محبت میں ناکامی کا صدمہ شادیاں متاثر کرتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم نے پچھلے تین حصوں میں دیکھا کہ کس طرح ہر رشتہ چاہے وہ والدین کا ہو یا اولاد کا یا بہن بھائیوں کا باہمی انحصار کی بنیاد پہ ہی پنپ سکتا ہے۔ جہاں باقی ہر رشتے میں باہمی انحصار اہم ہے وہاں ایک رشتے میں یہ شاید باقی تمام رشتوں سے زیادہ اہم ہے اور معاشرے کے تمام رشتوں کے تانے بانے آکر یہیں جڑتے ہیں وہ ہے شوہر اور بیوی کے آپس کا رشتہ اگر یہ رشتہ اپنی تمام نزاکت اور اہمیت کو سمجھتے ہوئے نبھایا جائے تو باقی تمام رشتے نبھانا آسان ہوجاتا ہے۔ ہماری اب تک کی بات میں یہ رشتہ پہلا ہے جو قدرتی نہیں ہے یعنی اسے صرف نبھانا نہیں ہوتا بلکہ درست فریق کا چناؤ اس کا پہلا اور اہم عنصر ہے۔

انسانی معاشرہ ناصرف پیچیدہ ہے بلکہ مزید پیچیدہ ہوتا جارہا ہے۔ ہم بہت سے روئیے اپنے اردگرد سے سیکھتے ہیں جو قدرتی نہیں۔ ان میں سے کچھ رویئے ہمیں باقی جانداروں کی نسبت بہتر زندگی گزارنے میں مدد دیتے ہیں لیکن وہیں پہ ہمارے کچھ سیکھے ہوئے روئیے ہماری قدرتی جبلت کو نقصان بھی پہنچا رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک رویہ، قدرتی کشش کو نظر انداز کرکے شریکِ حیات چننے کا ہے۔ انسانی معاشرہ ایک لمبے عرصے سے قدرتی کشش کی بجائے دوسرے عوامل کی بنیاد پہ شریکِ حیات چننے کی روایت اپنائے ہوئے ہے۔ ہندوستان اور پاکستان جیسے ممالک میں یہ ذمہ داری بنیادی طور پہ والدین نبھاتے ہیں جب کہ دوسرے ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں بھی یہ چناؤ قدرتی سے زیادہ معاشرتی بنیادوں پہ کیا جاتا ہے۔

سب سے پہلے ہم یہ دیکھ لیتے ہیں کہ قدرتی کشش کی بنیاد پہ چناؤ کیوں اہم ہے اس کے بعد ہم ان معاشرتی پہلوؤں پہ بات کریں گے کہ کن پہ توجہ دینا اہم ہے اور کن پہ بالکل غیر اہم۔ یہ بات یقینی ہے کہ انسانی معاشرہ سو فیصد قدرتی کشش کی بنیاد پہ چناؤ کے طریقے کو نہیں اپنا سکتا لیکن اسے بالکل نظر انداز کرنا اس سے کہیں زیادہ نقصان دہ ہے جتنا ہم سمجھتے ہیں۔ قدرتی کشش میں صنفِ مخالف کی جسمانی ساخت، رنگت اور خوشبو کسی فرد کو اس کی جانب ملتفت کرتی ہے یہ اس کے لیے سگنل ہوتا ہے کہ یہ جینز صحت مند نسل دنیا میں لانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

لیکن رکیے یہ ابھی صرف جنسی کشش ہے محبت نہیں یہ جنسی کشش ایک وقت میں کئی لوگوں کے لیے محسوس ہوسکتی ہے۔ کیوں کہ ظاہر سی بات ہے قدرت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ ہر جاندار جس حد تک ممکن ہوسکے آسانی سے اپنی صحت مند نسل آگے بڑھا سکے۔ سوچیے رومانوی کہانیوں کی طرح اگر واقعی ایک دوجے کے لیے بنائے جانے والا حساب کتاب ہوتا تو اربوں لوگوں کے درمیان زندگی میں اس فرد سے ایک بار بھی مل سکنے کا چانس 1 فیصد سے بھی کم ہوتا۔ اور یہ کسی بھی جاندار کے لیے بقاء کی بہت مشکل صورت حال ہے۔

یہاں ایک نکتہ یاد رکھنا ضروری ہے۔ یہ قدرتی کشش ان افراد کے درمیان کم ہوتی ہے جو کہ آباؤ اجداد کی طرف سے جینز شئیر کرتے ہوں۔ یعنی سگے محرم رشتے ماں باپ، بہن بھائی، چچا ماموں وغیرہ، فرسٹ کزنز، سیکنڈ کزنز اور جیسے جیسے رشتہ دور کا ہوتا جاتا ہے قدرتی کشش کے امکان بڑھتے جاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ جینیاتی بیماریوں سے ممکنہ حد تک بچنے کی ضرورت ہے۔ بد قسمتی سے ہندوستان اور پاکستان اور ہمارے جیسے کئی ترقی پذیر ممالک خاندان میں شادیاں کرنے کی وجہ سے جینیاتی بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔ ہمارے دیہی علاقوں میں اپنی ذات برادری سے باہر شادی بہت برا فعل سمجھی جاتی ہے لیکن اس کی وجہ سے ہمارے دیہی علاقوں میں ناقابلِ علاج جینیاتی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں اور ان میں ایک اہم بیماری ذہنی معذوری ہے۔

قدرتی کشش کا یہ احساس ہمیں اس سے اگلے قدم پہ لے جاتا ہے یعنی جس سے کشش محسوس ہو اس سے رابطہ اور اگر ممکن ہو تو مزید بات چیت۔ یہ رابطہ بتدریج تعلق کو محبت میں بدلتا ہے یعنی دو فرد ایک دوسرے کو جاننا شروع کرتے ہیں جذباتی لگاؤ بڑھتا ہے اور پھر دونوں کو احساس ہوتا ہے کہ وہ ایک ساتھ پوری زندگی یا ممکنہ حد تک میسر وقت ساتھ گزار سکتے ہیں۔

اس جذباتی لگاؤ میں قدرتی کشش، ایک دوسرے سے بات کرکے خوشی محسوس کرنا کے علاوہ بھی کئی عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ وہ افراد جو بچپن سے جذباتی محرومی کا شکار رہے ہوں وہ بہت جلد جذباتی طور پہ تعلق بنالیتے ہیں اور دوسرے فریق پہ شدید جذباتی انحصار کرنے لگتے ہیں۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ یہ یک طرفہ پسندیدگی ہو اور پھر بھی جذباتی انحصار شدید ہو۔ ہمارے جیسے معاشروں میں جہاں رومانوی تعلقات کی گنجائش بہت کم ہے یک طرفہ جذبات کے تجربے بہت زیادہ ہیں اور ہر تیسرا فرد لڑکپن میں یعنی بلوغت میں داخل ہونے سے لے کر باقاعدہ کسی شرعی یا قانونی رشتے میں بندھنے تک کئی بار جذباتی صدموں سے گزر چکا ہوتا ہے۔

ایسے میں جہاں ایک طرف وہ ایک معیاری رشتے کا شدت سے متقاضی ہے وہیں وہ رومانوی تعلق سے متعلق فوبیا (غیر حقیقی ڈر) کا شکار بھی ہوچکا ہے جس کی وجہ ناصرف اس کا بلکہ اس کے اردگرد ایک بڑی تعداد کے اس سے متعلق تکلیف دہ تجربات ہیں۔ یک طرفہ جذبات سے لے کر عارضی جذباتی و جسمانی تعلقات تک ہر نیا بن کے ٹوٹنے والا تعلق نئے تعلق بنانے کی صلاحیت پہ منفی اثر بھی ڈالتا ہے۔ دوسرے فریق سے توقعات غیر یقینی حد تک بڑھ جاتی ہیں اور اپنی طرف سے تعلق نبھانے کی خواہش اور کوشش کم سے کم ہوتی چلی جاتی ہے۔

یعنی جس وقت ہمارے جیسے معاشرے میں لوگ شادی کے تعلق میں بندھتے ہیں تب تک عموماً دونوں کی رشتہ نبھانے کی سکت اور خواہش سب سے کم لیول پہ ہوتی ہے۔ یقیناً یہ ہمیشہ نہیں ہوتا لیکن ایک بڑی تعداد ان جذبات سے گزر رہی ہوتی ہے۔

اس سے متعلق مزید تفصیل پہ ہم اگلے مضمون میں بات کریں گے یعنی شادی کے بعد کون کون سے مسائل سامنے آتے ہیں اور ان سے کس طرح نپٹا جاسکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابصار فاطمہ

ابصار فاطمہ پیشے کے اعتبار سے ماہر نفسیات ہیں۔ ان کا تعلق سندھ کے شہر سکھر سے ہے۔ نفسیاتی اور معاشرتی مسائل پہ آرٹیکلز اور کہانیاں لکھتی ہیں۔ ”ینگ ویمن رائٹرز فورم اسلام آباد چیپٹر“ کی کمیٹی اورگنائزر ہیں۔ سوشل میڈیا پہ سائنس کی اردو میں ترویج کے سب سے بڑے پلیٹ فارم ”سائنس کی دنیا“ سےبھی منسلک ہیں۔

absar-fatima has 45 posts and counting.See all posts by absar-fatima