لالہ لطیف خان سے لالہ عارف خٹک تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ غالباً 2017 کی ایک گرم دوپہر تھی میں مُلتان انٹی کرپشن میں تعینات اپنے دوست لطیف خان کے دفتر میں اُسے لینے پہنچا، لطیف خان اپنی لطیف طبیعت کے ساتھ ایک طرف درخواست گزاران کو سُنتا جا رہا تھا اور دوسری طرف ہمیں مُسلسل ”خان بس ابھی چلتے ہیں“ کا لارا لگایا ہوا تھا۔

ایسے میں چند سادہ قسم کے لوگ اگلی پارٹی کے طور پر دفتر میں داخل ہوئے، سادہ سے کپڑوں میں ملبوس چہرے مہرے سے عام سے دیہاتی نظر آنے والوں نے مقامی ایس ایچ او کے خلاف شکایات کے انبار لگا دیے۔ ایس ایچ او نے بھی کیا ظلم توڑے تھے، کتنے دن بیچاروں کو اندر رکھا اور کتنے لوگوں پر کتنے پرچے دے دیے۔ ایک ہی فیملی کے مُختلف افراد کے خلاف کئی پرچے اور اب یہ مظلوم خاندان اینٹی کرپشن کے دفتر میں انصاف کا متلاشی تھا

اُن لوگوں نے ایس ایچ او کے ظُلم کی ایسی داستان سُنائی کہ میرا خون کھول اُٹھا اور لطیف خان کو کہنے لگا یار تمہارا فرض بنتا ہے کہ ایس ایچ او کو عبرت کا نشان بنا دو یہ پولیس والے سمجھتے کیا ہیں خود کو۔ کم از کم میں آپ کی جگہ ہوتا تو ان کے لئے سخت سزا تجویز کرتا۔

لطیف خان نے میری بات سُنی ان سُنی کرتے ہوئے دوسری پارٹی کو اندر آنے کا اشارہ کیا۔

اندر داخل ہونے والا الزام الیہ ایس ایچ او ہی تھا۔ لطیف خان نے سُفید لٹھے کے سوٹ میں ملبوس ایس ایچ او پر سرد نگاہ ڈال کر سوال کیا ”جی ایس ایچ او صاحب، اتنا ظُلم بھی کرتے ہیں غریبوں پر، خُدا کا خوف نہیں آیا آپ کو، ایک ہی فیملی کے مختلف افراد پر اتنے پرچے؟“

جواب میں ایس ایچ او صاحب نے ایک فائل آگے سرکائی اور گویا ہوا، سر اس فیملی پر میں نے ہی نہیں دس اضلاع کے درجنوں ایس ایچ اوز نے پرچے دیے ہوئے ہیں، یہ بین الاضلاعی چوروں اور ڈکیتوں کا ایک گینگ ہے جو مُختلف اضلاع میں وارداتیں کرتا ہے اور کئی اضلاع کی پولیس کو مطلوب ہے۔

میں نے فائل کا مطالعہ کیا تو کھُلا کہ بظاہر بھولے بھالے دیہاتی نظر آنے والے لوگ پہنچے ہوئے وارداتیے تھے۔

پھر مجھے اپنا وہ ایس ڈی او یاد آگیا۔ باریش منظور حُسین جو پانچ وقت کا با جماعت نمازی، ہاتھ میں تسبیح، ہر وقت ذکر اذکار میں مشغول۔ میرے والد صاحب ایک دن دفتر آئے تو منظور حُسین سے بھی ملاقات ہو گئی والد صاحب کی سفید داڑھی دیکھ کر منظور نے انہیں اپنا گرویدہ کر لیا اور دنیا فانی ہے کی تسبیح سے تبلیغی جماعت کے ساتھ اکٹھے وقت لگانے کا ارادہ بھی کروا لیا۔ والد صاحب اُس کے زُہد و تقویٰ سے انتہائی متاثر میری بات مان کر نہ دیے کہ موصوف کمیشن کا ایک روپیہ بھی نہیں چھوڑتے اور ایک دفعہ تو میری شدید ڈانٹ ڈپٹ کے باوجود کسی جاننے والے کے کام میں اتنے نقص نکالے کہ اس بیچارے کو پہلے سے زیادہ کمیشن دے کر جان چھُڑوانا پڑی۔

یہ دو واقعات مُجھے یوں یاد آئے کہ کل معروف بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹیو سٹ عارف خٹک صاحب نے ایک روتی ہوئی خاتون کی ویڈیو شیئر کی جو قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر بتا رہی تھی کہ کُچھ لوگوں نے اُسے بلیک میل کیا ہے اور اس کی غیر اخلاقی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پہ ڈال کر اُسکی عزت کا جنازہ نکال دیا ہے۔ جتنا غُصہ ہمیں آیا تھا اُس سے کہیں زیادہ غُصہ یقیناً عارف خٹک صاحب کو آیا اور انہوں نے اُس بہن کو انصاف دلانے کے لئے ہر حد تک جانے کا اعلان کر دیا۔ لیکن تھوڑی سی تحقیق کی تو معاملہ ہی اُلٹ نکلا۔ عارف خٹک صاحب کے بقول وہ خاتون ایک عادی اور پیشہ ور بلیک میلر ہے جو مردوں کو اپنے جال میں پھنسا کر اُن سے رقم اینٹھتی ہے اور وہ یہ دھندہ کافی عرصے سے جاری رکھے ہوئے ہے۔

تو صاحبو! ہم نے تو حکیم لُقمان کی اِس نصیحت کو پلے باندھ لیا ہے کہ کہ اگر تمہارے سامنے ایک ایسا شخص آئے جس کہ ایک آنکھ نکلی ہوئی ہو اور ایک بازو کٹا ہوا ہو تو تم تب تک اُس کی بات کا یقین نہ کرنا جب تک دوسرے فریق کی بات نہ سُن لو، کیا معلوم اس شخص نے اُس کی دونوں آنکھیں نکال دی ہوں اور اس کے دونوں بازو کاٹ دیے ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •