حیدرآباد کی ’پورن ایکٹرس‘ اور سوشلستان کا فدائی ’لالہ‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشل میڈیا میں جھوٹی خبریں پھیلانے اور بنا تحقیق کیے ویڈیوز کو شیئرز کرنے کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے نوجوان اپنے فالواورز بڑھانے کے لئے جذباتی تقاریر کے ساتھ ویڈیو شیئرکرتے ہیں اور مدر پدری آزادی لئے کسی بھی شخص اور اداروں کے خلاف لعن طعن کا وہ گندا بازار گرم کردیتے ہیں کہ الامان الحفیظ۔ گذشتہ دنوں ایک خاتون نے سوشل میڈیا میں ویڈیو اپ لوڈ کی کہ دبئی میں کام کرنے والے ایک لڑکے نے اس کی عزت لوٹ لی ہے۔ اس کو بلیک میل کررہا ہے۔ اس کی نازیبا ویڈیو اس لڑکے نے پورن انڈسٹری کو فروخت بھی کردی ہے۔

نقاب پوش خاتون نے لسانیت، عصبیت کا سہارا بھی لیا اور معصومیت کے تمام مصالحے استعمال کردیئے جس کے بعد ہماری سوشلستان کے مجاہدین کو کون روک سکتا تھا، آناً فاناً سوشلستان کے مجاہدین نے اس خاتون کو مظلوم تصور کرتے ہوئے ویڈیو کو سوشل میڈیا میں وائرل کردیا۔ یہاں تک سوشلستان کے سپہ سالاروں نے تو اپنی ویڈیو بھی بنا کر اُس لڑکے کو دبئی سے گھسیٹ کر لانے کا اعلان کردیا۔

میری توجہ اس جانب دلائی گئی۔ میں نے اس حوالے سے تھوڑی تحقیق کی تو صورتحال کو مختلف پایا۔ ایف آئی اے نے سب سے گرم جوش فرقہ سوشل مجاہدین کے فدائی لالہ صاحب کو بلالیا کہ محترم آپ یہاں آجائیں تاکہ حقیقت سے آپ کو روشناس کرایا جاسکے۔ فرقہ سوشلستان کے ’لالہ‘ نے ایف آئی اے جانے سے قبل فیس بک میں نئی پوسٹ لگا دی کہ اصل کہانی کچھ اور ہے۔ پانچ بجے ایف آئی اے جارہا ہوں۔ اس کے بعد لائیو فیس بک پر آکر صورتحال سے آگاہ کروں گا۔

ایف آئی اے نے انہیں اور ان کے ساتھ دو مزید معزز احباب کو آگاہ کیا کہ موصوفہ ایک پیشہ ور بلیک میلر ہے اور اس سے قبل درجنوں ایف آئی آر اس کے خلاف کٹی ہوئی ہیں، نیز سوشل میڈیا میں مختلف ناموں سے لڑکوں سے تعلقات استوار کرتی ہے۔ ویڈیوز بنا کر بعد میں انہیں اور ان کے خاندان کو بلیک میل کرتی ہے۔ سوشلستان کے فدائی ’لالہ‘ نے ایف آئی اے کی جانب سے دکھائے یا بتائے گئے تمام ثبوت تسلیم کرلئے اور لالہ نے فیس بک پر معافی مانگی۔

لیکن

بات یہیں ختم نہیں ہوجاتی۔ بات تو اب شروع ہوتی ہے کہ جب ایف آئی اے کے علم میں آگیا کہ حیدرآباد لطیف آباد کی رہائشی ایک بلیک میلر اور فحش ویڈیو خود بنا کر پورن انڈسٹری کی ویب سائٹ پر لوڈ کرتی ہے تو انہوں نے ایف آئی آر کے بعد تفتیش میں لڑکے کے والد کو کیوں گرفتار کیا؟ ایف آئی آر کے بعد حتمی چالان پیش نہ ہونے تک تفتیشی افسر کو بے گناہ افراد کو جیل نہیں بھیجنا چاہیے تھا۔ لیکن یہاں ایسا ہوا۔ عدالت نے کمزور کیس کی وجہ سے اس لڑکے کے والد سمیت دو افراد کی ضمانت لے لی۔ لیکن ایف آئی اے نے پھر بھی ایف آئی آر کو ’اے‘ کلاس نہیں کیا کہ خاتون نے جھوٹا الزام لگاکر بلیک میل کیا تھا۔ پورن ویب سائٹ میں اپنی ایچ ڈی کلپ کی پرمووشن بھی خود کی تھی۔

ان حالات میں انصاف کا تقاضا یہی تھا کہ باہمی رضامندی سے جنسی اختلاط کے اس قبیح فعل میں اصل مجرم خاتون کا سمجھا جاتا کہ اُس نے اپنے جسم کی قیمت وصول کرنے کے بعد اس کا لگان بھی وصول کرنا شروع کردیا تھا۔ اب یہ عام سادہ لوح سوشلستان کے مجاہدین کو کون سمجھائے کہ غلطی کس کی ہے۔ لڑکے اور اس کے دوستوں کی؟ جنہوں نے اپنی شہوت مٹانے کے لئے بازار سے ٹھنڈا گوشت خریدا۔ اس کی قیمت دی اور پھر کئی مہینوں سے اس کا لگان ادا کرتا رہا۔

یا پھر اس خاتون کی، جس کا کاروبار ہی یہی تھا کہ ’پاؤں سے سر تک چوم لینے‘ کی قیمت لینے کے باوجود ہوس زر نے اُسے اندھا کردیا تھا۔ یا پھر ایف آئی اے کی، جنہوں نے ایف آئی آر درج کرنے کے بعد تفتیش میں لڑکے کے والد و دیگر کو گرفتار کیا۔ پھر جو ویڈیو اپلوڈ کی گئی اس کے لنک سے اصل مجرم کا پتہ نہیں لگایا، یہاں تک کہ سوشلستان کے مجاہدین نے پورن ایکٹرس کو معصومہ بنا دیا۔

لیکن بات تو یہی ہے کہ کیا یہ خاتون، مبینہ پورن ایکٹر واقعی تھی بھی کہ نہیں، یا پھر کیس کو کمزور کرنے کے لئے کوئی کہانی گھڑی گئی ہے۔ کیا واقعی میں کچھ غلط تو نہیں ہوگیا۔ اگر جھوٹ ہوتا تو ایف آئی اے کی سائبر کرائم ایف آر کیوں درج کرتے، گرفتاری کیوں کرتے، کیس ختم کرنے کے بجائے صرف ضمانت کیوں دلوائی۔ کیا اس مبینہ پورن ایکٹرس خاتو ن کو نہیں معلوم تھا کہ اُس کی ویڈیو آن لائن جانے کے بعد اس کے پچھلے تمام کیس بھی اوپن ہوجائیں گے؟ جرائم پیشہ کوئی بھی ہو وہ قانون سے پنگا نہیں لیتا وہ بھی اُس صورت میں جب کہ اس پر درجنوں ایف آئی آر پہلے بھی درج ہوں۔ لگتا ہے کہ لالہ کو تینوں زاویوں سے پھر سوچنا ہوگا۔ نئی ویڈیو بنا کر پھر سوشلستان کے فدائیوں سے خطاب کرنا ہوگا۔ کیونکہ پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •