بڑودہ میں سیلاب، ریلوے کی تعمیر نو اور بھگت کبیر کا جزیرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے دادا جان ( 1892۔ 1963 ) ایک سیلانی آدمی تھے۔ غلام محمد نام تھا لیکن بابو غلام محمد مظفر پوری کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کا چپہ چپہ دیکھ رکھا تھا۔ اس کے علاوہ بسلسلہ ملازمت برما، ایران، عراق اور مشرقی افریقا کے ممالک (کینیا، یوگنڈا اور تنزانیہ) میں ان کا قیام رہا تھا۔ افریقا میں قیام کے دوران ہی ( 1938۔ 46 ) انہوں نے اپنی سوانح لکھنا شروع کی تھی جس کا نام ”سفری زندگی“ رکھا تھا۔ ”سفری زندگی“ کے کچھ اقتباسات ”ہم سب“ میں شائع ہو چکے ہیں ۔

٭٭٭ ٭٭٭

میں جون 1927 ءمیں تین ماہ کی رخصت پر ایران سے گھر (انڈیا) آ گیا اور آتے ہی ملازمت سے استعفا دے دیا۔ مجھے بی بی اینڈ سی آئی ریلوے میں بطور سپروائزر کے ملازمت مل گئی۔ یکم جولائی کو بی بی اینڈ سی آئی ریلوے میں کام پر لگ گیا۔ مجھے پہلے پہل بڑودہ یارڈ سروے پر لگایا گیا۔ ابھی چند ہی روز گزرے تھے اور فی الحال میں ٹھیکیدار محمد احمد کے پاس ہی رہتا تھا۔ ایک روز صبح کام پر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ بارش شروع ہو گئی۔

بارش اس قدر زور شور سے برسنے لگی کہ سڑک پر دیکھتے ہی دیکھتے دو سے تین فٹ پانی چلنے لگا۔ جس مکان میں ہم رہتے تھے وہ ریلوے کے جنگلے سے قریباً ساٹھ فٹ کے فاصلے پر تھا اور دو منزلہ تھا۔ آہستہ آہستہ ہماری نچلی منزل میں ہمارے کمرے میں پانی داخل ہونا شروع ہو گیا۔ ہم نے اپنا سامان اٹھا کر چارپائیوں پر رکھ دیا لیکن کچھ عرصہ بعد چارپائیاں بھی پانی میں تیرنے لگ گئیں ۔ پھر ہم نے سامان اوپرجانے والی سیڑھیوں پر رکھ دیا۔

لیکن بارش لگا تار موسلادھار برس رہی تھی اور پانی دم بدم بڑھتا چلا جا رہا تھا۔ آخر کار ہم مع سب ضروری سامان کے اوپرکی منزل پر چلے گئے جس پر ایک پارسی صاحب رہتے تھے۔ شام کے قریباً پانچ، چھ بجے پانی اس قدر طغیانی پر آ گیا کہ مکان کی نیچے کی منزل تمام کی تمام زیر آب آ گئی۔ تب ہم لوگوں کو اپنی جانوں کی فکر ہونے لگی۔

اس اثنا میں مسٹر عبد الحکیم اوورسئیر جو کہ ریلوے کے برج ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتے تھے اور ریلوے یارڈ کے اندر رہتے تھے، ہمارے مکان کے سامنے کھڑے ہو کر ہم سے پوچھنے لگے کہ ہمیں کسی مدد کی تو ضرورت نہیں ۔ اس پر ہم لوگوں نے اس سے عرض کی کہ یہی وقت تو امداد کا اور ہماری جانیں بچانے کا ہے۔ وہ بے چارہ، خدا اس کو اجر دے، اپنے سٹور سے لمبے رسے لایا۔ ایک سرا رسے کا ریلوے کے جنگلے سے باندھ دیا گیا اور دوسرا ہم لوگ نے مکان کی کھڑکیوں کی سلاخوں کے ساتھ باندھا۔

رسے کو مچھلی پکڑنے والی ڈور سے ہمارے پاس پہنچایا گیا۔ اب جب رسے آرپار باندھ دیے گئے تب پھر مکان سے باہر ریلوے یارڈ میں نکلنے کا بندوبست کرنے لگے۔ لیکن کسی کا حوصلہ نہیں پڑتا تھا کیونکہ پانی اس قدر تیز تھاکہ دیکھ کر حواس گم ہو رہے تھے۔ آخر کار جناب ٹھیکیدار کے ایجنٹ مسٹر محمد جبار نے حوصلہ کیا، کپڑے وغیرہ اتار کر صرف ایک شرٹ اور دھوتی کس کر رسوں کے ذریعے ریلوے یارڈ میں صحیح سلامت پہنچ گیا۔ اس کے بعد ٹھیکیدار صاحب تشریف لے گئے۔

 اب میں اور میرا پھوپھی زاد، عبد الحکیم، رہ گئے لیکن ہمارے حوصلے بالکل پست ہو رہے تھے۔ آخر کار عبد الحکیم بھی چلا گیا۔ اب سب کے بعد میری باری آئی۔ لیکن میں نے اپنے ساتھ رسہ پکڑ کر آنے کو اپنے خلاصی پٹھان نوکر کو واپس بلایا۔ رسے نصف فاصلے پر ایک نیم کے درخت کے ساتھ بھی باندھے گئے تھے۔ پس وہ پٹھان وفادار میرے ساتھ آیا۔ وجہ یہ تھی کہ میں تیرنا نہیں جانتا تھا۔ میں نے ایک دو غوطے بھی کھائے لیکن اس میرے نوکر نے بازو سے پکڑ کر آہستہ آہستہ باہر نکال لیا۔ جب ہم لوگ، چاروں اشخاص، ریلوے یارڈ میں جمع ہو گئے تو خداوند کریم کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا۔ اس کے بعد ہم نے اس پارسی کو بہت کہا کہ آپ بھی آ جاؤ ¿ لیکن اس نے حوصلہ نہ کیا اور اپنے اسی کمرے میں ڈٹا رہا۔

پس ہم لوگ وہاں سے چل کر ریلوے سٹیشن، جو کہ وہاں سے ایک فرلانگ کے فاصلے پر تھا، آ گئے اورویٹنگ روم میں بیٹھ گئے۔ ہم لوگوں کے کپڑے پانی میں بھیگے ہوئے تھے۔ سٹیشن پر دوسرے لوگوں کا بھی بہت ہجوم تھا۔ بارش بدستور ہو رہی تھی۔ اسی اثنا میں سنا گیا کہ بڑودہ سٹیٹ کا reservoir بند ٹوٹ گیا جس سے تمام شہر بڑودہ کا سپلائی کا پانی بند ہو گیا۔ ہمارا دیگر سامان اس مکان کی اوپر والی منزل پر پارسی کے کمرے میں پڑا تھا۔ لہٰذا ایک ایک گھنٹہ بعد جا کر مکان کو دیکھ آتے کیونکہ اردگرد کے مکانوں کے گرنے کی آوازیں آ رہی تھیں ۔ انسانوں اور حیوانوں کی مردہ لاشیں پانی پر بہتی ہوئی دیکھی جا رہی تھیں لیکن کسی کو حوصلہ نہیں پڑتا تھا کہ پانی میں جا کر کسی کو بچا سکے۔

اگلے روز بھی بارش لگاتار ہوتی رہی۔ کئی آدمی سٹیشن کے سامنے درختوں پر بیٹھے مدد کو پکار رہے تھے لیکن کوئی دوسرے کی پروا نہیں کرتا تھا بلکہ نفسا نفسی پڑی ہوئی تھی۔ سٹیشن کے سامنے جو دکانیں اور ہوٹل تھے وہ سب کے سب زیر آب تھے۔ مکانوں کی چھتوں پر لوگ بیٹھے تھے۔ اگلا روز بھی اسی طرح گزر گیا۔ تیسرے روز بارش تھوڑی بند ہوئی تب کچھ آدمی جو کہ درختوں پر بیٹھے اور ابھی زندہ تھے اتار کر نیچے لائے گئے۔ اس کارثواب میں زیادہ ترحصہ میرے ا س پٹھان نوکر کا تھا جو کہ بڑا بہادر اور نیک تھا۔

بمبئی کی طرف ریلوے لائن بالکل بند ہو چکی تھی۔ ایک ریلوے پل جو کہ سٹیشن سے سو گز کے فاصلے پر تھا وہ بالکل بنیادوں سے نکل گیا تھا۔ اب سٹیشن پر بھی دو سے ڈھائی فٹ تک پانی بہہ رہا تھا۔ کھانے پینے کا سامان جو کچھ سٹیشن پر تھا ختم ہو چکا تھا۔ وہاں پر مسافر خانہ میں دو تین دکانیں پھل اور مٹھائی کی تھیں ، وہ اب خالی ہو چکی تھیں ۔ خدا کا شکر ہوا کہ گودھرا سٹیشن کی طرف سے ریلوے لائن قائم تھی جس کے ذریعے گودھرا، آنند اور احمد آباد کے لوگوں نے بڑودہ سٹیشن پر کھانے پینے کی چیزیں ارسال کر دیں جو کہ سٹیشن ماسٹر صاحب نے سب مصیبت زدہ لوگوں میں تقسیم کر دیں ۔ اس طرح برابر چار دن تک ان متذکرہ شہروں سے راشن وغیرہ آتا رہا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •