انسانی جسم: دلچسپ حقائق اور تشکیلی نقائص

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

۔ انسانی کھال کے ایک اسکوئر انچ میں 19 ملین سیلز ہوتے، 60 بال 90، تیل کے غدود، 19 فٹ خون کی رگیں، 265 پسینے کے غدود، 19000 سینسری سیلز ہوتے ہیں۔ انسانی کھال کا وزن چھ پاؤنڈ ہوتا ہے۔

() ۔ دماغ کا نرم و گدازمادہ حرکت نہیں کرتا اگر چہ یہ خون کی 25 فی صد آکسیجن کو استعمال کرتا، یہ بڑہتا، نہ گھٹتا اور نہ سکڑتا ہے۔

() ۔ انسانی عمل تولید قمری وقت کی پابند ی کرتا نہ کہ شمسی وقت کی۔ بچہ میں 266 دن پیٹ میں رہتا، یعنی 9 قمر ی مہینے، اور ماہواری بھی ایک قمری مہینہ میں ہوتی ہے۔

() ۔ آنکھ کی پتلیوں سے انسان کے جذبات کا پتہ لگا یا جا سکتا، بشرطیکہ دوسرا شخص ا ن کو دیکھ سکتا ہو۔ اسی لئے سیکرٹ ایجنٹس سیاہ دبیز چشمے پہنتے ہیں۔

اگر ہم کسی چیز کو پسند کرتے تو پتلیاں پھیل جاتیں، اس لیے سودے بازی کر تے وقت چشمہ لگا لیں۔

() ۔ نرو سگنلNerve signal اعصابی دھاگوں Nerve fibers میں 200 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہیں۔

() ۔ تین پا ؤنڈ کا انسانی دماغ پوری کائنات میں سب سے زیادہ پیچیدہ اور منظم مادہ ہے۔ دماغ کے روزانہ ایک ہزار خلئے ضائع ہوتے، مگر یادداشت برقرار رہتی ہے۔

() ۔ پاؤں گرم رکھنے کے لئے ٹوپی پہنیں، جسم کی اسی فی صد گرمی سر سے خارج ہوتی ہے۔

() ۔ ہم ایک گھنٹے میں 1200 مرتبہ سانس لیتے 600، گیلن ہوا جسم میں داخل کرتے۔

() ۔ ساٹھ سال کی عمر کے لوگوں کے 50 فی صد taste budsختم ہوجاتے اور 40 فی صد قوت شامعہ ختم ہوجاتی ہے۔

() ۔ انسانی جسم میں سب سے بڑا خلیہ نسوانی بیضہ یعنی انڈے کا خلیہ ہے۔ اس کا ڈایا میٹر 1 / 180 ”ہے۔ سب سے چھوٹا خلیہ مرد کا سپرم ہوتا۔ 175,000 نطفوں کا وزن ایک نسوانی بیضہ کے برابر ہوتا ہے۔

() ۔ انسانی آنکھ اس قدر حساس کہ اندھیری رات میں پہاڑ پر کھڑا شخص 50 میٹر دور جلتی ہوئی ماچس کو دیکھ سکتا ہے۔ اسٹروناٹ خلاء میں جہازوں کے بادبان دیکھ سکتے ہیں

آنکھ میں پردہ شبکیہ (ریٹینا) صرف وہ جسم کا حصہ ہے جہاں خون نہیں جاتا، یہ آکسیجن براہ راست ہوا سے لیتا ہے۔

() ۔ انسانی جسم میں 60 ٹریلین خلئے ہیں، اور ہر خلئے میں دس ہزار سے زائد مالیکیولز ہوتے۔ کسی کیمیائی عنصر میں سب سے چھوٹے ذرے کو مالی کیول کہا جاتا ہے۔

() ۔ دماغ ایک جھلی (ممبرین) سے گھرا ہؤا ہے جس میں شریانیں اور رگیں ہیں، ممبرین اعصاب سے بھری ہوتی، مگر دماغ میں کوئی فیلنگ نہیں ہوتی۔

() ۔ عورتوں میں پائے جانیوالی فیلوپین ٹیوب کا نام اطالوی ڈاکٹر Gabriel Fallopiusکے نام پر ہے جس نے ان کو بیان کیا مگر یہ نہ بتایا کہ ہیومین فرٹی لائزیشن میں ان کا فنکشن کیا ہے۔ اس کے تین سال بعد جب بیضے کے خلئے دریافت ہوئے تو اس کے فنکشن کا علم ہؤا تھا۔

() ۔ اگر جگر کا 80 % حصے کاٹ دیا جائے تو یہ باقی کے حصے پر فنکشن کر تا رہیگا اور چند مہینوں میں اپنے اصل سائز پر آجائے گا۔

() ۔ سطح سمندر پر ہمارے جسم کے ایک مربع فٹ پر 2000 پاؤنڈ ہوا کا پریشر ہوتا ہے۔

جسم کے ڈیزائن میں نقا ئص

1) ریڑھ کی نا قص ہڈی: ہمارے آباؤ اجداد جب چو پایوں کی طرح چلتے تھے توہماری ریڑھ کی ہڈی کمان کی صورت اختیارکرلیتی تھی تا کہ تمام اعضاء کا وزن اٹھا سکیں جو نیچے ہوتے تھے۔ پھرہم نے دو ٹانگوں پر چلنا پھرناشروع کر دیا تو تمام نظام 90 ڈگری گڑبڑ ہو گیا۔ ریڑھ کی ہڈی اب سیدھا ستون بن گئی۔ چلنے کے لئے اس کے نیچے کے حصے میں خم آگیا۔ جبکہ اوپر کی ہڈی اس کے مخالف سمت میں چلی گئی۔ اس تبدیلی سے ہماری کمر کے مہروں میں تبدیلی آگئی جس کی وجہ سے 80 % لوگ کمر درد کی شکایت کرتے ہیں۔

2) غیر لچکدار گھٹنا: ہمارا گھٹنا صرف دو سمتوں میں گھومتا ہے یعنی آگے اور پیچھے۔ اسی لئے ہر بڑی سپورٹ میں کھلاڑی کے گھٹنے کے سائیڈ پر مارنا غیر قانونی ہوتا ہے۔ گھٹنے میں بال اور ساکٹ ہو نا چاہیے جس طرح کہ یہ ہمارے کندھوں اور کولہوں میں ہوتے ہیں۔

3) دھڑ کا نچلا حصہ تنگ ہے :narrow pelvis۔ بچے کی پیدائش بڑی تکلیف دہ ہوتی ہے، عورتوں کے دھڑ کا نچلا حصہ پچھلے دو لاکھ سال سے تبدیل نہیں ہؤا۔ جبکہ ہمارے دماغ سائز میں قدر ے بڑے ہو گئے ہیں۔ دھڑ کو بڑا کرنے کی ضرورت نہیں، ایک ہزار سال بعد لیبارٹری میں نطفے اور بیضے کو ملا کربچے پیٹری ڈِش میں پیداہوں گے۔

4) ضرورت سے زیادہ دانت: منہ کے پیچھے اوپر اور نیچے کے جبڑے میں تین molarداڑھیں ہوتیں، دماغ جب سائز میں بڑا ہؤا تو جبڑا چھوٹا، چوڑا ہوگیاجس کی وجہ سے تیسری داڑ ہ کے لئے کافی جگہہ نہیں تھی۔ اب wisdom teethکے لئے جگہہ نہیں ہوتی اور یہ جبڑے میں ہی رہتا ہے۔ اس کا علاج تیسری داڑھ کو نکال دینا ہے۔

5) شریان کا پیچیدہ راستہ: ہمارے بازؤوں اور ٹانگوں کو خون شریان کے ذریعہ جاتا، جو عضو میں جسم کے سامنے سے داخل ہوتا۔ عضو کے عقب میں ٹیشو جیسے triceps and hamstringشریان ہڈی کے گرد چکر لگا کر گزرتی، جس میں اعصاب ہوتے۔ کہنی پر شریان ulnar nerveسے ملاپ کرتی۔ کہنی کے قریب ہمارے بازو کی ہڈیhumerous کوجب تیز چیزچبھتی تو ہمارا بازو بے حس ہوجاتا، اس کو فنی بون funny boneکہا جاتا۔ ہربازو اور ٹانگ کے پیچھے ایک اور شریان ہونی چاہیے۔

6) الٹاپردہ شبکیہ : ہمارے پردہ بصارت میں فوٹو ری سیپٹر سیلز ایسے ہی ہیں جیسے مائیکرو فون کا منھ الٹا لگا ہو۔ اس ڈیزائن کی وجہ سے روشنی کو خون اور ٹیشومیں سے ہو کر گزرنا پڑتا، نیز ہر خلئے میں سے گزرنا ہوتا۔ اس نا قص ڈیزائن سے پردہ بصارت ٹیشو سے الگ ہوسکتا جس سے بینائی جاتی رہتی۔ اس کی وجہ سے بلائنڈ سپاٹ بھی پیداہوتا۔ اس کا ڈیزائن octopus or the squidکی طرح ہو نا چاہیے۔

7) وائس باکس میں نقص: ہماری آواز کاباکس اور غذا کی نالی trachea (windpipe) and esophagus (food pipe) دونوں ایک ہی جگہ کھلتے ہیں۔ غذا کو ونڈ پائپ سے باہر رکھنے کے لئے، جونہی ہم غذا نگلتے ہیں ہمارے وائس باکس کے اوپر ایک درخت کے پتے کی صورت کا ڈھکنا چڑھ جاتا۔ کھانا کھانے کے دوران اگر آپ ہنسنا شروع کردیں یا گفتگو شروع کردیں تو غذا ہوا کی نالی میں چلی جاتی اور انسان chokeموت و حیات کا کھیل کھیلنے لگتا۔ وھیل مچھلی کا وائس بکس اس کے بلو ہولز میں ہوتا، اگر ہمارے وائس باکس کو ناک میں منتقل کردیا جائے تو دو خودمختار نالیاں بن سکتیں۔ مگر اس ڈیزائن سے ہم قوت گویائی سے محروم ہو جائیں گے۔

8) مردوں کے منکشف فوطے : زندگی دینے والے دوفوطے جسم سے باہر لٹکے ہوتے جو بعض صورتوں میں بہت تکلیف دہ ہوتے۔ اسی لئے کرکٹ کے کھلاڑی پیڈ رکھتے ہیں۔ بائیسکل چلانے والا ہر شخص جانتاہے کہ یہ کتنی مشکل میں ڈالتے ہیں۔ ان کے باہر لٹکے ہونے کی سائنسی توضیح یہ ہے کہ ان میں جنم لینے والے سپرم کا 3 ڈگری فارن ہائٹ جسم کے درجہ حرارت سے کم ہونا لازمی ہے۔ کم درجہ حرارت کی وجہ سے سپرم بے حرکت رہتے آں جائیکہ یہ اندام نہانی میں جا کر بیضے کو فرٹی لائز کرتے۔ بہتر ہوتا کہ سپرم جسم کے درجہ حرارت پر رہتا اور اندام نہانی کو زیادہ گرمی پہنچائی جاتی۔ نیا بلیو پرنٹ بنانے کی ضرورت نہیں، ہاتھی کو پروٹو ٹائپ کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔

( 9 ) پراسٹیٹ گلینڈProstate، ضعیف العمر لوگوں کے لئے یہ غدود بہت پریشانی کا باعث بنتی ہے جب پیشاب ٹھیک طریقے سے مکمل طور پر باہر نہیں آتا قطرے قطر ے بن کر آتا۔ یہ غدود ایک ایسا فلوئیڈ پیداکرتی جو مادہ منی میں جاتا اور سپرم کو مامون رکھتی ہے۔ بڑی عمر کے لوگوں میں غدود سائز میں بڑی ہوجاتی اور urethraیعنی پیشاب لے جانیوالی ٹیوب کو کمپریس کرتی ہے۔ اس نہایت غلط ڈئزائن کی وجہ سے پچاس سال سے اوپر کے لوگوں کو پیشاب کر نے میں پر یشانی اور تکلیف ہوتی جو بڑہتی جاتی ہے۔ اس کا علاج آپریشن سے اس کو نکال پھیکنا ہے۔ آپریشن کے بعد erectile dysfunctionکا مسئلہ پیدا ہوجاتا جس کے لئے سال سے دوسال کا عرصہ درکار ہوتا تا وقتیکہ سیکس سے لطف اندوز ہو سکے۔ مغربی ممالک میں پراسٹیٹ کینسر بھی عام ہوچکا ہے۔

( 10 ) اپنڈیکس Appendixعقل داڑھ کی طرح یہ عضو بھی شاید ملین سالوں سے ارتقاء کی باقیات میں سے ہے۔ اگر اس کو جسم سے نکال دیا جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مگر بعض بائیولوجسٹ کا کہنا ہے کہ جنین کی پرورش کے دوران یہ عضو ہمارے امیون سسٹم کو تیار کرتا ہے۔ جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ عضو اس بیکٹیریا کاعافیت کا گھرونہ ہے جو غذا کے ہضم کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔ ( بہ شکریہ طلسم انسانی جسم تصنیف ذکریاورک، بنارس ہندوستان 2018 )

یہ مضمون انٹر نیٹ کے ماخذ  کی مدد سے تیار کیا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •