کرپشن کا مثبت پہلو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرپشن ایک ایسا رویہ یا طرز عمل ہے جس کا اظہار ہمیں قدیم انسانی معاشروں میں بھی ملتا ہے۔ جس طرح اس کی مختلف قسمیں ہیں اسی طرح اس کی تعریف بھی مختلف سکالرز نے مختلف کی ہے۔ مثلا کارل فریڈرچ ( Carl Fredrich ) اس کو بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ”جو بھی عوام کے مال سے ذاتی فائدہ اٹھائے اسے کرپشن کہا جائے گا۔“ جب کے وان کلیورن ( Van kklvaren ) اسے ”عوام کا استحصال“ کہتا ہے۔ لیکن عالمی طور پر کرپشن کی تعریف جس پر سب متفق ہیں اس کے مطابق ”پبلک آفس ہولڈر کا ذاتی مفاد کے لیے اختیار کا غیر قانونی استعمال۔“

کل میری لمز یونیورسٹی سے اکنامکس میں پوسٹ گریجویٹ کرنے والے ایک نوجوان سے بات ہو رہی تھی۔ اس نے ایک عجیب بات کی کہ کرپشن یا بدعنوانی کا مثبت پہلو بھی ہے۔ یہ سنتے ہی مجھے جھٹکا سا لگا اور یقیناً آپ بھی حیران ہوئے ہوں گے۔ لیکن بعد میں جو اس نے کہا اس میں وزن تھا۔ کہنے لگا کہ ”ہمارے معاشرے میں جہاں پبلک آفس ہولڈر ( چاہے وہ وزیر ہو یا بیوروکریسی) اگر نکما اور کرپٹ ہو تو جائز کام کروانے کے لئے اگر پیسے دیے جائیں تو وہ کام جلد ہو جاتاہے۔ اس طرح وقت اور ذہنی اذیت سے بندہ بچ جاتا ہے۔“ اس پر مجھے محکمہ زراعت بلوچستان میں ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر انجینئرنگ کی آسامی پر وزیر خان کا کیسں یاد آگیا۔

وزیر خان کی کہانی کچھ یوں ہے کہ انہوں نے آج سے تقریبا 30، 35 سال قبل محکمہ زراعت میں بحیثیت انجینئر سروس شروع کی۔ سروس میں ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ اسے ترقی ملے اور جب وہ ریٹائرمنٹ کے قریب ہو تو اپنے کیڈر کی معراج پر ہو۔ بعض افسروں کی یہ خواہش پوری ہوجاتی ہے اور بعض باوجود تمام شرائط پورے ہونے کے یہ حسرت دل میں لئے اس جہاں فانی سے کوچ کر جاتے ہیں۔

بلوچستان میں آپ کو اس قسم کی کہانیاں اکثر ملیں گی۔ جہاں جونئر شخص کو سینئر پر فوقیت دی گئی اور سینئر شخص اس صدمے کو نا سہار سکا اور اللہ کو پیارا ہو گیا۔ انہی باتوں کو دیکھ آخرت پر یقین کامل ہو جاتا ہے کہ اسے اس جہاں میں تو انصاف نہیں ملا لیکن آخرت میں ضرور ملے گا۔ 6 مارچ کو ڈائریکٹر جنرل انجینئرنگ محکمہ زراعت ریٹائر ہوتا ہے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ریٹائرمنٹ سے پہلے جو سنیر ترین افیسر اورجس کا بھی حق تھا اس کی پروموشن ہو جاتی اور ریٹائرمنٹ والے دن نیا افسر آفس سنبھال لیتا۔

لیکن چونکہ پولیٹیکل باس کی منشا کچھ اور تھی لہذا نئے افسر کی ترقی کا عمل شروع نہ ہوسکا بلکہ اس میں بھی رکاوٹیں ڈالی گئی اور ہر حربہ استعمال کیا گیا کہ پرموشن بورڈ سے ان کا جائز حق نہ مل سکے۔ یوں ذاتی فائدے کے لئے ایک جونئر افسر کو چارج دے دیا گیا۔ وزیر خان نے اپنی جائز حق کے دادرسی کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور گزشتہ چھ مہینے سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ان کو اپنا جائز حق عدالت سے بھی نہیں مل سکا اور تاحال توہین عدالت کی درخواست عدالت عالیہ میں زیر سماعت ہے جبکہ وزیر خان کی خوش قسمتی یہ ہے کہ وکیل مفت ہونے کی وجہ ان کا اپنا بھائی ہے سپریم جوڈیشل کونسل کا ممبر بھی ہے اور جوڈیشری میں اچھا رسوخ بھی ہے۔

لیکن آج چھ ماہ گزرنے کے باوجود اپنے سگے بھائی کو حق نہیں دلا سکا ہے۔ ابھی وزیر خان کی ریٹائرمنٹ میں مارچ کے مہینے ڈیڑھ سال بقایا تھا جس میں سے چھ ماہ گزر چکے ہیں۔ مزید اسے کتنا انتظار کرنا پڑے گا اور آیا اسے ریٹائرمنٹ سے قبل اپنا جائز حق ملے گا یا نہیں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ اور اگر آج اسے حق مل بھی جائے تو اس کے گزرے ہوئے دنوں اور ذہنی اذیت کا کون حساب دے گا؟ آیا کوئی پوچھ گچھ ہوگی کسی کو ذمے دار ٹھہرایا جائے گا؟

یہ سوال تشنہ ہی رہیں گے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ تمام باتیں ہمارے ایماندار میرٹ کے دعویدار اور ایمانداری کے گن گانے والے وزیراعلی کے علم میں بھی ہیں۔ لیکن باوجود نئے متعارف کرائے گئے فائل ٹریکینگ سسٹم کے وزیر خان کی فائل ناجانے کہاں کھو گئی۔ واقفان حال کہتے ہیں کہ وزیر خان اگر اپنے آپ کو میرٹ پر یا حقدار سمجھنے کی بجائے پولیٹیکل باس سے ڈیل کرلیتا تو شاید آج چھ ماہ قبل ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر انجینئرنگ ہوتا۔ اب مجھے بھی لمز سے پوسٹ گریجویٹ کرنے والے نوجوان کی بات سمجھ آگئی امید ہے آپ بھی سمجھ گئے ہوں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •