گئی۔ فروغ نسیم جیسے سازشی ذہن کو وزیر قانون بناکے کر خان صاحب نے صوبائی معاملات میں قانونی نکات کی اپنے ذہن کے مطابق تشریح کرکے کسی بھی وقت کسی بھی صوبے کے صوبائی معاملات میں مداخلت کرنے کا تھریٹ دیا۔

اس بار فروغ نسیم اپنی شیطانی چالوں سے خان صاحب کو ملک میں ایک ایسے آئینی بحران کا مشورہ دے رہے ہیں جو خان صاحب کی حکومت کو تباہی کی اندھی گلی میں پہنچا دے گی۔ یہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ خان صاحب کو نہیں ملے گا۔ پاکستان جو پہلے ہی شدید آئینی، سیاسی، معاشی خلفشار کا شکار ہے، جس کے سرحدوں پہ جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں، کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف بھارتی ظلم و بربریت اور کشمیریوں کی نسل کشی اپنی انتہائی حدود کو چھو رہی ہے اور پاکستانی اور کشمیری پوری دنیا میں سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں، ملک میں مہنگائی، بیروزگاری بھوک و بدحالی کے سبب عوام خودکشیوں پہ مجبور ہوگئے ہیں، ایسے میں ملک میں سیاسی معاشی استحکام کی کوششیں کرنے کے بجائے فروغ نسیم وزیراعظم کو سیاسی خودکشی کا مشورہ دے رہے ہیں۔ فروغ نسیم جیسے لوگوں کے ہوتے کسی حکومت کو دشمن کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی۔

فروغ نسیم یقیناً ایک قابل وکیل ہیں۔ ایک ذہین و زیرک قانون دان مگر ان کا سیاسی کیریئر صرف ان لوگوں کی پشت پناہی اور ہمراہی میں گزرا ہے جو پاکستان کی کسی نہ کسی حوالے سے تباہی و بربادی کے ذمے دار رہے ہیں۔ الطاف حسین جیسے ملک دشمن شخص کے ساتھ ان کا تعلق آج بھی اسی مضبوط ڈوری میں بندھا ہوا ہے جس سے 22 اگست کی پاکستان مخالف تقریر سے پہلے بندھا ہوا تھا۔ فروغ نسیم آج بھی الطاف حسین کے خلاف لندن میں عمران فاروق قتل کیس اور منی لانڈرنگ کے کیسز میں اس کی قانونی معاملات میں معاونت کرتے ہیں۔ وہ آئین شکن، سنگین غداری کے ملزم پرویز مشرف کے وکیل بن کر اس کا کیس لڑتے رہے ہیں۔ آج پھر وہ ایک صوبے کی منتخب عوامی جمہوری حکومت کے خلاف آئین کے آرٹیکل 149 کی تمام شقوں کی غلط، اپنے مطلب و منشاء اور مکروہ سیاسی مقاصد و عزائم کی تکمیل کے لئے تشریح کر کے ملک میں ایک اور آئینی بحران پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

جس طرح پاکستان کی عوام نے خان صاحب کو ملک پر حکومت کرنے کا مینڈیٹ دیا ہے اسی طرح سندھ کی عوام کی بھاری اکثریت نے پیپلز پارٹی کو سندھ میں حکومت کا مینڈیٹ دیا ہے اور فروغ نسیم جیسے سازشی شرپسند پیپلز پارٹی کے عوامی مینڈیٹ پہ غیرآئینی ڈاکہ ڈالنے کی شیطانی پلاننگ میں مصروف ہیں۔

جب سے کراچی میں ایم کیو ایم کے نمائندوں اور ان کے میئر کی اربوں روپے کی کرپشن کے قصے زبان زدِ عام ہوئے ہیں تو فروغ نسیم بھی پیپلز پارٹی کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں میں جُتے نظر آتے ہیں۔ کراچی کے مسائل کے حل کے لئے کمیٹی بنا کر مسائل کی حقیقی نشاندھی اور ان کے حل کی کوششیں یقیناً خوش آئند ہیں مگر صوبائی حکومت کو اس کمیٹی میں شامل نہ کرکے پہلے روز ہی بدنیتی ظاہر کر دی گئی۔ سندھ اور کراچی کی عوام مرکزی حکومت سے بہتری کی امید لگائے بیٹھی ہیں لیکن اس بہتری میں اگر سندھ کی عوام کے مینڈیٹ کی حامل جماعت کے نمائندے شامل نہ ہوں گے تو عوام بہتری پہ شکوک و شبہات کا اظہار کرنے میں حق بجانب ہوں گے۔ اوپر سے خان صاحب کے وزیر کراچی کے ایسے لوگوں کو ساتھ بٹھا کر کراچی کے مسائل حل کرنے کی بات کر رہے ہیں جن پر ان کے اپنے ہی ساتھی اربوں کھربوں کی کرپشن لوٹ مار کے الزامات لگا رہے ہیں۔

صوبائی حکومت کو اعتماد میں لئے بغیر ماورائے آئین اقدامات سے سندھ کی عوام میں شدید عدم تحفظ اور بے چینی پائی جاتی ہے کیونکہ سندھ کی عوام اپنے اکثر مسائل اور مشکلات کی ذمے دار ایم کیو ایم کو سمجھتی ہے۔ ایم کیو ایم ماضی میں بدترین دہشتگردی، لوٹ مار، چندوں بھتوں اور فطرانوں کی بزورِ اسلحہ وصولی، کراچی میں بوری بند لاشیں پھینکنے کی انسانیت سوز کارروائیوں میں ملوث رہی ہے۔ اس کے علاوہ وہ مختلف قوموں کے معصوم و بے گناہ شہریوں کے قتال میں بھی ملوث رہی ہے۔

 یہ سازش دراصل وزیراعظم عمران خان کی حکومت کو وقت سے پہلے چلتا کرنے کی حکمتِ عملی کی کڑی بھی ہو سکتی ہے کیونکہ سندھ کے عوام نے پیپلز پارٹی کو بھاری تعداد میں ووٹ سے منتخب کرکے صوبائی ایوانِ اقتدار تک پہنچایا ہے تو وہ اس کی حفاظت کے لئے کوئی بھی انتہائی اقدام اٹھا سکتے ہیں۔ سندھی عوام فروغ نسیم جیسے کسی بھی شیطانی ذہنیت کے حامل طالع آزما کو اس بات کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ان کے مینڈیٹ پہ غیرآئینی ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کریں۔ وزیراعظم عمران خان کو بھی کسی بھی ماورائے آئین اقدام کی ترغیب دینے والے فروغ نسیم جیسے سازشیوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کی اپنی حکومت ان کے ہاتھوں سے نکل جائے جو محض چار پانچ ووٹوں کے سہارے پہ کھڑی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •