اچھا ہوا کہ بھارت چاند پر نہیں پہنچ سکا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حقیقت یہی ہے ہمسایے کی گاڑی دیکھ کر اس کی قیمت پوچھ کر سڑیل ہو کر اور تو کچھ نہیں کرسکتے مگر مشورے ضرور دیتے ہیں کہ اس سے اچھا ماڈل ٹویوٹا کا ہے سوزوکی کا ہے، اس کی مارکیٹ نہیں ہے، ری سیل نہیں ہے، لانگ ڈرائیو کے لیے اچھی نہیں ہے مائلیج ٹھیک نہیں گاڑی چھوڑیں ایک شوز بھی لی آئیں تو بھی بتائیں گے اس سے اچھا سروس کا ہے، بورجن کا ہے وغیرہ وغیرہ۔

فقیر نے گاڑی تو لی نہیں لیکن کم از کم جوتے کپڑوں وغیرہ میں یہ ڈنڈی مارتا ہوں پوچھنے والے کو یا قیمت آدھی کم یا آدھی زیادہ بتا دیتا ہوں تاکہ اگر پسند بھی آئے تو رُلتا رہے ان حالات میں بھی ان کا مشورہ ضرور ہوتا ہے۔ گاؤں میں ایک سٹور پر بیٹھے پڑھے لکھے کسی جاننے والے سے پوچھا کاروبار کا سنائیں کیسا چل رہا ہے؟ بتایا حالات ٹھیک نہیں بس گھر کا گزارا ہورہا ہے، چس کوئی نہیں رہی کاروبار کی۔

اس نے پوچھا کہ سائیں آج کل تُساں کدھر جاب کر رہے ہو، بتایا کسی پرائیویٹ تحقیقاتی ادارے کے میڈیا ڈیپارٹمنٹ میں، اگلا سوال تنخواہ کا ہوتا ہے بتلایا اتنی۔ جواباً کہتے ہیں کہ ”تنخواہ تو اچھی ہے لیکن جاب ہے تو پرائیویٹ، فائدہ تے کوئی نہیں“

کہا اجازت دیجیے بندہ چلتا ہے۔

بات ہو رہی تھی انڈین مشن منگل کی، خیر ہے ناکام ہوئے تجربہ تو کیا، جو حوصلہ وہاں کے وزیراعظم سے انہیں ملا ہے کم از کم اور نہیں تو سائنس و تحقیق کے طالب علموں کے لیے یہ کسی حوصلہ افزائی ملے گی۔

غربت اور انسانی حقوق کا مسئلہ سرحد کے دونوں پار ہے اس کے لیے دونوں ملکوں کو سوچنا ہوگا آج نہیں تو کل، ہندوستان اگر اس تکبر کی وجہ سے بھی امن و شانتی کی طرف راغب نہ ہوا تو پھر اسے بھی مزید نقصان اٹھانے ہوں گے۔ انڈیا کو کشمیریوں پر درندگی بند کرنی ہوگی، اگر تعلیم و سائنس عام کرنی ہے۔ بہتر معیشت کے بغیر سائنسی تحقیقی مراحل بہتر نہیں ہوسکتے۔

دونوں ممالک ایٹمی ہتھیاروں پر تو اربوں خرچ کرچکے جس کا انسانیت کو تو فائدہ نہیں اگر یہی پیسے علم سائنس پر خرچ کرتے تو کتنا اچھا ہوگا۔

بھارت کی اسپیس ریسرج کے ہیڈ کے سون ایک غریب کسان کے گھر پیدا ہوئے اور ان کو بی ایس سی کرنے تک پاؤں میں چپلیں بھی میسر نہیں تھی۔ ان کے والد کا کہنا تھا کہ میں تمہیں تین وقت کا کھانا کھلاؤں گا باقی سب تم نے خود کرنا ہے۔ لوکل تامل زبان میں پڑھائی کر کے مدراس یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی سے ماسٹر اور پھر ممبئی سے راکٹ سائنس میں ڈاکٹریٹ کرنے والے کے سون کے کریڈٹ پر 104 سٹیلائٹ فضا میں بھیجنے کا انٹرنیشنل ریکارڈ ہے اور آج کی ناکامی پر پورے بھارت کے حکومتی اور اپوزیشن نے ان کو حوصلہ ہی دیا ہے۔ بلکہ مودی نے پانچ منٹ تک گلے لگا کر صرف یہ کہا کہ سائنس تو ہے ہی تجربات کا نام۔

آپ کو جان کر حیرانی ہوگی کہ اتنے بڑے ادارے کے چیف کی تنخواہ ماہانہ ایک لاکھ روپے ہے جب کہ پاکستان میں صرف ایک ڈاکٹر جس کا تعلق ادارہ قومی امراض قلب کراچی سے ہے اس کی تنخواہ ایک کروڑ سے زاید ہے۔ یعنی جن لوگوں کو بھارت کے اس مشن پر تکلیف ہو رہی ہے وہ سوچیں کہ آپ کے ملک کی معیشت کو آپ کے سول بیوروکریسی کے لوگ دیمک کی طرح کھا رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں پڑھا لکھا صرف ہارورڈ، ایم آئی ٹی یا آکسفورڈ والا ہی کہلاتا ہے، عمومی سوچ یہی ہے کہا اچھا ہوا بھارت اس مشن منگل پر کامیاب نہیں ہوسکا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •