میں نے سنہ 65 کی پاک بھارت جنگ تہاڑ جیل، دہلی سے دیکھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گو 54 سال گزر گئے لیکن وہ دن اب بھی ایسے یاد ہیں جیسے کل کی بات ہو کہ کس تیزی سے ہندوستان اور پاکستان، یکے بعد دیگرے واقعات اور ان سے جڑے اثرات کے نتیجہ میں، سنگین مضمرات اور نتائج سے بے خبر، زمین سخت آسمان دور کے مصداق بھر پور جنگ کی مہلک دلدل میں دھنستے جارہے تھے۔ میں اس زمانہ میں سرحد کےاس پار دلی میں جنگ گروپ کے اخبارات کے نامہ نگار کی حیثیت سے تعینات تھا۔

اگست سن پینسٹھ کے پہلے ہفتہ سے جنگ کے بادل اسی وقت سے چھانے شروع ہو گئے تھے جب ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں آپریشن جبرالٹر کے نام سے چھاپہ مار کارروائی اپنے عروج پر تھی۔ حکومت پاکستان کا اصرار تھا کہ یہ کشمیری ’حریت پسندوں‘ کی کارروائی ہے لیکن ہندوستان کی حکومت کا کہنا تھا کہ یہ چھاپہ مار پاکستان کے فوجی ہیں جو جنگ بندی لائین پار کر کے آرہے ہیں۔

اگست کے دوسرے ہفتہ میں دلی میں یہ کہا جا رہا تھا کہ اب آپریشن جبرالٹر کا دوسرا مرحلہ آپریشن مالٹا کے نام سے شروع ہوا ہے جس کے تحت بڑے پیمانہ پر پاکستان کی فوج نے مداخلت شروع کی ہے۔

سولہ اگست کو دائیں بازو کی ہندو قوم پرست جماعت جن سنگھ نے جس کے بطن سے موجودہ بھارتیا جنتا پارٹی نے جنم لیا ہے، دلی میں عام ہڑتال کا اہتمام کیا تھا اور ایک لاکھ سے زیادہ مظاہرین نے جو ملک کے مختلف علاقوں سے آئے تھے بقول ان کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری کی بودی پالیسی کے خلاف پارلیمنٹ تک جلوس نکالاتھا۔ ان مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ کشمیر میں مبینہ دراندازوں کے حملے روکنے کے لیے پاکستان پر حملہ کیا جائے۔

بلاشبہ لال بہادر شاستری کو اس وقت چو مکھی دباؤ کا سامنا تھا۔ ایک طرف ان پر سیاسی مخالفین کا دباؤ تھا دوسری طرف فوج ان پر شکنجہ کس رہی تھی۔

میں دلی میں پارلیمنٹ سے پتھر کی مار کے فاصلے پر رائے سینا ہوسٹل میں رہتا تھا۔ اس ہوسٹل میں زیادہ تر صحافی، آل انڈیا ریڈیو کے براڈکاسٹر اور اعلی سرکاری افسر رہتے تھے۔ اسی ہوسٹل سے ملحق پریس کلب تھا۔

یہ بیس اگست کی بات ہے مشہور بین الاقوامی انقلابی ایم این راؤ کی تحریک کے ترجمان جریدہ ’تھاٹ‘ کے نایب مدیر این مکرجی جو غالبا کافی دیر سے پریس کلب میں بیٹھے تھے میرے کمرے میں آئے۔ وہ چہرے سے سخت الجھن میں گرفتار اور باتوں سے پریشانی کا شکار نطر آرہے تھے۔

میں نے پوچھا خیریت تو ہے ؟ کہنے لگے حالات نہایت خطرناک صورت اختیار کرتے جا رہے ہیں اور اس بات کا سخت خطرہ ہے کہ فوج اقتدار پر قبضہ کر لے۔ پھر خود ہی انہوں نے بتایا کہ انہیں بے حد باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ صبح کابینہ کے اجلاس میں ہندوستا ن کی بری فوج کے سربراہ جنرل جے این چودھری نے شرکت کی تھی اور خبر دار کیا تھا کہ رن آف کچھ کے معرکہ میں شکست کے بعد ہندوستانی فوج کے حوصلے بہت پست ہیں اور فوج کے حوصلے بڑھانے کے لیے پاکستان کے خلاف بھر پور فوجی کارروائی لازمی ہے۔ مکر جی صاحب کا کہنا تھا کہ جنرل چودھری نے صاف صاف الٹی میٹم دیا ہے کہ اگر پاکستان کے خلاف فوری کارروائی نہ کی گئی تو ملک کی سیاسی قیادت کے لیے اس کے نتایج خطرناک ہوں گے جس کے وہ ذمہ دار نہیں ہوں گے۔

مکر جی صاحب کا کہنا تھا کہ یہ مرحلہ ہندوستان میں جمہوریت کے لیے کٹھن آزمائش کا ہے۔

اب یہ واضح ہے کہ لال بہادر شاستری چوبیس اگست کو اس نتیجہ پر پہنچ گئے تھے کہ کشمیر میں آپریشن جبرالٹر کے جواب میں ہندوستان کو پاکستان کے خلاف بھر پور فوجی کارروائی کرنی ہوگی جب انہوں نے لوک سبھا میں اعلان کیا کہ کشمیر میں پاکستان کے در اندازوں کو روکنے کے لیے ہندوستانی فوج جنگ بندی لائین کے پار کارروائی سے دریغ نہیں کرے گی۔

اس اعلان کے دوسرے دن لائین آف کنٹرول کے آر پار لڑائی بھڑک اٹھی۔ یکم ستمبر کا دن میں نہیں بھول سکتا۔ رائے سینا ہوسٹل میں ایسا لگتا تھا کہ سب نے ریڈیو پاکستان لاہور لگا رکھا تھاجس پر یہ اعلان ہوا کہ ’آزاد کشمیر‘ کی فوجوں نے پاکستانی فوج کی مدد سے چھمب پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس وقت ہوسٹل اور آس پاس اراکین پارلیمنٹ کے بنگلوں اور پارلیمنٹ کے اردگرد پورے علاقہ میں ایک عجب قسم کی خاموشی چھا گئی کہ سوئی بھی زمین پر گرے تو سب اس کی آواز سن لیں۔ ریڈیو پاکستان پر قومی اور فوجی نغمے نشر ہو رہے تھے۔

اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا۔ اللہ اکبر

شام کو پرانی دلی گیا۔ ترکمان گیٹ سے جامع مسجد تک تمام گلیوں میں گھروں میں پان والوں کی دکانوں پر ریستورانوں میں، کبابیوں کے ٹھیّوں پر غرض ہر جگہ ریڈیو کھلے ہوئے تھے جن پر لاہور اسٹیشن لگا ہوا تھا اور پوری فضا پاکستان کے نغموں سے گونج رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ دلی نہیں لاہور ہے۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبایئے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آصف جیلانی

آصف جیلانی لندن میں مقیم پاکستانی صحافی ہیں۔ انہوں نے اپنے صحافتی کرئیر کا آغاز امروز کراچی سے کیا۔ 1959ء سے 1965ء تک دہلی میں روزنامہ جنگ کے نمائندہ رہے۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہیں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید بھی کیا گیا۔ 1973ء سے 1983ء تک یہ روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر رہے۔ اس کے بعد بی بی سی اردو سے منسلک ہو گئے اور 2010ء تک وہاں بطور پروڈیوسر اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔ اب یہ ریٹائرمنٹ کے بعد کالم نگاری کر رہے ہیں۔ آصف جیلانی کو International Who’s Who میں یوکے میں اردو صحافت کا رہبر اول قرار دیا گیا ہے۔

asif-jilani has 35 posts and counting.See all posts by asif-jilani